ہمارے جوان شہریوں کی خاطراپنا آج اور کل قربان کر رہے ہیں

ہمارے جوان شہریوں کی خاطراپنا آج اور کل قربان کر رہے ہیں

  

لاہور سے یونس باٹھ

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس شیخوپورہ ریجن زوالفقار حمید ایک پیشہ وارانہ اور محکمہ سے متعلق جدید مہارتوں کے حامل پولیس آفیسر ہیں۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو بہتر اور موثر طریقے سے چلانے کیلئے جدت پسند خیال کئے جاتے ہیں۔ لاہور سی آراو سروس کو کھڑا کرنے اور انکو موثر طریقے سے آپریشنل کرنے کا سہرہ انہیں کے سر ہے۔ اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پولیس سروس آف پاکستان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔انکا خیال ہے کہ آئی جی سے لیکر کانسٹیبل تک تمام پولیس افسران کو محکمہ کی عزت و وقار کوہروقت ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے اور آفسران اور ماتحتان میں اعتماد کی فضاء ہونی چاہیے۔ ماتحتان کو چاہیے کہ اپنے مسائل اپنے آفسران کو بیان کریں بجائے ادھر اْدھرکی سفارشات ڈھونڈنے کے اپنے مسائل براہ راست اپنے افسران کو بتائیں اور افسران کو بھی چاہیے کے اپنے ماتحتوں کے مسائل ہر ممکن حد تک حل کریں۔ ایک ایسی فضاء ہونی چاہیے کہ پولیس ملازمین کوئی بھی غلط کام کرتے وقت یہ سوچیں کہ میرے اس عمل سے محکمہ اور میر ے افسران کی عزت پر حرف آئے گا اور ایسے کاموں سے باز رہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے کہ جب دونوں کا انسانی سطح پر ایک دوسرے سے رابطہ ہواورآفسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ روز نامہ پاکستان سے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ وہ ایک معروف قانون دان کے بیٹے اور لاہور میں پیدا ہوئے انھوں نے 21ویں کامن مین بطور اے ایس پی 1993میں محکمہ پولیس کو جوائن کیا ۔ 7مئی 1997 کو نیشنل پولیس آف اکیڈیمی اسلام آباد سے ٹریننگ حاصل کی ۔تین سال تک اسلام آباد میں ٹریننگ کا دورانیہ مکمل کر نے کے بعد 1997میں انھیں پہلی تعیناتی کے لیے سندھ بھجوایا گیا جہاں وہ پانچ ماہ تک بطور اے ایس پی بدین کام کرتے رہے۔ 1998میں انھیں موٹروے پولیس اسلام میں ڈیوٹی سونپ دی گئی جہاں کچھ عرصہ کام کر نے کے بعد1999میں انھیں سی پی او آفس لاہور ٹرانسفر کردیا گیا اور اسی سال انھیں بطور اے ایس پی حسن ابدال اٹک تعینات کیاگیا جہاں وہ تین سال تک جانفشانی سے کام کرتے رہے۔ 2001میں انھیں پرموڈ کرکے ایس پی سٹی راولپنڈی تعینات کیاگیا۔صرف دوسال بعد 2003میں انھیں بہتر کارکردگی کے پیش نظر آئی جی پو لیس پنجاب نے ایڈیشنل ایس پی سی آئی اے لاہور تعینات کر کے کئی ایک اہم ٹاسک سونپ دئیے جہاں وہ تین سال تک اپنے فرائض بخوبی سرانجام دیتے رہے اور اس دوران لاہور پولیس نے ریکارڈ کامیابیاں حاصل کر نے کے علاوہ کئی خطرناک مجرمان گروہوں کا جہاں قلعہ قمع کیا وہاں ان سے اربوں روپے لوٹی گئی رقم اور دیگر سامان بھی برآمد کر کے شہر کو امن کا گہوارہ بنایا جس پر اس وقت کے آئی جی پو لیس نے ان کی کارکر دگی سراہتے ہوئے انھیں خصوصی انعام سے نوازا۔ 2005میں انھیں ایس پی سٹی لاہور اور بعد ازاں ایس پی سٹی روالپنڈی تعینات کیا گیا۔2006میں انھیں ڈی پی او ننکانہ صاحب بعدازاں اسی سال ایس پی سی آر او لاہور جو کہ ایک نئی آسامی پیدا کی گئی تھی اس کی تکمیل کے لیے انھیں تفویض کیا گیا ۔2007اور2008کے دوران وہ سی پی او آفس میں اے آئی جی آپریشن پنجاب بھی رہے بعد ازاں انھیں اے آئی جی فنانس بھی لگایا گیا ۔مئی 2008میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور تعینات کردیا گیا جہاں وہ فروری 2011تک ایک لمبے عرصہ تک اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ اے آئی جی ویجلنس اور ایڈمن سی پی او آفس میں بھی تعینات رہے۔ 2012میں ایس ایس پی پنجاب ہائی وے پٹرولنگ ڈیرہ غازی خاں اور بعدازاں پنجاب ہائی وے پٹرولنگ ہیڈ کوارٹر بھی کچھ وقت کے لیے کام کر تے رہے ۔2013میں وہ ڈی آئی جی پر موڈ ہوئے تو انھیں فوراً سی ٹی ڈی لگادیا گیا اور پر موشن کے تھوڑے ہی عر صہ بعد انھیں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہو ر تعینات کر دیاگیااس دوران سی سی پی او لاہور کا ایڈیشنل چارج بھی کچھ عرصہ کے لیے ان کے پاس رہا۔آر پی او زوالفقار حمیدنے بتایا کہ ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے پو نے تین سال قبل 29جون 2015کو انھیں بطور ریجن پولیس آفیسرسرگودھاتعینات کیا گیا۔ جہاں پرانھوں نے چارج لیا تو علاقے میں بڑھتے ہو ئے جرائم کی شر ح کو کنٹرول کر نے پر ان کی حکمت عملی کو سراہتے ہو ئے آئی جی پو لیس نے دیگر ریجن کو بھی ان سے مشاورت کر کے انکی پالیسی کو ملحوظ خاطر رکھنے کا حکم دیا۔ سیکیورٹی کے وہاں اعلی انتظامات اور خطر نا ک گینگ کی گر فتاری پران کی خد ما ت کو سراہا گیا اور سرگودھا ریجن میں انھوں نے امن کو یقینی بنا کر دکھا یا جہاں وہ سوا دو سال تک اپنے فرائض منصبی سر انجام دیتے رہے۔۔ جس پر اب انھیں حکومت پنجاب نے تقر یباً آٹھ ماہ قبل بطور آر پی او شیخوپورہ تعینات کر رکھا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے ریجن کے تفتیشی افسران میں انوسٹی گیشن اخراجات کی مد میں آنے والی رقم میرٹ پر تقسیم کی ہیں اور شیخوپورہ پولیس کے مورال کو بلند کرنے کے لیے اچھی کار کردگی کے حامل پولیس افسران و اہلکاران میں انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھاہے۔انھوں نے بتایاکہ کسی بھی ریاست کے شہریوں کا بنیادی حق ہے کہ انہیں پرامن ماحول فراہم کیا جائے اس لئے ہر ریاست پولیس اور دیگر فورسز کی مدد سے مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف متحرک رہتی ہے اس وقت پنجاب میں امن و امان ک صورتحال دیگر صوبوں سے کہیں بہترنظر آتی ہے ہم پنجاب کا موزانہ دیگر صوبوں اور لاہور کا موازنہ کراچی، کوئٹہ یا پشاور سے کریں تو ہمیں پنجاب اور لاہور کہیں بہتر پوزیشن پر نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پنجاب میں جرائم کے خاتمے کے حوالے سے خصوصی دلچسپی لیتے ہیں اور بہتر اقدامات کر رہے ہیں جن کی بدولت جرائم میں خاطر خواہ کمی آئی ہے جب وہ کرائم کنٹرول کمیٹی کے سربراہ تھے تب بھی وہ اس حوالے سے کافی حساس تھے یہ ہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب میں اچھی شہرت کے حامل آر پی اوز اور ڈی پی اوز تعینات کرتے تھے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی سفارش نہیں سنتے وزیر اعلیٰ پنجاب کا یہ رویہ ہی ہے جس کی بدولت اچھے اور ایماندار آفیسرز کو فرنٹ لائن پر کام کرنے کا موقع ملا اور پنجاب میں جرائم کی شرح دیگر صوبوں کی نسبت کہیں کم ہو گئی پنجاب میں جرائم کے حوالے سے بات ہو تو ضروری ہے کہ ان آفیسرز کا تذکرہ کیا جائے جنہوں نے اس سلسلے میں اہم اقدامات کئے اسی طرز یہ بھی ضروری ہے کہ پنجاب کے اہم اضلاع اور خاص طور پر ان علاقوں کا جائزہ لیا جائے جنہیں ماضی میں جرائم کے حوالے سے یاد کیا جاتا تھا اور اب ان اضلاع میں مجرموں کا ٹھہرنا مشکل ہو چکاہے۔دنیا بھر میں پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قوانین کی پاسداری کے لئے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور عوام کے ساتھ بہترین رویئے کے ساتھ پیش آنے کے ساتھ قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پولیس کلچر کو تبدیل کرنے کے بلند دعوے کئے جاتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے یہ تلخ حقیقت ہے عوام کے ساتھ اچھا سلوک قانون کی بالادستی کی پاسداری کا حلف لینے والے پولیس افسران ہی یہاں پر عوام کو اپنا ملازم سمجھتے دکھائی دیتے ہیں اگر بات کی جائے پنجاب پولیس کی تو یہاں پر ڈنگ ٹپاؤ کام دکھائی دیتا ہے عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرنیوالے اکثر پولیس افسران خود ہی اختیار کے نشے میں دھت اور عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے پریشانیوں کا سبب بنے بیٹھے ہیں محکمہ پولیس کے لئے میاں شہباز شریف نے انتہائی کام کیا ہے۔ڈولفن فورس ہو ، پیرو فورس، ایلیٹ فورس، پٹرول پولیس سمیت دیگر پولیس کی بہتری کے لئے بھاری فنڈز ہوں یا ان کی بہتری کے لئے اقدامات وزیر اعلیٰ پنجاب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور عوام کے تحفظ اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہر سطح پر شریف شہریوں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔آر پی او زوالفقار حمید بتاتے ہیں کہ شیخوپورہ میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا جا تا ہے۔ یہاں خاندانی دشمنیاں، جا ئیدادوں کے جھگڑے، ڈکیتی ،راہزنی۔اغوا، اغواء برائے تاوان،بد اخلاقی،چوری اور ڈاکو نا کے جیسی وارداتیں عام ہو نے کی وجہ سے ان کے خاتمے کے لیے پو لیس کو دن رات کا م کر ناپڑتا ہے۔شہر یو ں کو ریلیف اور ان کی شکا یا ت کا ازالہ کر نے کے لیے وہ اپنے دفتر سمیت ریجن میں کھلی کچہر ی لگا تے ہیں۔گا ہے بگاہے تھا نو ں میں بھی اچا نک چھا پے ما رے جا تے ہیں۔آر پی او زوالفقار حمیدنے بتا یا کہ ہرجگہ پر کالی بھیڑیں موجود ہوتی ہیں تاہم ایسے کرپٹ و غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں و افسران پر میری کڑی نگاہ ہے پولیس کے کردار کو بہتر کرنے لے لیے ہر اہلکار کو دربار کی صورت میں خصوصی طور پر اخلاقیات پر مبنی لیکچرز دیے جاتے ہیں بلکہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کی ہدایت پر ان کے مسائل بھی حل کیے جا رہے ہیں تاکہ پولیس کا مورال بھی بلند رہے اور وہ شہریوں سے خوش اسلوبی سے پیش آسکیں سزا جزا کا عمل قائم ہے اچھے کا م کر نے والے کوتعریفی اسناد اور انعاما ت سے نوازا جا تا ہے جبکہ کر پٹ اور محکمے کی بد نا می کا با عث بننے والے کو سخت سزا دی جا تی ہے۔البتہ وہ ایک ایسی فورس کے کمانڈر ہیں جو غازیوں اور شہیدوں سے منسوب ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے پولیس کی عزت اور وقار کو اوج ثریا تک پہنچایا۔ شہادت ہم سب کی آرزو ہے۔یہی ہمارا مطلوب ہے اور یہی ہمارا مقصود ہے۔ یہی ہماری منزل ہے اور یہی ہمارا خواب ہے۔ ہم نے پولیس فورس میں شمولیت کے وقت یہ عہد کیا تھا کہ عوام کی عزت ، آبرو اور جان و مال کی حفاظت کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ پنجاب پولیس کے چودہ سو سے زائد شہدا ء پوری دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جب جب وطن نے پکارا یہ افسران ا ور جوان اپنی جانیں ہتھیلی پر لئے جرائم پیشہ افراد کے مقابلے پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوئے۔ ہمارے جذبات اور احساسات کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جس نے زخموں سے چْور اپنے بھائی ، دوست اور ساتھی کو بچانے کی کوشش کی ہو یا شہادت کی صورت میں ان کا جنازہ اٹھایا ہو۔ ہم ان شہدا کے امین ہیں جو اپنی سب سے قیمتی چیز یعنی جان ملک و ملت کے تحفظ کے لیے قربان کر چکے ہیں بلا شبہ ان قربانیوں نے ہمیں مزید مضبوط کیا ہے اور پولیس فورس کا مورال مزید بلند ہوا ہے۔آر پی او نے بتایا کہ ان کی ٹیم میں شامل بہت سے اہلکاروں نے کئی علا قوں سے لوٹی گئی رقم کے چند ہی لمحات بعد اپنی جان پر کھیل کر سفاک ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا اور ان کی جانب سے لا کھوں،کروڑوں روپے کی رشوت کی پیش کش کوانھوں نے ٹھکرا کر ایمانداری کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ایسے اہلکار حقیقی معنوں میں ہمارے ہیرو ہیں جن کو جتنا خراجِ تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہریوں کی جان ومال کا تحفظ اور امن وامان کو برقرار رکھنے والے اہلکارشیخو پورہ پولیس کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ اگر آج اس شہر میں امن وامان کی فضاء پْر امن ہے اور معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق چل رہے ہیں تو پولیس کے ان جانباز جوانوں کا بھی بنیادی کردار ہے جو دن اور رات کی تفریق کئے بغیر اس شہر کے باسیوں کی جان ومال کے تحفظ کی خاطر اپنا آج اور کل قربان کر رہے ہیں۔ آج وقت ہے کہ ہم پولیس کے ان محنتی اور راہِ حق کے شہیدوں کی خدمات اور خون کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں جنہوں نے ہمارے کل کیلئے اپنا آج قربان کیا اور جتنے شہداء نے جامِ شہادت نوش کیا آج تک تاریخ میں کبھی کسی نے پیٹھ پیچھے گولی نہیں کھائی بلکہ سینہ تان کر دشمن کامقابلہ کیا اور اگر شہریوں کی جان ومال کی خاطر جان بھی دینا پڑی تو زندگی کو ٹھوکر مار کر موت کو گلے لگا لیالیکن گلشن پر آنچ نہ آنے دی۔حالیہ چند برسوں میں عوامی تحفظ کی اولین فصیل پنجاب پولیس کو سماج دشمن عناصر اور دہشت گردوں نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔محدود وسائل اور لامحدود مسائل کے باوجودشیخوپورہ ریجن پولیس عوام الناس کی حفاظت اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لیے ہردم کوشاں نظر آتی ہے۔۔پنجاب پولیس میں شمولیت کے بعد ہم پر پہلے سے زیادہ اس ملک اور یہاں کے شہریوں کا حق ہے۔ ہماری زندگیوں کا مقصد ان شہریوں کی حفاظت ہے جن کی امیدیں ہم سے وابستہ ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ مجھے فخر ہے کہ میں ایسی فورس کاکمانڈر ہوں جس کی آبیاری میں سینکڑوں شہدا کا خون شامل ہے۔شیخوپورہ ریجن پولیس کا ایک ایک سپاہی اپنے خون کے آخری قطرے تک فرض ادا کرنے کے جذبے سے سرشار ہے اور فرض کی ادائیگی کے لئے جان قربان کر دینا اس فورس کی عظیم روایت ہے اور ماضی گواہ ہے کہ پنجاب پولیس کے جوانوں نے ہمیشہ سینے پر گولی کھائی ہے اور دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر سے لڑتے ہوئے کبھی بزدلی کا مظاہر ہ نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس سروس صرف ملازمت نہیں ہے بلکہ ہم ایک عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے اس فورس کا حصہ بنتے ہیں اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کیفرکردار پہنچانے تک یہ مشن جاری رہے گا۔

مزید :

ایڈیشن 2 -