از خود نوٹس کے مثبت اثرات مرتب

از خود نوٹس کے مثبت اثرات مرتب

  

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی طرف سے مختلف مسائل کے بارے میں از خود نوٹس لینے کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں اداروں کی کارکردگی دن بدن بہتر ہو رہی ہے مختلف پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کی طرف سے طالبعلموں کو لوٹنے کا سلسلہ عروج پر تھا اور وہ طالبعلموں کے مستقبل سے کھیل رہے تھے کے از خود نوٹس کے بعد نہ صرف ان طالبعلموں کی فیس واپس کرائی گئی بلکہ عطیات میں دی گئی رقم بھی انہیں واپس مل گئی ایک ایسا ہی حشمت میڈیکل کالج گجرات میں واقع تھا جس کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان ڈی ڈی گوجرانوالہ مفخر عدیل اور ایف آئی اے گجرات سرکل کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز علی مرزا از خود نوٹس کے بعد جلالپور جٹاں پہنچے اور تمام ریکارڈ قبضہ میں لے لیا گیا چھان بین کے بعد مذکورہ کالج کے پرنسپل سمیت چھ افراد کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا جبکہ انتظامیہ اور عہدیدار روپوش ہو گئے مذکورہ حشمت میڈیکل کالج کے طلبا نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا اور دہائی دی تھی کہ ان سے تین گنا زائد فیسیں وصول کر کے کوئی رسید بھی نہ دی گئی ہے الٹا ان سے عطیات بھی وصول کیے جاتے ہیں ایف آئی اے نے چیف جسٹس کے حکم پر طالبعلموں کے کروڑوں روپے نہ صرف واپس دلائے بلکہ ذمہ داروں کیخلاف مقدمات بھی درج کیے جس سرعت کیساتھ ایف آئی اے نے جعلی میڈیکل کالجز کیخلاف کاروائی کی ہے اسکی مثال ماضی میں نہیں ملتی مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے جعلی میڈیکل کالج قائم کرنے کی اجازت کس نے دی تھی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار عوام کے بنیادی مسائل کی طرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں جن پر حکومت کو توجہ دینا چاہیے تھی ایف آئی اے گجرات سرکل اس سے پہلے بھی لیبیا کشتی حادثہ ‘ میں از خود نوٹس میں سپریم کورٹ پیش ہو چکا ہے مگر یہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز علی مرزا کے علاوہ دیگر اسٹیک ہولڈروں کی بروقت کاروائی کی وجہ سے ہزیمت سے بچ گیا لیبیا کشتی حادثہ پیش آتے ہی ایف آئی اے گجرات سرکل نے نہ صرف گجرات کے نوجوانوں کو لیبیا بجھوانے والے انسانی اسمگلروں کو گرفتار کیا بلکہ حادثہ میں ہلاک ہونیوالے افراد کی تدفین کا بھی بندوبست کیا گیا افسران بالا نے نماز جنازہ میں شرکت کی پسماندگان کو دلاسہ دیا اور یہی نہیں بلکہ لینڈ روٹ ایجنٹوں سے انکی رقم بھی واپس دلوائی گئی اور انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا اس سے قبل تربت اور پنجگور میں بالترتیب پندرہ اور پانچ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جنہیں گجراتی لینڈ روٹ ایجنٹوں نے ایران کے راستے یورپ بجھوانے کے لیے رقم حاصل کی تھی اور وہ منزل مقصود پر پہنچنے سے قبل ہی اپنی ہی دھرتی پر بیدری کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اسسٹنٹ ڈائریکٹر سرفراز علی مرزا دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں واقعہ دیہات میں پہنچ گئے اور چھاپے مار کر انسانی اسمگلروں کی کثیر تعداد کو گرفتار کر لیا گیا اس واقعہ کا بھی سپریم کورٹ آف پاکستان نے از خود نوٹس لیا تھا مگر ایف آئی اے کی بروقت کاروائی سے وہ بچ گئے وگرنہ سپریم کورٹ جن مسائل کا از خود نوٹس لیتی ہے اس میں اسٹیک ہولڈروں کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر یوں کہا جائے کہ پے در پے دلخراش واقعات کے بعد ایف آئی اے گجرات سرکل نے جس انداز سے بروقت کاروائی کی ہے اس سے ایف آئی اے کا نام بدنام ہونے سے بچ گیا ہے یہ افسران بالا کی طرف سے بروقت کاروائی کا نتیجہ ہے قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ لیبیا کشتی حادثے کے بعد سینکڑوں لینڈ روٹ ایجنٹوں کو نہ صرف گرفتار کیا گیا ہے بلکہ کرنسی کا غیر قانونی کاروبار کرنیوالے بھی ایف آئی اے کے ہتھے چڑھ گئے اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر اداروں کی کارکردگی بہتر ہو تو نہ صرف عوام کو فوری انصاف مل سکتا ہے بلکہ قانون شکن عناصر قانون شکنی سے ہمیشہ کیلئے توبہ بھی کر سکتے ہیں ایف آئی اے ڈائریکٹر جنرل آف پاکستان‘ پنجاب کے ڈی جی ڈاکٹر عثمان ‘ گوجرانوالہ ڈویژن کے ڈی ڈی مفخر عدیل ‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر گجرات سرکل سرفراز علی مرزا کی کارکردگی نے ایف آئی اے سے وابستہ عوامی توقعات کو پورا کیا ہے تو دوسرا انہوں نے اپنی کارکردگی سے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ قوم کے ٹیکسوں سے حاصل ہونیوالی تنخواہ کو حلال کر کے کھانے کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے فرائض سے غفلت وہ ایک جرم تصور کرتے ہیں گجرات لینڈ روٹ ایجنٹوں کے علاوہ کرنسی مافیا کے حوالے سے پوری دنیا میں بدنام ہے جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے گجرات سرکل کو اپ گریڈ کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا چند یوم میں اسکا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جا رہا ہے گجرات میں ایف آئی اے سے متعلق کیسوں کی تعداد ہزاروں میں مگر عملہ نہ ہونے کے برابر ہے سپریم کورٹ کی طرف سے انسانی اسمگلروں کی گرفتاری یقینی بنانے کیلئے ایف آئی اے گجرات سرکل کو اپ گریڈ کر کے عملہ بڑھانے کا حکم دیا گیا جس کی روشنی میں ایف آئی اے حکام گجرات سرکل میں اہم تبدیلیاں لائی جائینگی گجرات سرکل اپ گریڈ ہونے سے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کے ساتھ ڈپٹی ڈائریکٹراور دیگر عملہ کو بھی تعینات کیا جائیگا جو گوجرانوالہ سرکل کی بجائے براہ راست لاہور آفس کے ماتحت کام کرینگے عوامی حلقوں کی طرف سے اس فیصلے کا بھر پور خیر مقدم کیا گیا ہے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف آئی اے سرفراز علی مرزا نے جس انداز سے بدترین حالات میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گجرات سرکل کو اپ گریڈ کرنے کے بعد بھی انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی اور وہ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے اپنے ٹیم کے ہمراہ ہمہ وقت چوکس اور مصروف عمل رہیں گے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -