سپریم کورٹ ، سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی 5تاریخ کو پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ ، سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی 5تاریخ ...

  

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ میں سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئے ہیں کہ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے پرکیوں نا وزیراعظم اور انکے سیکرٹری کو عدالت میں بلائیں۔عدالت نے وزارت خزانہ کے حکام کو سرکاری ملازمین کو تنخواہ کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔پیر کے روز سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پتہ چلاہے کہ سی ڈی اے کے ملازمین کو تنخواہ نہیں ملی۔جس پر سی ڈی اے کے وکیل نے جواب دیاکہ سی ڈی اے کے سرکاری ملازمین کو تنخواہ اداکردی گئی ہے،ڈیلی ویجزملازمین کو ادائیگی میں ایشو ہے۔ چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ ملازمین کو تنخواہیں بروقت ملنی چاہئیں۔سی ڈی اے کے وکیل نے موقف اپنایا کہ میٹروپولیٹن کے ملازمین میئر کے ماتحت ہیں جس پرچیف جسٹس نے جواب دیاکہ آپکا بیان ریکارڈ کرلیتے ہیں اگر آئندہ ملازمین کو تنخواہوں پر شکایت ہوئی تو چیئرمین سی ڈی اے ذمہ دارہونگے۔عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے سے بیان حلفی طلب کرلیا۔وزارت خزانہ کے حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہمارا کام فنڈز کی فراہمی کرناہے۔جس پر چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ اس معاملے پر وزیراعظم اور انکے سیکرٹری کو بلائیںیا وزیراعظم ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا بیان حلفی جمع کرائیں۔وزارت خزانہ کے حکام نے جواب دیاکہ اداروں کے مابین خط کتابت سے ہماراکوئی تعلق نہیں،ہماری عرض ہے کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملیں۔عدالت نے ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیتے ہوئے کیس نمٹادیا۔

مزید :

علاقائی -