وزیر داخلہ پر حملہ ریاست حملہ ، سوچنا ہو گا ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے : سیاسی رہنما

وزیر داخلہ پر حملہ ریاست حملہ ، سوچنا ہو گا ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے : سیاسی ...

  

اسلام آباد (صباح نیوز) سیاسی جماعتوں کی طرف سے وزیر داخلہ پر حملہ ریاست پاکستان پر حملہ قرار دے دیا گیا جبکہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ارکان قومی اسمبلی کی حفاظت کے لیے تمام چیف سیکرٹریز اور آئی جیز پولیس کو خط لکھنے کا اعلان کر دیا انتخابات کے حوالے سے سیاسی رہنماؤں کو اضافی سیکورٹی دی جائے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملہ سازش بھی ہو سکتی ہے حملہ آور ایسے ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں جس سے بڑی خبر بنے یہ رولنگ انہوں نے پیر کو قومی ا سمبلی میں جے یو اائی کی (ف) کی رکن نعیمہ کشور کے نکتہ اعتراض پر جاری کی سپیکر نے کہا کہ پولیس اور سیکورٹی کے حوالے سے اضافی انتظامات کی ذمہ داری ہے ارکان پارلیمینٹ کی حفاظت کو یقینی بنانا میری زمہ داری ہے اداروں کو چوکنا ہونے کی ضرورت ہے سیاستدانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے چیف سیکریٹریز اور پولیس کے صوبائی سربراہان کو خطوط لکھوں گا حملہ آورایسے ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں جس سے بڑی خبر بنے دنیا بھر کے میڈیا نے وزیر داخلہ پر حملے کی خبر دی ہے واقعہ سازش بھی ہو سکتا ہے ہمارے دینی مدارس کو بدنام کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے میں اپنی زمہ داری لیتے ہوئے اس بارے میں پولیس اور سیکورٹی اداروں کو ہدایات جاری کرتا ہوں ارکان اور سیاتدانوں کی سیکورٹی کی نگرانی کی جائے انتخابات کے حوالے سے اضافی سیکورٹی دی جائے قبل ازیں پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے وزیر داخلہ احسن اقبال پر حملے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ کالعدم تنظیموں کے حق میں نعرے لگانے والوں کو نوٹس لیا جائے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما نے کہا کہ معاشرے میں برداشت ختم ہونا بڑا اہم ہے اگر پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر کالعدم تنظیموں کے حق میں نعرے لگتے رہیں گے تو صورتحال یقیناً خراب ہو گی کالعدم تنظیموں کے خلاف ایکشن لینے کی ضرورت ہے جمعیت علماء اسلام (ف) کی رکن نعیمہ کشور نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افسوسناک واقعہ ہے حملے کے لیے اس حد تک گئے ہیں اس واقعہ کو مدرسے اور مذہب سے نہیں جوڑنا چاہیے ۔جماعت اسلامی کے رکن شیر اکبر خان ایڈووکیٹ نے احسن اقبال کی صحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ واقعہ کو مذہب سے نہ جوڑا جائے وزیر داخلہ نے پارلیمینٹ میں تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے بات کی تھی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالقہار ودان نے کہا کہ احسن اقبال پر حملہ سے ریاست پاکستان پر حملہ ہوا ہے 24گھنٹوں میں تحقیقات سامنے لانی چاہیں سازش ہو سکتی ہے بی این پی کے رکن عیسٰی نورانی نے کہا کہ آج تک اس قسم کے واقعات کی تحقیقات سامنے نہیں آئیں قد آور شخصیات نشانہ بنے آج تک جمعہ خان کی نشاندہی نہیں ہوئی کہ کون تھا کس نے مارا کیوں مارا خرابی کی جڑ یہ ہے کہ یہ حقائق تک نہیں پہنچتے بلوچستان میں سیاستدانوں کو خطرات لاحق ہیں سیکورٹی ہٹا کر سیاستدانوں کو قربانی کا بکرا بنانے کے مترادف ہے جمعہ خان دندناتے پھر رہے ہیں لائسنس پر پابندی ہٹائی جائے ۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ ملکی نظام اور عوام کے تحفظ کے لیے متحد ہو جائیں ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اب تک وہ برقرار ہے اس امر کا اظہار انہوں نے پیر کو قومی اسمبلی میں کیا سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم سب وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں سوچنا ہو گا ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کو جن حالات کا سامنا کرنا پڑا وہ اب بھی ویسے حالات ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر جمہوری سوچ کو فروغ دینا ہو گا واقعہ سبق آموز ہے متحد ہو کر ملک کے نظام اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

مزید :

علاقائی -