نیب قانون ، ججز تعیناتی ، سپریم جوڈیشل کونسل کا طریقہ کار بدلیں گے : نواز شریف

نیب قانون ، ججز تعیناتی ، سپریم جوڈیشل کونسل کا طریقہ کار بدلیں گے : نواز شریف

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل اب سب کے گرد چلے گا، نیب کو غیر موثر کرنے کیلئے وزیراعظم سے بات ہوئی تھی، میں تھوڑا تذبذب کا شکار تھا کہ کہیں ایسا نہ سمجھا جائے کہ میری ذات کے حوالے سے ہو رہا ہے تاہم میرے خلاف کیس کا فیصلہ ہونے دیں، پھر نیب قانون کو بھی دیکھیں گے،الیکشن کسی صورت ملتوی نہیں ہونے چاہئیں، انہوں نے کہا ہمیں ججز کی تعیناتی کا طریقہ کار درست کرنا ہوگا، سپریم جوڈیشل کونسل کے طریقہ کار کو بھی بدلنا ہوگا اور پارلیمنٹ کو اس حوالے سے موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔،اس ملک میں احتساب صرف سیاستدانوں اور سول سرونٹس کا ہی ہوتا ہے، لیکن اب احتساب کا عمل سب پر لاگو ہوگا اور سب کی باری آئے گی، احسن اقبال پرحملہ کو ئی معمولی واقعہ نہیں ، یہ اسی کا نتیجہ ہے جو ایک ہزار روپے بانٹ گئے تھے ۔ دھرنے کے بعد ایک ایک ہزار روپے نہ بانٹا جاتا تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی ۔ احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ احسن اقبال پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،یہ بہت ظلم اور زیادتی ہے،یہ صورتحال تشویشناک ہے ۔ صرف ہماری پارٹی کیلئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے تشویشناک صورتحال ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ یہ اسی کا نتیجہ ہے جو ایک ہزار روپے بانٹ گیا تھا ۔ دھرنے کے بعد ایک ایک ہزار روپیہ نہ بانٹا جاتا تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی۔ ا نہوں نے کہا کہ آج ہماری 62 ویں پیشی احتساب عدالت میں ہے ۔ 61 پیشیاں ہوچکی ہیں ۔ پہلے چھ ماہ گزرے پھر دو ماہ کی توسیع کروائی گئی آج وہ دو ماہ بھی پورے ہو گئے ہیں ۔ کل آٹھ ماہ ہو گئے ہیں اور اس کے بعد پتہ نہیں مزید کتنی توسیع چاہیے ہو گی ۔ میرا خیال ہے کہ کیس میں کوئی حقائق ہوتے اور جان ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی مواد ہوتا اور الزامات صحیح ہوتے تو پھر آٹھ ماہ کیس کو نہ لگتے اور آٹھ ہفتوں میں فیصلہ ہو جاتا ۔ آٹھ ماہ کے بعد بھی فیصلہ نہیں ہو پا رہا ۔ آج تک ایک بھی ایسا گواہ نہیں آیا ۔ ایک بھی ایسا کاغذ یا دستاویز نہیں جس سے وہ یہ ثابت کر سکتے کہ اس کیس میں کوئی حقیقت ہے ۔ گواہ بھی جھوٹے پڑتے رہے بشمول غیر ملکی رابرٹ ریڈلے ۔ وہ بھی الٹا ہمیں ہی تقویت پہنچا کر گیا ہے ۔ یہ اتنا کمزور کیس ہے دنیا ساری جانتی ہے بار بار ہو رہا ہے ۔ میں اپنے وکیل سے مشورہ کر رہا تھا کہ کیا وقت آ نہیں گیا کہ آپ بریت کی درخواست دیں کہ اس درخواست میں ہمیں بری ہونا چاہیے ۔ کیس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ جتنا مرضی آپ لمبا کھینچتے چلے جائیں آپ کب تک کھینچتے چلے جائیں گے ۔ کیا آپ اس وقت تک کھینچتے چلے جائیں گے جب تک کوئی چیز سامنے نہیں آتی جس سے آپ نواز شریف کو سزا دیں ۔ اگر نہیں ہے تو تسلیم کر لیں نہیں ہے، الحمد اللہ نہیں ہے ۔ یہ کوئی کرپشن ،کوئی خورد برد اور لوٹ مارکا کیس نہیں ۔ لوٹ مار کے جن کے خلاف کیسز ہیں بڑے آرام سے اپنے گھروں میں سکھ کی نیند سو رہے ہیں اور میں آج 62 ویں پیشی بھگت رہا ہوں اور انہوں نے گزشتہ پانچ ، پانچ ، دس دس سالوں میں دو دو تین تین پیشیاں بھی نہیں بھگتی ہوں گی ۔ یہ سب یکطرفہ چل رہا ہے اور آج کل معاملات کے یکطرفہ چلنے والا زمانہ نہیں ہے اس کا فیصلہ قوم بہت جلد کر دے گی ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ جو مقدمہ چل رہا ہے کیا یہ میرے لیے پیغام نہیں،ہائیکورٹ کے جج نے متعلقہ سوال پوچھے مگر ان کا جواب نہیں آیا، جسٹس قاضی فائزعیسی کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دیا گیا، یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم اس ملک کی مالک ہے مزارع نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت ہوچکا، 70 سال سے مزارع رہے اب مستقبل سنوارنا چاہیے، عوام کو احساس ہوچکا ہے کہ وہ مالک ہیں، اب فیصلہ بھی قوم کا ہوگا جب کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا۔ نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف جو کیسز بنے ہوئے ہیں ان کا فیصلہ ہی نہیں ابھی ہورہا اور وہ بڑے بڑے عرصہ سے چل رہے ہیں کیا فیصلہ ہوا ۔ ان کا بتائیں پانچ پانچ ، دس دس سال سے کیس زیر التوا ہیں ان کی پیشیاں ہی نہیں ہوتیں اور ہماری پیشی روز ہوتی ہیں ہفتے میں پانچ پانچ مرتبہ پیشیاں ہوتی ہیں ۔ میں مانسہرہ سے ہوں ۔ میں دو روز قبل رات کو صادق آباد میں 500 میل دور تھا اور صبح آٹھ بجے یہاں ہوتا ہوں میں کہتا ہوں ہمارا دامن صاف ہے۔ آپ کے پلے کچھ نہیں تو کرنا ہے آپ نے جو کر لیں۔ وہ بھی نہیں کر سکتے وہ بھی نہیں ہوتا ان سے، اب بتائیں کوئی جائے تو کدھر جائے۔ نوازشریف نے کہا کہ ان کو کیس سے بری ہونے کی اتنی ہی امید ہے جتنی میڈیا کو۔ نوازشریف نے کہا کہ الیکشن کسی صورت ملتوی نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہم ہونے دینگے۔ میڈیا قوم کا جذبہ دیکھ رہا ہے۔ میڈیا زیادہ سمجھدار اور باخبر ہے۔ میں اتنا باخبر نہیں ہوں اور ہی اتنا سمجھدار ہوں، بھاگ دوڑ بھی میڈیا زیادہ کرتا ہے اور دیکھ بھال بھی رہے ہیں سب کچھ اور قوم کا موڈ بھی دیکھ رہے ہیں۔۔

نوازشریف/گفتگو

جہلم (ڈسٹرکٹ رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے قائد سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں خلوص و نیت سے خدمت کر نے والا وزیر اعظم کبھی ٹھہر نہیں سکا ٗعمران خان ہمارا مقابلہ آپ کے اوپر والوں سے ہے جہاں سے تم ڈکٹیشن لیتے ہو ٗ زر داری سے ہاتھ نہ ملانے والے کی باتیں کر نے والے عمران خان نے دل بھی ملالیا ہے ٗ عمران خان تم بزدل اور بے اصولے آدمی ہو ٗ طاقت ہے تو سامنے آ کر مقابلہ کرو تم اوپر والوں کے پیچھے کیوں چھپتے ہو ؟میرے شیر عمران خان کی چور دروازے سے انٹروی روکیں گے ٗ اب امپائر کی انگلی نہیں عوام کا انگھوٹھا چلے گا ٗووٹ کی عزت کرینگے اور کروائیں گے ٗ وعدہ کرتا ہوں جب تک پاکستان اس ایجنڈے پر چلنا شروع نہیں ہوگا میں بھی چین سے نہیں بیٹھوں گا اور آپ کو بیٹھنے نہیں دو نگا ٗ میرے جیل بھیجنے کی سر توڑ کوشش کی جارہی ہے ۔ پیر کو جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہاکہ وزیر اعظم دن رات قوم کی خدمت کرتا ہے ٗ دن رات محنت کرتا ہے ٗاندھیروں کو دور کرتا ہے ٗ بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم کر تا ہے ٗ دہشتگردی کو ختم کرتا ہے ٗ سی پیک ملک میں لے کر آتا ہے اور پاکستان کو بلندیوں کی طرف لیکر جاتا ہے اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے؟اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان کو پہلے ایٹمی قوت بناتا ہے ٗیہ سب کچھ اللہ کے فضل وکرم سے ہوتا ہے ٗ اس کے ساتھ سلوک وہ کیا جاتا ہے جو دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ہوتا ۔ نوازشریف نے کہاکہ آپ بھی گواہ ہیں کہ ہم نے پاکستان کے اندھیروں کو دور کیا ہے ٗ کیا ہے یا نہیں کیا ٗ پاکستان کے دفاع کو مضبوط کیا ہے یا نہیں کیا ٗ پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ختم کیا ہے یا نہیں ٗ کراچی کا من بحال کیا ہے یا نہیں کیا اس موقع پر جلسے کے شرکاء نے نوازشریف کے حق میں نعرے لگائے ۔ سابق وزیر اعظم نے کہاکہ سی پیک سے لوگوں کو روز گار مل رہا تھا ٗ گھروں میں روشنی کے چراغ جلنے شروع ہوگئے تھے ٗ یکا یک سپریم کورٹ کے ججوں نے نوازشریف کو مکھن سے بال کی طرح اٹھا باہر پھینک دیا ٗ کہتے ہیں تم نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی ٗ تمہارے پاس ویزا ہے ٗ اقامہ پر نوازشریف کوفارغ کر دیا گیا ٗ اس کی خدمات نہیں دیکھیں ۔ نوازشر یف نے کہاکہ ہم نے عوام کی دل و خلوص سے خدمت کی ہے ٗ کیا یہ اس کاصلہ دیاہے ۔انہوں نے کہاکہ نیب عدالت میں62ویں پیشی بھگت کر آرہا ہوں ٗ قصور میرا یہ ہے کہ بیٹے سے تنخواہ نہیں لی ٗ نوازشریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے ٗ پاکستان میں کسی قسم کی لوٹ مار کا الزام نہیں ہے ٗ لوٹ مار کر نے والے آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں ٗ لو ٹ مار کر نے والوں کے بیس بیس سال سے مقدمے درج کئے ہیں لیکن دو یا تین پیشیاں نہیں بھگتیں ٗ سارا زور نوازشریف پر لگایا جارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جہلم اور پاکستان کے عوام نوازشریف سے پیار کرتے ہیں لہذا نوازشریف کا مقدمہ دن رات چلتا ہے ٗ بڑی سر توڑ کوشش ہورہی ہے کہ نوازشریف کو کسی نہ کسی طریقے سے جیل بھجوا دیا جائے ٗ قید کر لیا جائے ٗ سزا دے دی جائے ۔ نوازشریف نے کہا کہ جہلم اورپاکستان کے عوام نوازشریف کیساتھ دل وجان سے پیار کرتے ہیں ٗنوازشریف بھی آپ پر قربان ہے ۔اس موقع پر نوازشریف نے سوال کیا کہ کیا یہ سب کچھ منظور ہے ؟انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد سے لاہور جانے کیلئے جی ٹی روڈ پر آیا تو جہلم نے میرا والہانہ استقبال کیا ہے ٗ آپ کی محبت کو کبھی بھول نہیں سکتا جو محبت آپ دے رہے ہیں میری آنکھیں یقین نہیں کررہی ہیں ٗمجھے یاد آرہا ہے کہ 9992میں آیا تھا ٗ اسی جگہ پر جلسہ ہوا تھا ٗ جہلم کے عوام کی محبت کا ثبوت اس وقت بھی ملا ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ میرا دل کرتا ہے کہ آپ سب کی اتنی خدمت کروں ٗ آپ سب نو جوانوں اور بچوں کی خدمت کروں ٗ خدمت کو عبادت سمجھ کر کروں ٗ اسی ڈگرپر چل رہا تھا ۔ نوازشریف نے کہاکہ پاکستان میں خلوص و نیت سے خدمت کر نے والا وزیر اعظم کبھی ٹھہر نہیں سکا ٗ سترسالہ تاریخ یہی بتاتی ہے ٗ جب لاہور جارہا تھا تو آپ کی آنکھوں میں دیکھا اور آپ بتا رہے تھے کہ اگلے ستر سال پچھلے ستر سالوں سے کہیں بہتر ہونگے ٗ ہم ووٹ کی عزت کرینگے اور کروائیں گے ٗ جو آج تک ووٹ کی پرچی کو پھاڑ کر پاؤں کے نیچے پھاڑتے آئے ہیں ٗہم آئندہ کسی کو اجازت نہیں دینگے کہ وہ ووٹ کی بے حرمتی کریں ۔انہوں نے کہاکہ آج یہاں پر بڑا جذبہ دیکھ رہا ہوں ٗ جہلم ایک بار پھر بتا رہا ہے کہ محترم پانچ جج صاحبان آپ کا فیصلہ منظور نہیں ہے ٗ جذبہ اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ ہم اس فیصلے کو نہیں مانتے ۔ نواز شریف نے کہاکہ پہلے نوازشریف کیخلاف کرپشن کا ثبوت لاؤ ٗ اگر لا سکتے ہو تو لاؤ ٗ ثبوت تو دور کی بات ہے الزام بھی نہیں ہے ٗ نوازشریف کو تاحیات نا اہل کر دیا اس کیس میں درخواست گزار عمران خان ہے ۔ نوازشریف نے شر کاء سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ مجھے پتہ لگ رہاہے لیکن میں آپ کو بتا دوں عمران خان صاحب تمہارے ساتھ ہمارا مقابلہ نہیں ہے ٗ تم ’’ان کا مقابلہ کرو گے ‘‘جو میرے سامنے کھڑے ہیں ٗ یہ تو نوازشریف کے شیر ہیں ٗ کبھی گیدڑ بھی شیروں کا مقابلہ کرتے ہیں ٗ یہ تو الزامات لگا کر بھاگنے والے لوگ ہیں ٗ ہمیں انہوں نے فارغ بھی کر دیا ہے ٗ جھوٹے کیس پر مجھے فارغ کر دیا ٗ مسلم لیگ نواز کی صدارت سے بھی فارغ کر دیا ٗ تا حیات نا اہل بھی کر دیا ۔ نوازشریف نے کہاکہ عمران خان یہ چور دروازے سے تمہارے انٹری روکے گے ٗ روز تم امپائر کی انگلی کی بات کرتے ہو ٗ امپائر کون ہے ؟جس کی طرف عمران خان شارہ کر تا ہے وہ امپائر کون ہے ؟ ۔ نوازشریف نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کے سے جماعت اسلامی کے صدر سراج الحق نے پوچھا کہ پیپلز پارٹی اور سنجرانی کو ووٹ کیوں دینا ہے ٗ پر ویز خٹک نے جواب دیا کہ دینا پڑے گا کیونکہ اوپر سے حکم آیا ہے ۔ سراج الحق نے پھر پوچھا سنجرانی کون ہے ؟جس پرپرویز خٹک نے جواب دیا کہ اوپر سے حکم آیا ہے ووٹ دینا پڑے گا ۔نوازشریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام بڑے خودار ہیں ٗ اس طرح کے بزدل لیڈروں کوپسند نہیں کرتے ٗ یہ بہادر لوگ ہیں؟ دوسرے روز پرویز خٹک نے آکر دوبارہ وضاحت کی کہ اوپر کا مطلب بنی گالا ہے مجھے بتائیں بنی گالا اوپر ہے یا زمین پر ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ یہ عمران خان عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ٗ آپ کے اصول کہاں گئے ؟ آپ تو بہت بے اصولے آدمی نکلے ہو ٗ آپ بزدل آدمی ہو ٗ طاقت ہے تو سامنے آ کر مقابلہ کرو ٗ اوپر والوں کے پیچھے کیوں چھپتے ہو ۔ نوازشریف نے کہاکہ عمران خان نے سینٹ میں جا کر کس کے نشان پر مہر لگائی ہے ٗ تیر پر مہر لگائی ہے ٗ کہتا تھا کہ زر داری سے کبھی ہاتھ نہیں ملا سکتا ہے تم نے دل بھی زر داری سے ملا یا ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ لاہور میں طاہر القادری کا جلسہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ناکام ہوا ہے ٗ عمران خان نے کہامیں اس جلسہ میں نہیں آؤ نگا جہاں زر دار ی آئیگا آپ نے دیکھا دونوں اس جلسہ میں آئے اور تقریر بھی کی ٗیہ کیا منافقت ہے ٗ کتنی زیادتی ہے۔ نوازشریف نے کہاکہ تم امپائر کی بات کرتے ہو ٗ اب امپائر نہیں انگلوٹھا چلے گا ۔ نوازشریف نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کا انگوٹھا لگے گا تو مسلم لیگ (ن)کامیاب ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ کے پی کے کے اندر جا کر دیکھیں ٗ کل میں مانسہرہ میں تھا ٗ لاہور سے صبح نکلا اور تین بجے مانسہرہ پہنچا ہو ں ٗ نو بجے سے لیکر دوپہر دو بجے تک نئے پاکستان میں سفر کررہا تھا برہان سے لیکر ہری پور تک موٹر وے پر گیا ٗ آگے پرانا کے پی کے اور پرانا پاکستان نظر آگیا ٗ سڑکیں ٹوٹی ہوئیں ٗ کوئی سکول کام کا نہیں ہے ٗکوئی یونیورسٹی نہیں ہے ٗ پشاور کا حال ویسا ہی ہے جیسے کراچی کا حال ہے ٗ کراچی میں دھول اور گرد اٹھتی ہے ٗ بلڈنگیں اور سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں ٗ پشاور کا بھی یہی حال ہے ٗ شہباز شریف اور نوازشریف نے لاہور ٗ پنڈی ٗ ملتان میں میٹرو بس بنائی ہے ٗ عمران خان نے کہا یہ جنگلا بس ہے ٗاب وہی جنگلا بس عمران خان پشاور میں بنا رہا ہے ٗ آپ کو شرم آنی چاہیے ٗ آپ وہی بس پانچ سالوں کے بعد بنا رہے ہیں ٗمکمل نہیں ہورہی ہے ٗ وہاں پر کرپشن کا انبار لگا ہوا ہے ٗ کہا تھا ایک ارب درخت لگاؤں گا ٗ کروڑوں اربوں خرچ ہوگئے ٗ وہاں درخت نہیں لگے ٗ وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر میں سیریں کرتے رہے ہیں ٗ سر کاری خرچ پر مفت سفر کرتے رہے ٗیہ ایمانداری کا نمونہ ہے ۔ نوازشریف نے کہاکہ پنجاب اور جہلم میں اللہ کے فضل وکرم سے ترقی ہی ترقی نظر آتی ہے ٗسندھ ٗ بلوچستان اور کے پی کے لوگوں تم بھی پنجاب میں آؤدیکھو ٗ تمہاری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ٗیہ شہبازشریف کا کمال ہے ٗ شہباز شریف نے بڑی محنت کی ہے ۔ نوازشریف نے کہا کہ جہلم آج جھوم رہا ہے ٗ میں بھی آپ کے ساتھ ساتھ جھوم رہا ہوں ۔ نوازشریف نے کہاکہ بارش میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کا کیسے شکریہ ادا کروں ۔انہوں نے کہاکہ میرے ساتھ مریم نواز نے بھی آنا تھا ٗ مریم نواز انشاء اللہ جہلم میں آئیگی ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کی بیس بیس سال عمر ہے ٗ یہ میری فوج کا ہر اول دستہ ہیں ٗ میری فوج کی ہر اول دستہ بنو گے؟ جب اسلام آباد سے جہلم آیا تو بے شمار نو جوانوں نے استقبال کیا تھا ٗ میری نظر ان کو تلاش کرتی ہیں ٗ میرے ہر اول دستے کے سپاہیوں ٗ نوازشریف قوم کیلئے ایجنڈا لیکر آیا ہے اسے عملی جامہ پہنانے کیلئے میرا ساتھ دو گے ٗ ووٹ کی عزت کرواؤ گے جس پر شرکاء نے نوازشریف کے حق میں نعرے لگائے ۔ انہوں نے کہاکہ نوازشریف جو کہہ رہا ہے اس پر لبیک کہوگے آگر ووٹ کو عزت دو گے تو دوسرے بھی ووٹ کو عزت دینگے ٗ پھر پاکستان ترقی کی بلندیوں کی طرف جائیگا ٗ ان بچوں کو ر وز گار ملے گا ٗ نو جوانوں کے گھروں میں روشنی کے چراغ جلیں گے ٗ پاکستان ترقی کریگا ٗ دنیا میں پاکستان کی عزت ہوگی ٗ پاکستان ایشین ٹائیگر بنے گا اور پاکستان کا دنیا میں نام ہوگا ٗ یہ کھیل ہم نے ختم کر نے ہیں ٗ اگلے ستر سال پچھلے ستر سال سے بہتر ہو نے چاہئیں ٗ اگر میرا ساتھ دو گے تو اس ملک کے اندر انقلاب لا سکتے ہیں ٗ انقلاب بر پا کر سکتے ہیں ٗ یہ ریفرنڈم ہوگا ٗ 2018ء کا الیکشن نہیں ریفرنڈم ہوگا ٗ جو فیصلہ ججوں نے نواز شریف کے خلاف دیا ہے آپ چاہتے ہیں کہ اس فیصلے کو بدل دیا جائے ؟ تو اس تالے کی چابی آپ کے ہاتھ میں ہے اس کا حل آپ کے ہاتھ میں ہے ٗ آپ چاہو تو ووٹ کی طاقت سے فیصلے کو ختم کر سکتے ہیں ٗ آپ ووٹ دینگے تو پارلیمنٹ میں فیصلہ ختم کر دیا جائیگا ۔انہوں نے کہاکہ میں یہاں نئی نسل کیلئے آیا ہوں ٗ نئی نسل کا درد میرے سینے میں ہے ٗ آپ سے وعدہ کرتا ہوں جب تک پاکستان اس ایجنڈے پر چلنا شروع نہیں ہوگا میں بھی چین سے نہیں بیٹھوں گا اور آپ کو بیٹھنے نہیں دو نگا ٗ ہم نے اپنے پاکستان کو تبدیل کر نا ہے ٗ پاکستان کو قائد اعظم والا پاکستان بنانا ہے ٗ ۔نوازشریف نے کہاکہ ہم بنا رہے تھے ٗ ہماری ٹانگیں کھینچی گئیں ٗ فکر مت کریں ٗ عمران خان ہمارا آپ سے مقابلہ نہیں ہے ٗ ہمارا مقابلہ آپ کے اوپر والوں سے ہے جہاں سے تم ڈکٹیشن لیتے ہو ۔ نوازشریف نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ ووٹ کی عزت کروائیں گے تو ستے خیراں ۔ نوازشریف نے کہاکہ بارش میں آپ بھیگ رہے ہیں ٗ آپ کی محبت کو سلام کر تا ہوں ۔انہوں نے کہاکہ لاڈے یہ مجمع جہلم کا ہے ٗ جلسہ بھی جہلم کا ہے ٗیہ لاہور کا جلسہ اور پشاور کا مجمع نہیں ہے ٗ جہلم کے لوگ بڑے بہادر ہیں جس کا ساتھ دیتے ہیں تو پھر زندگی بھر نہیں چھوڑ تے ۔نوازشریف نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ جس محبت سے کہہ رہے ہیں اس سے دس گنا زیادہ محبت سے کہتا ہوں

مزید :

صفحہ اول -