آزادی صحافت کس کے لئے ؟

آزادی صحافت کس کے لئے ؟
آزادی صحافت کس کے لئے ؟

  

سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کیس میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے اگلے روز ایک تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا۔جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 1۔2 کی اکثریت سے بحریہ ٹاؤن اراضی سے متعلق کیسوں پر فیصلہ سناتے ہوئے اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کرکے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دے دیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کو اراضی کا تبادلہ خلاف قانون تھا، لہٰذا حکومت کی اراضی حکومت کو واپس کی جائے جبکہ بحریہ ٹاؤن کی اراضی بحریہ ٹاؤن کو واپس دی جائے۔

عدالت کی جانب سے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا جبکہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی گئی کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے خصوصی بینچ تشکیل دیں۔عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بحریہ ٹاؤن کے ساتھ زمین کا تبادلہ قانون کے مطابق کیا جاسکتا ہے لیکن زمین کے تبادلے کی شرائط اور قیمت عدالت کا عمل درآمد بینچ طے کرے گا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب تک سندھ حکومت زمین کا فیصلہ نہیں کرتی، الاٹی اسپیشل اکاؤنٹ میں رقم جمع کرنے کے پابند ہوں گے، اس سلسلے میں عدالت نے ایڈیشنل رجسٹرار کراچی کو اسپیشل اکاؤنٹ کھولنے کی ہدایت کردی۔فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کو کوڑیوں کے بھاؤ زمین دی گئی، اس پر عدالت درخواست کرتی ہے کہ چیف جسٹس ڈی ایچ اے کراچی کو زمین دینے کے معاملے کا ازخود نوٹس لیں۔

بحریہ ٹاؤن جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار پایا، دوسری جانب عدالت نے اپنے ایک اور فیصلے میں اسلام آباد کے قریب تخت پڑی میں جنگلات کی زمین کی از سر نو حد بندی کا حکم دیا اور کہا کہ تخت پڑی کا علاقہ 2210 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے، لہٰذا فاریسٹ ریونیو اور سروے آف پاکستان دوبارہ اس کی نشاندہی کرے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بحریہ ٹاؤن کو جنگلات کی زمین پر قبضے کا ذمہ دار قرار دیا اور مری میں جنگلات اور شاملات کی زمین پر تعمیرات غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مری میں ہاؤسنگ سوسائٹیز میں مزید تعمیرات کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے نیب کو مزید ہدایت دی گئی کہ وہ راولپنڈی میں غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملے کو دیکھے۔ فیصلہ تو طویل ہے لیکن اس کے چیدہ نکات کا اس کالم میں ذکر کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کو سننے کے لئے کراچی کے علاقہ گڈاپ کا فیض محمد گبول تو اب اس دنیا میں ہی نہیں ہے لیکن انہوں نے جواں مردی کے ساتھ بحریہ ٹاؤن کو اپنی زمین فروخت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے خلاف تمام ہتھکنڈے اختیار کئے گئے تھے ۔ ملیر کے اس وقت کے ایس ایس پی راؤ انوار نے ان کے بیٹوں کے خلاف مقدمات سے لے کر دیگر ہتھکنڈے اختیار کئے تھے ۔ راؤ انوار در اصل کسی وڈیرے کے کمدار کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ لیکن فیض محمد زمین فروخت کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے سلسلے میں گڈاپ کے علاقے میں صدیوں سے رہائش رکھنے والوں کو جس اذیت سے گزرنا پڑا تھا وہ رونگٹے کھڑے کرنے والی داستان ہے۔مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق لوگوں نے اپنی زمینیں اونے پونے داموں میں بحریہ ٹاؤن کے نام لکھ دی تھیں۔ بعض نے منہ مانگی قیمت وصول کی اور اکثر کو ان کی مرضی کی قیمت بھی نہ مل سکی۔

بحریہ ٹاؤن کا یہ منصوبہ اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے زمین الاٹ کرانے کے علاوہ منصوبے کے علاقے میں جو بھی جس کی بھی زمین موجود تھی وہ ساری خریدنے کا منصوبہ تھا۔ لب سڑک ایک مدرسے کے مہتمم پر دباؤ تھا کہ مدرسے کی زمین بھی دے دی جائے۔ ایک نجی ہوٹل کے مالک کو بھی ان کی زمین کی منہ مانگی قیمت کی پیشکش تھی لیکن لوگوں کے چندے سے زیر تعمیر مدرسے کے مہتمم کی شرائط پوری کرنا ملک ریاض ہی کیا، کسی کے بس میں نہیں تھا اس لئے مدرسے اور ہوٹل کی زمین کو منصوبے سے ہی خارج کردیا گیا۔ ہاں البتہ فیض محمد گبول کی زمین خریدنے کے لئے ایک مرحلے پر ملک ریاض خود ان سے ملاقات کے لئے پہنچے تھے۔ فیض محمد گبول کی عمر 92 سال کے قریب تھی ۔ ان کا چند ماہ قبل ہی انتقال ہوا ہے۔ ان کی زمین بحریہ ٹاؤن منصوبہ کے عین سامنے 36 ایکڑ آتی ہے۔

فیض محمد نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ ان کے وکلاء بوجوہ مقدمہ کی پیروی نہ کر سکے۔ بالآخر ملک ریاض خود فیض محمد کے گھر چل کر گئے اور بقول شخصے فیض محمد کو پیش کش کہ کہ ان کو فیملی کے لئے عالی شان محل نما ولا تعمیر کر کے دیا جائے گا اور زمین کی منہ مانگی قیمت دی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ فیض محمد گبول ملک ریاض کی بات سنتے رہے اور آخر میں ملک ریاض سے گوش گزار ہوئے ۔ ’’ ملک صاحب آپ میرے مہمان ہیں۔ آپ میرے گھر چل کر آئے ہیں آپ میرے ساتھ کھانا کھا ئیں ۔ فیض گبول نے حقے کا ایک کش لگایا اور بڑے اعتماد سے ملک ریاض سے سوال پوچھا ’’ ملک صاحب آپ کی ماں زندہ ہیں ۔ ملک ریاض نے جواب میں کہا کہ وہ فوت ہو چکی ہیں ۔ فیضو گبول نے کہا کہ اگر آپ کی ماں زندہ ہوتی تو آپ ان کو کتنے میں فروخت کرتے ۔ ملک ریاض نے جب فیض گبول کا یہ جملہ سنا تو حیران رہ گئے اور کہا گبول صاحب آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔

ماں کا کوئی مول یا قیمت نہیں ہوتی۔ فیضو گبول نے کہا ملک صاحب آپ اب سمجھے کہ ماں کی قیمت نہیں ہوتی اور یہ زمین میری ماں ہے اس کی بھی کوئی قیمت نہیں۔ جب تک میں زندہ ہوں تب تک میں اپنی ماں کو نہیں بیچوں گا‘‘۔ فیض محمد گبول اسی ضلع کا ایک شہری تھا جس نے راؤ انوار جیسے سخت دل پولس افسر، سرداروں ، رشتہ داروں ، سرکاری افسران کا سامنا کیا لیکن اپنی زمین نہیں بیچی ۔ ان کی یہ کہانی مجاہد جوکھیو نامی صاحب نے فیس بک پررکھی ہوئی ہے۔ دیگر کئی افراد نے بھی زمین کا سودا نہیں کیا تھا لیکن ان کی زمینوں پر بلڈوزر چلا کر کہا گیا تھا کہ اب اپنی زمین تلاش کر لو۔

فیض محمد گبول تو سپریم کورٹ کا فیصلہ سننے کے لئے موجود نہیں ہیں۔ جو لوگ موجود ہیں انہیں بھی فیصلہ پوری طرح پڑھنے نہیں دیا گیا۔ وہ اس طرح کہ ملک کے اکثر بڑے اخبارات نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بلیک آوٹ کیا یا یوں کہئے کہ بائی کاٹ کیا۔ کئی اخبارات نے یہ خبر ہی شائع کرنا مناسب نہیں جانا۔ ان ٹی وی چینلوں نے جو ذرا سی بات کا بتنگڑ بنانے کی مہارت رکھتے ہیں اور سپریم کورٹ کے باہر ہر خبر کے انتظار میں رہتے ہیں، بحریہ ٹاؤن کے خلاف آنے والے فیصلے کو سرے سے گھاس ہی نہیں ڈالی۔ بحریہ ٹاؤن کے بارے میں اس فیصلے کے دوررس نتائج نکلیں گے۔ لوگوں کی حقیقتا اربوں روپے کی بحریہ ٹاؤن کی کراچی، اسلام آباد، مری وغیرہ کی اسکیموں میں سرمایہ کاری ہے۔ ایسے ہزاروں افراد ہیں جنہوں نے اپنا سب کچھ فروخت کر کے کسی ’’ بہتر‘‘ آبادی میں رہائش کے لئے مکان کا خواب دیکھا تھا۔ خواب تو ملک ریاض نے بھی دیکھا اور دکھایا تھا۔ ٹی وی چینلوں پر طویل دورانیہ کی فلمیں لوگوں کو دکھائی گئی تھیں۔ ملک صاحب اس ملک کے حاتم طائی ثانی بنے ہوئے تھے۔

کروڑوں کی امداد تو وہ کوڑیوں کی طرح کیا کرتے تھے ۔ بحریہ دسترخوان لوگوں کو یا د ہیں جو بچھائے بھی گئے اور کسی اعلان کے بغیر اچانک اٹھا بھی لئے گئے تھے ۔ اس تماش گاہ میں اکثر ایسا ہوتا آیا ہے کہ لوگ اپنی جمع شدہ پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ لوگوں کو ابھی تک قلق ہے کہ سن ستر اور اسی کے عشرے میں لاہور اور کراچی کی نام نہاد فنانس کمپنیوں نے اخبا رات میں اشتہارات کے ذریعہ ان کی پونجی بہتر منافع کا خواب دکھا کر لے لی تھی۔ ایسے خواب جو ادھورے ہی رہ گئے۔ سندھ میں ضلع گھوٹکی اور دادو میں دو ٹھگوں نے پنجاب میں پیش آنے والی ڈبل شاہ کی کہانی کی بنیاد پر لوگوں سے کروڑوں روپے ٹھگ لئے، لوگ دیکھتے رہ گئے اور ٹھگ فرار ہو گئے۔ حکومت تماشہ دیکھتی رہی۔ ذرائع ابلاغ نے کسی مہم سے کنارہ کشی کی۔

سوال یہ ہے کہ بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے بحریہ ٹاؤن کے تعلق سے سپریم کوٹ کے فیصلہ کو کیوں نہیں چھاپا اور نشر کیا۔ فیصلے سے ایک روز قبل ہی ورلڈ پریس فریڈم ڈے تھا۔ کیا آزادی صحافت اسی کو کہتے ہیں کہ اخبارات کے مالکان خبروں کو سنسر کردیں۔ صحافی جو آزادی صحافت کا علم لئے پھرتے ہیں، اپنے اپنے مالکان سے آزادی صحافت کی تشریح تو حاصل کریں۔ کیا آزادی صحافت کی جد وجہد میں صرف صحافیوں کو ہی ایندھن بننا چاہئے۔ آزادی صحافت کا تو تقاضہ ہوتا ہے کہ صداقت پر مبنی جو بھی خبر ہو اسے شائع یا نشر ہونا چاہئے۔ اس خبر کی صداقت میں کیا کمی تھی کہ یہ تو سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا۔ جن اداروں نے اسے نہیں چھاپا اور نشر کیا، وہ ہی بتا سکتے ہیں کہ اسے شائع کرنے میں کیا قباحت تھی، کیا نقصان تھا، کیا فائدہ ہوا ۔ اگر اخبارات یہ خبر شائع کرتے اور ٹی وی چینل نشر کرتے تو کراچی ، اسلام آباد اورمری میں جن لوگوں نے سرمایہ کاری کی تھی، انہیں علم ہوجاتا اور وہ اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتے۔ مگر اس ملک میں رقمیں کب واپس ہوئی ہیں۔ ؟

مزید :

رائے -کالم -