ملتان ڈویژن کے گندم خریداری ہدف میں 10لاکھ بوری کم کر دی گئی

ملتان ڈویژن کے گندم خریداری ہدف میں 10لاکھ بوری کم کر دی گئی

  

ملتان،عبدالحکیم،حاصل پور(سپیشل رپورٹر، نمائندگان) باردانہ کئے حصول کیلئے موصول ہونیوالی درخواستوں کی کمی کو جواز بناکر ملتان ڈویژن کے گندم خریداری ہدف میں 10لاکھ بوری کم کردی کسی حکومت کی گوسلو پالیسی سے تنگ کسان گندم اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے لگے جس سے آخری دانے تک کی خرایداری مہم بری طرح ناکام ہوگئی تفصیل کے مطابق گندم کے کاشتکاروں کو ایک اور دھچکا ،محکمہ خوراک نے باردانہ کے حصول کیلئے موصول ہونے والی درخواستوں کی کمی کا جواز بناتے ہوئے ملتان ڈوثیرن کے اضلاع میں گندم خریداری کے ہدف میں 10لاکھ بوری کی کمی کردی ہے جبکہ ضلع ملتان کے گند م خریداری ہدف میں 8لاکھ بوری کی کمی کی گئی ہے ۔گندم خریداری کے عمل کو مزید سست کرنے کیلئے ڈائریکٹر خوراک پنجاب کی سربراہی میں ملتان ڈویثرن کے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کا اجلاس رات گئے تک جاری تھا ۔اس ضمن میں گزشتہ شب ڈائریکٹر خوراک ملتان پنجاب آصف بلال لودھی کی سربراہی میں محکمہ خوراک ملتان ڈوثیرن کے ہونے والے خصوصی اجلاس میں ملتان ڈوثیر ن کے اضلاع میں گندم خریداری کے ہدف میں دس لاکھ بوری کی کمی کردی گئی ہے جبکہ ضلع ملتان کے گندم خریداری ہدف میں 8لاکھ بوری کی کمی کی گئی ہے ہدف میں کمی کیلئے باردانہ کے حصول میں موصول ہونے والی درخواستوں کی کمی کو جواز بنایا گیا ہے ۔جبکہ گندم خریداری عمل کومزید سست کرنے کیلئے اجلاس رات گئے جاری تھا ۔دریں اثناء محکمہ خوراک ملتان کے گندم خریداری مراکز پر حکومت کی گوسلوپالیسی سے کسان تنگ آکر اپنی گندم اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے لگے ہیں جس سے سرکارکی جانب سے آخری دانے تک کی خریداری مہم بھی بری طرح ناکام ہوگئی ہے پریشان حال کسان اپنی گندم سرکار کے مقررکردہ نرخوں سے کم پر فروخت کرکے آئندہ فصل کپاس اور دھان کی کاشت کرنے لگے ہیں مطلوبہ تعداد میں باردانہ نہ ملنے کے باعث کاشتکاروں نے گندم خریداری مراکز پر آنا چھوڑ دیا ہے جس کے باعث گندم کے سرکاری خریداری مراکز پر آڑ ھتیو ں اور بیوپاریوں کاراج قائم ہوگیا ہے جبکہ بڑے زمینداروں نے گندم اپنے گوداموں میں سٹاک کرنا شروع کردی ہے خریداری مراکز پر عملہ جان بوجھ کرتاخیری حربے استعمال کرکے کسانوں کوخریداری مراکز سے دور رکھا جارہاہے۔ اس ضمن میں ایگری فورم پاکستان نے گندم خریداری پالیسی 2018-19ء کو فلاپ قرار دیتے ہوئے صوبہ بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کردیا ہے ایگری فورم جنوبی پنجاب کے چیئر مین راو افسر علی کے مطابق ایگری فورم مذکورہ ناقص پالیسی کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ہرضلع کی سطح پر احتجاج کرے گا جبکہ احتجاجی تحریک کا دائرہ کا ر بڑھانے کیلئے دیگر کسان تنظیموں سے بھی رابطے شروع کردیئے گئے ہیں ۔عبدالحکیم سے سپیشل رپورٹر کے مطابق عبدالحکیم کے خریداری سنٹرمیں اب تک ۵ ۳ہزار ٹن گندم خریدی جا چکی ہے ،جبکہ عبدالحکیم کے گوداموں میں ابھی تک گزشتہ سالوں کی خریدی ہوئی گندم کا سٹاک پڑا ہو ہے اور تمام گودام بھرے پڑے ہیں ان گوداموں میں محکمہ خوراک کی ۲۰ ،ہزار ٹن اور پسکو کی بھی بارہ ہزار ٹن گندم پڑی ہے ، گوداموں میں جگہ نہ ہونے سے نئی گندم جو خریدی جارہی اس کو کھلے آسمان تلے ڈھیر لگا کر ا س کے اوپر ترپال ڈالی جا رہی ہے ،عبدالحکیم کے شہریوں اور کاشتکاروں نے عبدالحکیم کے گوداموں میں پڑی گزشتہ سالوں کی گندم کے نکاس کا مطالبہ کیا ہے ۔کسانوں مشتاق احمد، محمدعلی، محمداسلم، بشیر حسین، عابد حسین، محمدسلیم ، سردار احمد ، افتخار احمد ، غلام مصطفی، ذوالفقار علی ، اظہر چوہدری ، مجید احمد ودیگر نے بتایاکہ تحصیل حاصل پو رمیں گندم خرید کرنے کے لیئے پانچ سنٹر قائم کیئے گے ہیں انہوں نے بتایاکہ سنٹر انچارج اور فوڈ انسپکٹر مبینہ طور پر کسانوں کا استحصال کرر ہے ہیں ان میں 153 مراد،188 مراد، 58موڑ، حاصل پور سنٹر، قائم پور سنٹرز شامل ہیں پچاس کلو تھیلے کی بھرتی 52 کلو جبکہ بوری کی بھرتی 103 کلو سے زائد بھرتی لیتے ہیں انہوں نے بتایاکہ جو کسان اس سے کم سرکاری پالیسی کے مطابق بھرتی کروا کر لاتا ہے اور سنٹروں پرغنڈہ گردی کی جاتی ہے جبکہ سنٹروں پر موجود فوڈ انسپکٹرز ٹاؤٹ مافیا کے ذریعے مک مکا کر کے گندم کو لوڈ ان لوڈ کرواتے ہیں اور اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اگر ان کو حصہ نہ دیا جائے تو بات ہی نہیں سنی جاتی کسانوں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمدشہباز شریف، ڈی سی او بہاولپور سے ان فوڈ انسپکٹروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -