ایران کیساتھ جوہری معاہدہ سے دستبرداری نقصاندہ : برطانیہ

ایران کیساتھ جوہری معاہدہ سے دستبرداری نقصاندہ : برطانیہ

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) ایران کیساتھ جوہری معاہدے پر دستخط کرنیوالے سبھی ممالک امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ معاہدے سے دستبردارنہ ہو کیونکہ دوسری صورت میں ایران کے جلد جوہری طاقت بننے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے امریکہ کیساتھ مل کر جولائی 2015 ء میں ایران کیساتھ جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ ’’مشترکہ جامع لائحہ عمل‘‘ کے نام سے ہونیوالے اس سمجھوتے کے تحت ایران نے اپنے بیشتر جوہری پروگراموں کو ختم کر کے عالمی انسپکٹروں کو معائنہ کرنے کی اجازت دیدی تھی، ان تمام ممالک کا موقف یہ ہے کہ معاہدہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کا ایک موثر ذریعہ بن رہا ہے،جس کے بدلے میں ایران پر لگائی جانیوالی تجارتی، اقتصادی اور مالیاتی پابندیوں میں مرحلہ وار ترمیم پیدا کر دی تھی۔ گزشتہ روز برطا نیہ کی وزیراعظم تھریسامے نے صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا اور اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے زور دیا وہ 12 مئی کی ڈیڈ لائن آنے پر معاہدے سے دستبردار نہ ہوں ، صدر ٹرمپ کا شروع دن سے یہ موقف ہے معاہدے میں کچھ ایسے نقائص ہیں جن کے باعث ایران کو جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے سے قانونی طور پر مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس دوران برطانوی وزیر خارجہ اتوار کو دو دن کے دو ر ے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جنھوں نے نائب صدر پنس اور قومی سلامتی کے مشیر جان پولٹن سے ملاقاتیں کی ہیں تا ہم انہوں نے صدر ٹرمپ سے فون پر بات کی ، نیویارک ٹائمز میں برطانوی وزیر خارجہ کا ایک مضمون چھپا ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے معاہدے میں یقیناًخا میا ں ہیں، ان کا کہنا ہے معاہدہ ایران کے جوہری عزائم پر ہتھکڑی کی طرح ہے اور اس کے خاتمے کا صرف ایران کو فائدہ پہنچے گا۔

برطانیہ دباؤ

مزید :

علاقائی -