جندول میں میڈیکل سٹور ایسوسی ایشن کا غیر معینہ مدت کیلئے احتجاج کا اعلان

جندول میں میڈیکل سٹور ایسوسی ایشن کا غیر معینہ مدت کیلئے احتجاج کا اعلان

  

جندول(نمائندہ پاکستان)سب ڈویژن جندول میں انتظامیہ ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری اپریشن اور ہیلتھ ایکٹ کے خلاف میڈیکل سٹور ایسوسی ایشن نے احتجاجاََ تمام میڈیکل سٹور اور نجی ہسپتال و لیبارٹریاں بند کر کے غیر معینہ مدت تک کیلئے احتجاج کا اعلان کر دیا ہے ۔میڈیکل سٹور بندش کی وجہ سے علاقہ میں ادویات ناپید ہو گئی ہے اور سب ڈویژن بھر کے تمام ہسپتالوں میں ادویات موجود نہ ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی یونٹوں میں بھی مریضوں کو علاج کرانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ گذشتہ روز میڈیکل سٹور ایسوسی ایشن نے ہاتھوں پر سیاح پٹیاں باندہ کر کاریز ثمرباغ میں پر امن احتجاجی دھرنہ دیا ۔دھرنہ کے شرکاء سے پیرامیڈیکل ایسوسی کے سابق ضلعی صدر سربلند خان ، اسرار الحق پاچہ ، بحرمند سید،فضل ربی ، ثمرباغ ہسپتال کے صدر عثمان و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان افراد کے حق میں نہیں جن کے پاس ڈگری اور اسناد موجود نہ ہو اور میڈیکل سٹور یا ہسپتال چلاتے ہو ۔انہوں نے کہا کہ ضلع بھر کے چالیس سے زیادہ بنیادی مراکز صحت میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں اور وہاں کے انچارج ٹکنیشن ہیں اس کے علاوہ ایمرجنسی ، اپریشن تھیٹر ، وارڈ اور دیگر یونٹس میں ٹیکنیشن سے کام لیا جاتا ہے اس لئے اگر حکومت واقعی اصول پسند ہے تو پہلے ہم سے اضافی ڈیوٹیاں لیکر سرکاری ہسپتالوں کو ڈاکٹر مہیاں کر دیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے فارم سی اور فارم بی امتحانات کے بدلہ میں طلبہ طالبات سے بیس اور تیس ہزار روپے بٹور لئے ہیں اور اب ان ہی اسناد پر اعتراض کر رہے ہیں ۔ انہوں حکومت اور چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ حالیہ اپریشن سے ٹیکنیشن حضرات کی عزت عوام کے نظر میں مجروح ہو رہی ہے اس لئے ہمارے ساتھ بیٹھ کر ہمارے جائز مطالبات تسلیم کئے جائے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت میڈیکل سٹوروں کے خلاف اپریشن بند نہیں کرتا تمام میڈیکل سٹور بند رہیں گے اور کسی قسم کے نقصان کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -