مدرز ڈے اور ہم ماؤں کے عالمی دن کے ہوالے سے چند باتیں

مدرز ڈے اور ہم ماؤں کے عالمی دن کے ہوالے سے چند باتیں

  

ناصرہ عتیق

ہمارے پیارے ملک پاکستان میں مدرز ڈے مئی کے دوسرے ہفتے میں منایا جاتا ہے۔ یہ ایک درآمدی تہوار ہے اور دیگر یادگاری ایام کی طرح ہماری سماجی ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ تہوار دراصل اس معاشرے کی اختراع ہے جہاں رشتوں کے احترام کا پودا سرمایہ داری نظام کی کھاد پر پلتا ہے۔ ماں کی شخصیت کسی تعارف، تمہید اور وضاحت کی محتاج نہیں ہے۔ نال سے جدا ہونے کے بعد بھی فرد کا ماں سے تعلق فرد کی موت تک جڑا رہتا ہے۔ عورت کا یہ روپ دنیا کے ہر معاشرے میں سب سے زیادہ اہمیت، قدر اور قوت رکھتا ہے۔ ماں سے عقیدت ظاہر کرنے کے لئے صرف ایک دن مخصوص کر دینا ماں کی عظمت اور شان سے انصاف نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو عمر بھر کا ہے۔ دن رات عقیدت کے اظہار کا ہے۔ ایک بیٹا یا بیٹی صرف پھول پیش کرکے یا ایک تہنیتی کارڈ دے کر اپنے فرائض سے سبکدوش کیسے ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی کمال ہے کارپوریٹ بزنس کا۔ مختلف موضوعات اور عنوانات سے منسلک یادگاری ایام اربوں روپے کے کاروبار کو سنبھالا دیئے ہوئے ہیں۔ انسانی جذبوں کو ایسی علامتوں میں ڈھال دیا گیا ہے کہ جذبوں کی خوشبو پر کاغذی پھولوں کی باس حاوی ہو گئی ہے۔

مدرز ڈے کیا صورت اختیار کر جائے گا اس کی خالق اینا جاروس(Anna Jarvis)نے ایسا سوچا بھی نہیں ہوگا، تاہم اس دن کو کارپوریٹ بزنس کے ہاتھوں میں جاتا دیکھ کر اس نے تب شور و غوغا ضرور کیا تھا۔ اینا جاروِس امن کے لئے عملی اقدامات کرنے والی ایک امریکی خاتون تھی۔ امریکی خانہ جنگی میں اس خاتون نے دونوں اطراف کے زخمیوں کی دیکھ بھال کرکے خوب نام کمایا تھا۔ اینا جاروِس نے اپنی والدہ کی وفات کے بعد اس کا دن منایا اور ماں کی عظمت کے پیش نظر بین الاقوامی سطح پر اس دن کو یادگاری بنانے کے لئے جدوجہدشروع کی تھی۔ اس نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ مئی کے دوسرے ہفتے میں ایک دن مدرز ڈے کے لئے مختص کر دیا جائے۔ اَینا جاروِس کا کہنا تھا۔

’’ماں ایک ایسی شخصیت ہے جو دنیا میں آپ کے لئے جو کچھ کرتی ہے، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا‘‘۔

امریکی حکومت نے اس معاملے کو پہلے پہل سنجیدگی سے نہ لیا اور کہا کہ کل لوگ ’ساس کا دن‘ بھی منانے پر زور دیں گے۔ بہرحال اَینا جاروِس کی کوشش رنگ لائی اور 1911ء تک امریکہ کی سبھی ریاستوں نے مدرز ڈے کو تسلیم کر لیا۔1914ء میں امریکی صدر وُڈرووِلسن نے مئی کے دوسرے اتوار کو ایک باقاعدہ اعلان کے تحت مدرز ڈے قرار دے دیا۔ اَینا جاروِس اس دن کو کمرشل بنانے کے خلاف تھی۔ اس کا موقف تھا کہ ماں کو تحائف اور تہنیتی کارڈ پیش کرنے کے بجائے ماں سے قلبی محبت کا اظہار کرنا چاہیے۔ اَینا جاروِس کے تصور نے رفتہ رفتہ دوسرے ممالک میں اپنا اثر جمایا جہاں مقامی ثقافت نے اس تصور کو اپنے رنگ میں رنگ لیا۔

ہمارے سچے دین میں مدرز ڈے کا کوئی تصور موجود نہیں ہے تاہم مسلم معاشرے میں ماں کا رتبہ سب سے بلند ہے۔ دنیا بھر میں ماں معتبر ترین ہستی گردانی جاتی ہے۔ بدترین سماج میں بھی ماں کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ مدرز ڈے ایک علامتی یادگاری دن ہے۔ امریکی اور یورپی معاشروں میں مائیں اس دن کے انتظار میں رہتی ہیں کہ ان کی اولاد کم از کم اس دن تو ان سے اپنی محبت کا اظہار کرے گی۔ وہ مائیں جو اولڈ ہومز میں اپنے پیاروں کے انتظار میں رہتی ہیں، اس دن کتنی ہی آرزوؤں کو اپنے قلوب میں پھوٹتا ہوا محسوس کرتی ہیں اور نتیجے میں ایک محبت بھرے الفاظ لئے تہنیتی کارڈ سے نہال ہو جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے مدرز ڈے ایسے معاشرے میں اپنی افادیت ضرور رکھتا ہے۔

ہمارا معاشرہ بھی جس میں ماں کی عظمت، تقدس اور احترام مثالی تھا اب افسوس ہے کہ گہنایا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ ہماری خواتین اس بارے میں غوروفکر کریں اور ایسالائحہ عمل اختیار کریں کہ ماں کی شان اور بڑائی ایک بار پھر ہمارے معاشرے میں وہی مقام حاصل کرلے جو اس کا اصل حق ہے۔ سماج اور معاشرہ وہی جاندار ہوتا ہے جس سماج اور معاشرے میں رشتوں کا احترام بدرجہء اتم موجود ہوتا ہے۔

ہر مدرز ڈے اس بات کا ہمیں احساس دلاتا ہے کہ ہماری دعاؤں میں اس ہستی کا ذکر موجود ضرور ہونا چاہیے جو ہمیں جنم دیتی ہے اور ہمیشہ اپنی دعاؤں میں ہمیں مرکز و محور بنائے رکھتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -