اصغرخان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان

اصغرخان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان
اصغرخان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں،چیف جسٹس آف پاکستان

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان میں اصغرخان کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ ہم اصغر خان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں، وفاقی حکومت اصغرخان کیس پر عملدرآمد کرے،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت کابینہ کا اجلاس طلب کرے اور اجلاس میں اصغرخان کیس پیش کرے،پھرحکومت فیصلہ کرے ان کےخلاف کیا کارروائی کرنی ہے؟۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں بنچ نے اصغر خان کیس کی سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کیلئے وفاقی حکومت نے کیا اقدامات کئے؟،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آرمی ایکٹ میں سابق فوجی کیخلاف کارروائی کی شق نہ ہو تو پھر کن اقدامات کے تحت کارروائی ہوتی ہے ،اس پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں سابق فوجی کیخلاف کارروائی کی شق نہ ہوتواوراقدامات کے تحت کارروائی ہوتی ہے ۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور ایف آئی اے اصغر خان فیصلے کی روشنی میں ایکشن لے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم اصغر خان کیس عملدرآمد کا معاملہ حکومت پر چھوڑتے ہیں، وفاقی حکومت اصغرخان کیس پر عملدرآمد کرے اورکابینہ کا اجلاس طلب کرے،

چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت کابینہ اجلاس میں اصغرخان کیس پیش کرے،حکومت فیصلہ کرے ان کےخلاف کیا کارروائی کرنی ہے؟۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سر! دوہفتے کا وقت دے دیں،چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں،ایک ہفتہ ملے گا کابینہ کا خصوصی اجلاس بلالیں۔عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -علاقائی -اسلام آباد -