احسن اقبال پر حملہ: یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا وقت نہیں

احسن اقبال پر حملہ: یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا وقت نہیں
احسن اقبال پر حملہ: یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا وقت نہیں

  

پتہ نہیں کس ظالم نے کہا تھاکہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، ہم نے تو سیاسی حوالے سے موت پر بھی لوگوں کو بھنگڑے ڈالتے دیکھا ہے، حالانکہ دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے، سجناں وی مر جانا ہو، والا معاملہ توہر قدم پر حقیقت بن کر کھڑا ہے، کتنا اچھا ہوا کہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی ہر طرف سے کھل کر مذمت کی گئی،نہ تو کوئی سیاسی رہنما پیچھے رہا اور نہ عسکری قیادت نے بخل سے کام لیا، یہ ایک زندہ معاشرے کی نشانی ہے، مگر اس کا کیا کریں کہ کچھ لوگ پھر بھی ایسے نکل آتے ہیں، جو اپنے خبث باطن کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ پاتے، وہ اس واقعہ کو سیاسی معانی پہنانا چاہتے ہیں، سیاست کی ذرا سی بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص اس حقیقت کو سمجھ سکتا ہے کہ ایسی باتوں سے ہمیشہ نقصان ہوتا ہے فائدہ نہیں، کوئی سیاسی سوچ رکھنے والا کبھی ایسا کر ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنے سیاسی مخالف کو جسمانی طور پر راستے سے ہٹا دے اور یہ توقع بھی رکھے کہ سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کرے گا، قاتلانہ حملہ کرنے والا نوجوان ایک گم کردہ راہ شخص بھی ہوسکتا ہے، جو اپنے اِرد گرد موجود اتنی انتہا پسندانہ آوازوں سے متاثر ہو کر یہ کام کرنے پر آمادہ ہوگیا ہو، اس کا یہ کہنا بھی ایک لغو سی بات ہے کہ اس کا تعلق تحریک لبیک سے ہے، یہ صرف اس نے ایک آڑ لی ہے، ممکن ہے وہ ذہنی طور پر مولانا خادم حسین رضوی سے متاثر ہو، لیکن یہ سوچنا کہ اسے باقاعدہ اس کام کے لئے تیار کیا گیا اور مشن کے تحت کارنر میٹنگ میں بھیجا گیا، ایک احمقانہ سی بات ہے، ایسے پلان کبھی ناکام نہیں ہوتے، یہ نہیں ہوتا کہ ہدف بچ جائے اور قاتلانہ حملہ کرنے والا پکڑا جائے۔یہ ایک اناڑی کی کارروائی تھی، جو نجانے کس ذہنی کیفیت میں تھا، اس نے جب یہ گھناؤنا قدم اٹھایا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اس واقعہ کے بعد عمومی طور پر تو اچھے الفاظ میں اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے، تاہم بعض نے اسے بھی سیاسی رنگ پہنانے کی کوشش کی ہے، جس کی میرے نزدیک قطعاً ضرورت نہیں تھی، مثلاً خواجہ آصف نے یہ کہا کہ اس کی مذمت نہ کی گئی تو سب کی باری آئے گی، یا مریم نواز کا یہ کہنا کہ جنہوں نے بدلہ لینے کا کہا تھا، ان سے پوچھ گچھ ہونی چاہئے، حملہ کرنے والا صرف ایک آلۂ کار ہے، کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ عمران خان کے بیانات سے سیاست میں تشدد کا عنصر آگیا ہے اور کوئی یہ دور کی کوڑی لا رہا ہے کہ احسن اقبال نے حالیہ دنوں میں سیاستدانوں کی عزت و تکریم کے حوالے سے جو سخت بیانات دیئے ہیں، یہ ان کا نتیجہ ہے۔ علیٰ ہذالقیاس جتنے منہ اتنی باتیں، ابھی تفتیش ہونی نہیں، حقائق سامنے آئے نہیں، کسی پر الزام لگا نہیں، مگر قیاس آرائیاں ہیں کہ شروع ہوچکی ہیں، آخر ہم اس بات پر متفق کیوں نہیں ہوجاتے کہ جرم ایک طرف ہے اور سیاست دوسری طرف ہے، ان دونوں کا کبھی ملاپ ہو ہی نہیں سکتا، کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ الیکشن ملتوی کرانے کی سازش ہے اور کسی کے نزدیک یہ مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے، جیسے 2013ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور اے این پی کو خوفزدہ کرکے الیکشن مہم چلانے سے غیر اعلانیہ روک دیا گیا تھا، اس طرح اس بار مسلم لیگ (ن) کو میدان سے باہر رکھنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے، اب آپ خدا لگتی کہئے کہ ایسی باتوں پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے یا نہیں؟ یہ حملہ تو ملک کے وزیر داخلہ پر ہوا ہے اور ان کے حلقے سے ہوا ہے، پھر پنجاب پولیس ان کی حفاظت پر مامور ہے، تین روز پہلے محکمہ داخلہ پنجاب نے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ پر یہ انتباہ بھی کردیا تھا کہ احسن اقبال پر نارووال میں حملہ ہوسکتا ہے، وہ اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کردیں۔ گویا ان کی اپنی حکومت میں انہیں سیکیورٹی خطرات لاحق ہونے کی نشاندھی کی گئی تھی، اس لئے اسے بحیثیت مجموعی مسلم لیگ (ن) کو انتخابات سے دور رکھنے کی کسی خفیہ سازش سے نہیں جوڑا جاسکتا، بلکہ اسے احسن اقبال کے خلاف کچھ بھٹکے ہوئے عناصر کا رد عمل کہا جاسکتا ہے۔

حملہ آور عابد نے پکڑے جانے کے بعد ایک فضول سی کہانی گھڑی ہے کہ اس نے ختم نبوت کے بارے میں احسن اقبال کے بیانات کی وجہ سے یہ حملہ کیا ہے، یہ خوامخواہ ہمدردیاں حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، وگرنہ احسن اقبال کے ایسے بیانات ریکارڈ پر ہیں، جن میں انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ختم نبوت کے داعی رہے ہیں، اور ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ حرمتِ رسولؐ پر حرف آنے دیں، خود خادم حسین رضوی کی طرف سے پریس ریلیز جاری کرکے نہ صرف اس واقعہ کی مذمت کی گئی ہے، بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے تحریک لبیک ایسی کسی کارروائی کی کبھی حمایت نہیں کرے گی اور نہ ہی ایسی واردات میں ملوث کسی شخص کو اپنی جماعت میں قبول کیا جائے گا، سو منظر نامہ تو بالکل واضح ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ جو لوگ اسے غلط معانی پہنانے کی کوشش کررہے ہیں، اس واقعہ کے ساتھ ساتھ ان کی بھی مذمت کی جائے، احسن اقبال پر حملے کے بعد قومی سطح پر جو ایک اتفاق رائے پیدا ہوا ہے اور جس میں ہر طبقۂ فکر نے اس کی مذمت کرکے اسے نا قابلِ قبول قرار دیا ہے، اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اس واقعہ سے کسی کو سیاسی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے، سب سے اہم ذمہ داری مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ وہ کسی ایسے خدشے کا اظہار نہ کرے جو شکوک و شبہات کو جنم دے، پہلے خلائی مخلوق کی اصطلاح استعمال کرکے نواز شریف نے ماحول کو مکدر کردیا ہے، چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے جاری کردہ بیان بالکل جائز اور بروقت ہے کہ انتخابات الیکشن کمیشن نے کرانے ہیں کوئی خفیہ مخلوق انتخابات نہیں کراسکتی، نواز شریف کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی زبان سے نکلے ہوئے لفظ بڑی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کی وجہ سے ماحول بہتر بھی ہوسکتا ہے اور بدتر بھی، وہ اپنا مؤقف ضرور پیش کریں ، مگر ایسی باتیں نہ کریں جن سے ملک کے قومی اداروں کی ساکھ پر منفی اثر پڑے۔

اگر بالفرض یہ مان لیں کہ احسن اقبال پر حملہ ایک سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ملک میں انتشار اور خوف و ہراس پھیلانا ہے، تاکہ ایک غیر معمولی صورت حال پیدا کرکے خلاف آئین فیصلوں کی راہ نکالی جاسکے، تو اس صورت میں بھی تمام سیاسی قوتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے معاملے پر تقسیم نہ ہوں۔ جس طرح آج ہر سیاسی راہنما نے احسن اقبال سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور پیش آنے والے واقعہ کو شرم ناک اور بزدلانہ فعل قرار دیا ہے، اسی طرح اس بات پر بھی مکمل اتفاق کی ضرورت ہے کہ سیاستدان بروقت آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لئے ہر قسم کے اختلافات سے بالا تر ہو کر اجتماعی فیصلے کریں گے، کسی خفیہ ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی اسے ناقد ہونے دیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خصوصاً نواز شریف کو چاہئے کہ وہ کھلے دل کا مظاہرہ کریں۔

یہ نہ سوچیں کہ انہیں سیاست سے باہر نکال دیا گیا ہے تو وہ کیوں اس نظام کو چلنے دیں، بلکہ اس کے برعکس انہیں اس کا تہیہ کرلینا چاہئے کہ وہ انتخابات کے بروقت انعقاد اور جمہوریت کے تسلسل کی خاطر ہر قربانی دیں گے۔ سیاست سے تشدد کا عنصر ختم کرنے کے لئے سیاسی قوتوں میں اتحاد و اتفاق ضروری ہے، کیونکہ یہ کھیل سیاسی قوتوں کے درمیان محاذ آرائی اور رسہ کشی کی آڑ میں کھیلا جاتا ہے، احسن اقبال کو اللہ نے نئی زندگی دی ہے۔ اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں، وہ خود بھی قومی سطح پر سیاسی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اُن کا بیانیہ مٹھی بھر قانون شکنوں کی گرفت تک رہنا چاہئے، سیاسی مخالفین ہدف نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اس نکتے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ حالات کے بگاڑ میں جلتی پر تیل کا کام دے سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -