عدالت اصغرخان کیس کا فیصلہ دے چکی،اب عملدرآمد ہونالازمی ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار

عدالت اصغرخان کیس کا فیصلہ دے چکی،اب عملدرآمد ہونالازمی ہے،چیف جسٹس ثاقب ...
عدالت اصغرخان کیس کا فیصلہ دے چکی،اب عملدرآمد ہونالازمی ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اصغرخان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے ،اسد درانی اور مرزا اسلم بیگ کی نظرثانی کی درخواستیں خارج کی جا چکی ہیں اب عدالتی فیصلے پر من و عن عمل ہونا لازمی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے اصغرخان کیس کی سماعت کی،اٹارنی جنرل اشتراوصاف اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے، دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسددرانی اور اسلم بیگ نے شواہد فراہم نہیں کئے،فیصلے میں شامل ناموں کےخلاف انکوائری شروع کردی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ عدالت اصغر خان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے ،اب عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرنا ہے ،یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت نے تاحال کوئی اقدام نہیں کیا،ایف آئی اے نے تحقیقات شروع کی لیکن روک دی گئی ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ایف آئی اے کو انکوائریاں مکمل ہونے کا کہہ دیتے ہیں اورایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لیتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجداری ٹرائل ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ہو گا،اصغرخان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ

اسددرانی اور مرزا اسلم بیگ کےخلاف ایکشن اور دیگر کیخلاف تحقیقات ہو ںگی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ معاملہ ایف آئی اے میں جانا ہے یا نیب میں ؟یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -