” اگر اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا“ سپریم کورٹ نے سب کچھ واضح کردیا، ایسی بات کہہ دی کہ بڑے بڑوں کی نیندیں اڑ گئیں

” اگر اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا“ سپریم ...
” اگر اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں تو یہ کام کرنا ہی پڑے گا“ سپریم کورٹ نے سب کچھ واضح کردیا، ایسی بات کہہ دی کہ بڑے بڑوں کی نیندیں اڑ گئیں

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل خان نے کرپشن کے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر اثاثے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ ہوں تو اثاثے رکھنے والے کو وضاحت دینا ہوگی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں فل بینچ نے کرپشن کے مقدمات میں ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کی تو پہلے کیس میں ملزم کے وکیل افتخارگیلانی نے کہا ان کے موکل پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے۔نیب کے وکیل نے بتایا کہ ملزم کے ایک سال میں3 پرائز بانڈز نکل آئے لیکن اگر پرائز بانڈزکی انعامی رقم بھی ان کے اثاثوں سے نکال دیں پھر بھی ان کی آمدن اور اثاثے آپس میں مطابقت نہیں رکھتے۔

دوسرے کیس میں صفا گولڈ مال کے مالک کے وکیل وسیم سجاد نے بتایا کہ ان کے موکل پر صرف زیادہ منزلیں بنانے کا الزام ہے، زیادہ منزلیں بنانے سے سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچا۔نیب کے وکیل نے بتایا ملزم نے پہلے بلڈنگ بنائی اور اس کے بعد منظوری کیلیے سی ڈی اے سے رجوع کیا۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں بلڈنگزکو ریگولرائز کرنے کیلیے اب تک4 ایمنسٹی سکیمیں آچکی ہیں، ہر سال ایک ایمنسٹی سکیم دی جاتی ہے جس سے کراچی شہرکا ستیا ناس ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں فل بنچ نے سرکاری ملازمین کو تنخواہوںکی ادائیگی کا سرٹیفکیٹ ہر ماہ کی5 تاریخ کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ فاضل بنچ نے ہائیکورٹ کے سابق ایڈیشنل جج کو مراعات دینے کی درخواست خارج کر دی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -