بجٹ کو نہیں مانتا، گوادر، بلوچستان میں سہولیات کے فقدان پر سینیٹر کو دا بابر کا ایوان سے واک آؤٹ

بجٹ کو نہیں مانتا، گوادر، بلوچستان میں سہولیات کے فقدان پر سینیٹر کو دا بابر ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)سینیٹ نے مقبوضہ کشمیر کے نہتے، معصوم اور بے گناہ شہریوں پر بھارتی ظلم و تشد د کیخلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی فورسزکے حالیہ تشدد کا نوٹس لے،اقوام متحدہ کی قرا ر د ا د و ں کے مطابق کشمیریوں کی خواہشات کے تحت مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ پیر کو سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کی جس کی منظوری کے بعد انہوں نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا یہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں معصوم کشمیریوں کے قتل عام کی مذمت اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے وہ اس ظلم و بربریت کا نوٹس لے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کشمیر پر اقوام متحدہ اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کرے۔ قرارداد میں پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر کودا بابر نے کہاگوادر اور بلوچستان میں پینے کے پانی سمیت بنیادی سہولیات نہیں ہیں، پورے پاکستان کو سوچنا ہوگا گوادر اور بلوچستان کو بنائیں گے تو پاکستان بنے گا، بلوچستان والے ترقی کے مخالف نہیں لیکن ہمیں بھی یہ ترقی چاہیے۔ 2004ء میں گوادر کیلئے 25 ارب روپے رکھے گئے تھے، ابھی تک اس میں سے 15 ارب کی رقم نہیں ملی۔ میں اس بجٹ کو نہیں مانتا اس کیخلاف واک آؤٹ کرتا ہوں اس کیساتھ ہی وہ ایوان سے واک آؤ ٹ کرگئے۔ چیئرمین سینیٹ نے حکومت کو ہدایت کی کہ واک آؤٹ کرنیوالے رکن کو منا کر ایوان میں لائیں ، جس کے چند منٹ بعد ہی وہ ایوان میں واپس آگئے ۔بعد ازاں چیئر مین سینٹ اور اراکین نے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہو ئے کہا وزیر داخلہ پر حملہ جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے، چیف جسٹس سکیورٹی کے حوالے سے اپنے احکامات پر نظر ثانی کریں، کسی بزدل اور چھپ کر وار کرنیوالوں کو جمہوریت پر وار کی اجازت نہیں دیں گے،تمام غیر جمہوری قوتوں کیخلاف اس ایوان کو متحد ہونا چاہیے ۔ سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر راجہ ظفر الحق نے وزیر داخلہ کی صحت کے حوالے سے ایوان کو آگاہ کیا اور بتایا احسن اقبال کی طبیعت اب بہتر ہے لیکن ان کے پیٹ سے گولی پیچیدگیوں کے باعث ابھی تک نہیں نکالی جاسکی ۔ چیئرمین سینیٹ سینیٹر صادق سنجرانی ،قائد حزب اختلاف سینیٹر شیری رحمان اور دیگر سینیٹرز نے وزیر داخلہ کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی اورکہا احسن اقبال کا جمہوریت کے حوالے سے بہت کردار ہے جس کو سراہتے ہیں،وزیر داخلہ کی سکیورٹی بہتر ہونی چاہیے تھی۔ یہ الیکشن سے پہلے حملہ ماحول کو آلودہ کرنے اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ سیاسی جماعتیں ایسا نہیں ہونے دیں گی، ہم جمہوری عمل کو آگے لے کر چلیں گے، کسی بزدل اور چھپ کر وار کر نیو الوں کو جمہوریت پر وار کی اجازت نہیں دیں گے اور کسی سیاسی رہنما پر حملہ جمہوریت پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے قراردادیں پاس ہوتی ہیں پر عمل نہیں کیا جاتا۔ سینیٹر میاں رضا ربانی کہا احسن اقبال کا جمہوریت کیلئے اہم کردار رہا ہے، کچھ طاقتیں چاہتی ہیں افراتفری پیدا ہو جائے او رالیکشن ملتوی ہو جائیں ، گزشتہ الیکشن میں بھی کچھ جماعتوں کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا اس کی وجوہات پر غور کرنا چاہیے ایسا واقعہ کیوں ہوا۔ معاشرے میں انتہا پسندی اور عدم برداشت ہے، سیکیورٹی کی صورتحال بہتر ضروری ہوئی ہے لیکن ہمیں پھر بھی احتیاط کرنی چاہیے، دشمن بھی حالات کا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربا نی کی تجویز سے اتفاق کرتا ہوں ہمیں ہوش کے ناخن لینے ہونگے اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر سوچنا ، ریاستی مفادات کو دیکھنا اوورکشمیر سے متعلق خارجہ پالیسی کو بہتر بنانا ہوگا۔ بھارتی ریاستی دہشتگردی اور ظلم حد سے آگے نکل گئی ہے، بلوچستان میں کوئلے کی کان میں حادثہ افسو سناک ہے،کاکنوں کے تحفظ ،فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ میڈیا پر بھی ذمہ داری ہے نفرت پھیلانے والی تقاریر کو روکے۔سینیٹر اعظم سواتی کا کہنا تھا امید ہے احسن اقبال جمہوریت کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے،پوری قوم ملکی مفاد کیخلاف کام کرنیوالوں کیخلاف متحد ہے۔ مشتاق احمد خان ، ڈاکٹر سکندرمیندھرو اور انوار الحق کاکڑ نے بھی واقعہ کی مذمت کی۔ جہانز یب جمالدینی نے کہا یہ خطرناک سلسلے کی ابتداء ہے ہمیں روک تھام کیلئے مل کر سوچنا اور تمام غیر جمہوری قوتوں کیخلاف ایوان کو متحد ہوناہوگا، اگر وزیر داخلہ محفوظ نہیں تو ہم بھی نہیں، سیاسی حدوں کو عبور نہیں کرنا چاہیے۔ ارکان پارلیمان کی سکیورٹی کیلئے خصوصی اقدامات کرنے چاہئیں۔ گارڈز فراہم کرنے کی بجائے سکیورٹی واپس لی جارہی ہے۔ سینیٹر غوث نیازی نے کہا سیاسی کارکنوں کو اس معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ اور ملک کی ساکھ کا خیال کرنا چاہیے۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا یہ ایک وزیر یا حکومتی رکن پر نہیں پوری قوم پر حملہ ہے، یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کیخلاف ہم جدوجہد کر رہے ہیں۔ غیر ملکی انٹیلی جنس ادارے مل کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس سکیورٹی کے حوالے سے اپنے احکامات پر نظرثانی کریں، جن کو پروٹیکشن کی ضرورت ہے ان کو سکیو ر ٹی فراہم کی جائے۔ مجھے مستقبل میں دہشت گردی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا الیکشن سر پر ہیں، تمام سیاسی رہنماؤں کو اپنے حلقوں میں جانے اور مہم چلانے کا حق حاصل ہے۔ سیاسی معاملات کو ذاتی دشمنی نہیں بناناچاہیے، برداشت کا مادہ ختم ہونا قومی المیہ ہے۔ سینیٹر دلاور خان نے کہا کوئٹہ میں غریب مزدوروں کے لواحقین کی مالی مدد کی جائے۔ سینیٹر رانا مقبول احمد خان نے کہا احسن اقبال نفیس انسان ہیں۔

مزید :

صفحہ آخر -