’’ ڈیل کرنا سیکھیں‘‘

’’ ڈیل کرنا سیکھیں‘‘
’’ ڈیل کرنا سیکھیں‘‘

  

آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ڈیل کرنا سیکھیں ۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو میری تحریر کا یہ عنوان غیر اخلاقی لگ رہا ہو اور آپ کے ذہن میں عدیم ہاشمی کا یہ معروف شعر گونج رہا ہو ، ’ مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے، میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے‘، یہاں بھی لفظ مفاہمت استعمال ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ اگر میں سُرخی میں ڈیل کی بجائے مفاہمت کالفظ استعمال کرتا تو وہ زیادہ قابل قبول ہوتا۔ آپ عدیم ہاشمی کے شعر پر واہ واہ کر رہے ہیں اور میں آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ آپ ہر وقت لڑنے مرنے پر ہی تیار کیوں رہتے ہیں۔ موضوع کی طرف واپس آئیں،ڈیل کے دو ترجمے کئے جا سکتے ہیں، پہلا ایک عمومی تاثر کے ساتھ منفی ہے اور یہ ترجمہ مُک مُکا ہے اور دوسرا ایک مثبت تاثر کے ساتھ ہے جومفاہمت ہے۔ ان دونوں میں فرق غرض اور طریقہ کار کا ہے اگر آپ کی غرض منفی اور طریقہ کار تاریخی معاشرتی اور قانونی حوالوں سے قابل اعتراض ہے تو یہ مُک مُکا ہے جس کے ذریعے آپ ذاتی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر اس کا مقصد نیک اور طریقہ کار غیر متنازعہ ہے تو یہ مفاہمت ہے، یہ قابل تعریف ہے۔

بہت سارے سیاستدان جو میثاق جمہوریت کا حصہ نہیں تھے اور انہوں نے کبھی میثاق جمہوریت کی دستاویز کو پڑھنے کی بھی زحمت نہیں کی وہ اسے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان اقتدار کے حصول کے لئے مُک مُکا کہتے ہیں جبکہ میری نظر میں آئینی اور جمہوری اداروں اور روایات کے تحفظ کی خاطر ایک بہترین مفاہمت ہے۔

ڈیل کا عمومی اور لفظی مطلب سودا ہے اور سودا کچھ لو ، کچھ دو کی بنیاد پر ہی ہوتا ہے۔ جب آپ ڈیل کے لفظ پر چونکتے ہیں تو اپنے معاشرے میں بہت سارے ایسے لوگوں کو بھول جاتے ہیں جو باقاعدہ طور پر ڈیلرز کا کام کرتے ہیں۔ یہ باقاعدہ تجارت کی ایک صورت ہے اوراس کے ذریعے رزق حلال کمایا جاتا ہے، مثال کے طور پر کوئی چاول کا ڈیلر ہے تو کوئی کپاس کا، کوئی کاروں کی ڈیلری کرتا ہے اور کوئی دیگر اشیائے ضروریہ کی، یہ سب ڈیلرز آپ کو سہولت دیتے ہیں جیسے آپ کے معاشرے میں سب سے مشہور ڈیلرز پراپرٹی ڈیلرز ہیں۔ آپ کو علم نہیں ہوسکتا کہ کس علاقے میں کون سامکان کرائے یا فروخت کے لئے موجود ہے یا دوسری طرف آپ کے کسی خالی مکان، دکان یا فلیٹ کے لئے کون خواہش مند ہے، یہ ڈیلرزآپ کے لئے سہولت پیدا کرتے ہیں۔ جب آپ ایک مکان ایک کروڑ کا بیچنا چاہتے ہیں اور خریدار اس کے ستر سے اسی لاکھ دے رہا ہوتا ہے اور دونوں کے درمیان نوے لاکھ پر معاہدہ ہوجاتا ہے تو یہ ایک کامیاب ڈیل ہوتی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک کامیاب کاروباری شخصیت ہیں اورانہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس کا نام ہی ’ دا آرٹ آف ڈیل ‘ ہے۔ آپ اس کتاب کا ترجمہ روزنامہ پاکستان کی ویب سائیٹ پر پڑھ سکتے ہیں۔

آپ ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر مزید چونک اٹھے کیونکہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں اور تحریر کو مزید شک کی نگا ہ سے دیکھنے لگے ۔ ڈیل کی ضرورت اس وقت ہوتی ہے جب دو فریق ہوتے ہیں اور دونوں کے اپنے اپنے مقاصد ہوتے ہیں ۔ آپ سڑک پرجا رہے ہیں اور کسی تنگ چوک پر آپ نے اپنی گاڑی سامنے سے آنے والی گاڑی کے ساتھ پھنسا لی ہے۔ آپ کواب یہاں ایک ڈیل کی ضرورت ہے کہ کچھ پیچھے آپ جائیں اور کچھ پیچھے سامنے والی گاڑی والا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ تنگ چوک میں اتنی گنجائش پیدا ہوجائے گی کہ ایک گاڑی وہاں سے نکل جائے گی اور جیسے ہی ایک گاڑی وہاں سے نکلے گی دوسری گاڑی کے نکلنے کا راستہ بھی بن جائے گا ورنہ دونوں وقت اور توانائی ضائع کرتے رہیں گے۔ آپ زندگی میں کامیاب ہواچاہتے ہیں، آپ چاہتے ہیں کہ کوئی آپ کا راستہ روک کے کھڑا نہ ہو، آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں توسامنے والے سے ڈیل کرنا سیکھیں۔ ڈیل کرنے کا مطلب معاملہ طے کرنا بھی ہے اور اگر آپ کو معاملہ الجھانے کی بجائے سلجھانا آجائے تو آپ ایک دانا اور کامیاب انسان ہیں۔

کیا آپ میری بات کا یقین کریں گے کہ ہر ڈیل نظریات اوراصولوں پر نہیں ہوتی بلکہ وقتی طور پر معاملات پر بھی ہوتی ہے۔ چھ ہجری میں میرے آقا اور دنیا کے سب سے دانا انسان چودہ سو صحابہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ عرب روایات کے مطابق غیر مسلح افراد چاہے وہ دشمن کیوں نہ ہوں کعبہ کی زیارت کر سکتے تھے یہی وجہ تھی کہ مسلمان تقریبا غیر مسلح تھے مگر اس رواج کے خلاف دو سو کے قریب مشرکین مکہ نے حضرت خالد بن ولید ( جو بعد میں مسلمان ہوئے تھے) کی قیادت میں مکہ سے باہر حدیبیہ کے مقام پر روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہہ کو سفیر بنا کے بھیجا اور جب ان کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو رسول اکرمؐ نے اپنے صحابہ سے بیعت رضوان لی۔بطور مذہبی گروہ طاقتور ہونے اور بیعت رضوان کے بعد قربان ہونے کے لئے تیار صحابہ کی موجودگی میں جنگ کے ذریعے بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے مگر کائنات کے سب سے دانشور شخص نے اس موقعے پر صلح حدیبیہ کی جسے بعض ہمدردوں نے بھی شکست سے تعبیر کیا مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ اس کے نتائج بہترین رہے۔ کیا میں نماز کی ادائیگی کا منکر ہو سکتا ہوں، ہرگز نہیں، ابھی اسلام کی دعوت جاری تھی اور اس کے مکمل ہونے کا حکم نہیں آیا تھا کہ ایک بدو نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر اجڈ پن کے ساتھ کہا کہ وہ دن میں اتنی زیادہ نمازیں ادا نہیں کر سکتا۔ اسے اسلام کے دائرے میں داخل کرنے سے انکار نہیں کیا گیا تھا حالانکہ اس نے صرف ایک نماز پڑھنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، روایات میں آتا ہے کہ وہ صحابی پانچ وقت کے پکے نمازی ہو گئے تھے۔

میں جانتا ہوں کہ میں جو کہہ رہا ہوں اس کے اصل دماغ کے مطابق میں بھی نہیں چل پاتا مگر کوشش ضرور کرتا ہوں۔ ہمیں بہت سارے معاملات میں ایک مرتبہ مسکرا دینے کی ضرورت ہوتی ہے، کسی کی ماتھے کی تیوریوں کو نظرانداز کرنے کی بھی اور کسی کو ایک آدھ موقع دے دینے کی بھی۔میں ا یک سیاسی تجزیہ کار ہوں اورآپ کہہ سکتے ہیں کہ میں وزیر داخلہ احسن اقبال پر ہونے والے قاتلانہ حملے سے خوف زدہ ہو گیا ہوں۔ آپ کسی حد تک درست ہیں کہ میں نے یہاں لاشیں اٹھتی ہوئی دیکھی ہیں، لہو بہتے ہوئے دیکھا ہے، یقین کیجئے، مجھے صرف حالات کے جاری عمل میں میاں نواز شریف کے جیل جانے پر ہی افسوس نہیں ہو گا بلکہ ایک محب وطن شہری کے طور پر اس وقت بھی افسوس ہو گا جب مشرف دور کی طرح حکم آئے گاکہ وردی والے وردی اتار کے شہری علاقوں میں جائیں، کوئی بھی ٹرک اور جیپ اکیلے سفر نہ کرے اور جب بھی سڑک پر نکلیں تو کانوائے کی صورت میں نکلیں۔ تنگ گلی میں ایک دوسرے کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے سے سفر رک جاتا ہے اور لڑائی میں ضروری نہیں کہ دانت صرف کمزور فریق کے ہی ٹوٹیں۔

مزید :

رائے -کالم -