فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر422

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر422
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر422

  

ان حالات سے تنگ آ کر ہم نے کاردار بھائی سے کہا کہ ان پری نما چہروں سے جلدی چھٹکارا حاصل کرو۔جس کا کام نہ ہو اسے واپس لاہور بھیج دو۔آخر پشاور کو نسا دور ہے جس روز شوٹنگ ہو فلائٹ کے ذریعے بلا لوتا کہ شام کو اپنے گھر لوٹ جائیں ۔شکر ہے کہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی ۔میں نے بیشتر کو وہاں سے روانہ کر کے سکھ کی سانس لی۔

فلم کی شوٹنگ ہوتی رہی اور ہم صبح شام ہوائی اڈے سے لے کر آتے جاتے رہے۔ایک دفعہ ہم کسی پری نما چہرے کو ہوائی اڈا سے لے کر آ رہے دیکھا کہ ہماری بیگم پیدل جا رہی ہے ۔ہم نے گاڑی روک کر ساتھ بیٹھنے کو کہا تھا تو اس نے منہ بنا کر اور تیز تیز چلنا شروع کر دیا ۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر421 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک صبح صاعقہ کی آمد تھی ،باقی تمام عملہ موقع واردات پر پہنچ چکا تھا ۔ہمیں اسے ہوائی اڈے سے سیدھے پہنچانا تھا ۔سین کچھ اس طرح تھا کہ پشاور کے ایک پرانے مکان کی چھت پر صاعقہ اور روزینہ کھڑی ہیں ،اوپر سے فضائیہ کے تین طیارے گزرتے ہیں جنہیں دیکھ کر یہ دونوں ہاتھ ہلاتی ہیں ۔اس مقصد کے لیے تین فائٹر پشاور کے رن وے پر کھڑے تھے ۔

صاعقہ جہاز سے اتری تو انہیں آگے بڑھ کر کار کی طرف لے جانے لگے تو اس کی باجی بول اٹھی ’’لڑکی کی طبیعت خراب ہے جہاز میں قے کرتی رہی ہے ۔‘‘اب تو ہم جان چکے تھے کہ اس قے کا طبیعت کی خرابی سے کوئی تعلق نہیں ،پرواز کے دوران ایک آدھا جھٹکا لگے تو ایسا ہی ہو جاتا ہے۔مگر وہ کہاں ماننے والی تھیں کہنے لگیں شوٹنگ بعد میں دیکھی جائے گی پہلے لڑکی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر چلیں ۔ہم برے پھنسے۔ادھر اس کے انتظار میں شوٹنگ نہیں ہو سکتی ادھر اس کا یہ اصرار۔چا رونا چار ہم اندر گئے اور ڈاکٹر صاحب سے سرگوشی کی کہ جو مریضہ لے کر آیا ہوں اس کی طبعیت میں کوئی خرابی نہیں، بس جلدی سے تسلی کے لیے کوئی ہلکی سی دوا دے دو تا کہ شوٹنگ میں تاخیر نہ ہو ۔انہوں نے اثبات پر سر ہلا دیا اور مریضہ کو اندر لے گئے اور ہمیں باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔چلو کوئی بات نہیں ہم باہر آگئے اور انتظار کرنے لگے۔جب وہ انتظار ایک حد سے بڑھنے لگا تو ہم باہر آگئے ۔ ادھر ادھرٹہلتے رہے اور جب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو اندر دروازہ کھول کر جا دھمکے۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہ مریضہ کے بازو پر پٹی باندھے اس کا بلڈ پریشر چیک کر رہے تھے ۔ہم پر نظر پڑ ی تو باہر جانے کا اپنی آنکھوں سے حکم صادر کیا ۔ہم تو اپنا سر پکڑ کر رہ گئے ۔ہم جتنی بھی جلدی میں تھے ڈاکٹر صاحب اتنی ہی دیر کر رہے تھے ۔کوئی مزید آدھ گھنٹے کے بعد مریضہ کمرے سے باہر نمودار ہوئی ۔ہاتھ میں کوئی ایک پرچی تھی جس پر درجن بھر دوائیاں لکھی ہوئی تھیں جنہیں بنواتے بنواتے کوئی آدھ گھنٹہ اور صرف ہو جاتا ۔ہم نے اپنے معزز مہمانوں سے درخواست کی کہ شوٹنگ کے لیے چلیں ہم دوائی پھر آ کر لے جائیں گے ۔کہنے لگی پہلے دوا لیجئیے ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ میرے سامنے آ کر کھاکھانا!ہائے ڈاکٹر تیرے صدقے (ویسے یہ ڈاکٹر پانچ وقت کے نمازی کیا تہجد گزار بھی مشہور تھے)

خیر ، یہ شوٹنگ کسی طور اس روز مکمل ہو ہی گئی ۔یہ اور بات ہے کہ کاردار بار بار کٹ کا نعرہ لگاتے کیونکہ جہاز اوپر سے اتنی تیزی سے گزرتے کہ کبھی ایک لڑکی ہاتھ اٹھانے میں تاخیر کر دیتی کبھی دوسری ۔بس وائرلیس کے لیے جہازوں کو باربار کہنا پڑتا کہ ایک چکر اور لگاؤ۔اس وجہ سے اتنی دیر ہو گئی کہ صاعقہ لاہور گھر اپنے واپس نہ جا سکی ۔

اس رات بستر استراحت پر لٹانے کے بعد ہم اپنے گھر جاتے ہوئے آفیسر میس میں سے گزرے ۔رات کے کوئی 11بج رہے تھے ۔دیکھا کہ میس کے بار میں بتیاں جل رہی ہیں ۔ہمیں بڑی حیرت ہوئی کیونکہ بار تو رات 10 بجے بند کرنے کا حکم ہوتا ہے ۔ہم گاڑی روک کر اندر گئے تو وہ تینوں پائلٹ جنہوں نے لڑکیوں کے اوپر سے پرواز کی تھی وہاں اپنے غم غلط کر رہے ہیں ۔ہم دیکھتے ہی پھٹ پڑے ’’سر‘‘آپ نے مروا دیا۔ہم سے بار بار چکر لگوائے مگر وہ لڑکیاں ہمیں دکھائی تک ہی نہیں دیں۔‘‘ہم فوراََجلال میں آگئے۔

’’اچھا تو یہ بات ہے ۔‘‘ہم نے کہا ’’بار مت بند ہونے دینا ہم بھی ان کو لے کر آتے ہیں۔ ‘‘

ہم واپس ڈین ہوٹل آئے ،روزینہ اور صاعقہ کو جگا کر فوراََتیار ہونے کا حکم دیا اور انہیں جیپ میں بٹھا کر واپس آفیسر میس آگئے۔لڑکوں کی تو باچھیں نکل گئیں اور وہ خوشی سے میوزک اونچا چلا کر ڈانس کرنے لگ پڑے ۔ان میں سے ایک تو آگے چل کر ائر چیف مارشل اور فضائیہ کا سربراہ بھی بنا۔روزینہ یہ سمجھی کہ ہم ان کو کسی ذاتی غرض سے جگا کر لائے ہیں ۔وہ ہمارے برابر کاؤنٹر کے اونچے اسٹول پر بیٹھی اپنا پاؤں بڑھا کر ہماری ٹانگ ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگی ۔ہم نے فوراََڈانٹ دیا ۔اگر اسکی یہ حرکت برداشت کر لیتے تو وہ کل ہمارا حکم کیسے مانتی۔

اب کچھ مینا شوری کے بارے میں سنئیے ۔یہ محترمہ جتنے دن شوٹنگ چلتی رہی پشاور میں ہی براجمان رہیں ۔گجرات کی یہ الھڑ پہلے پہلے مینا کے نام سے فلم سکندر اعظم میں آئی اور اس کے مکھڑے کے کالے تل پر دنیا فریفتہ ہو گئی ۔بعد میں لارا لپا گرل کے نام سے مشہور ہوئی ۔مگر یہ سب باتیں اس وقت کی ہیں جب آتش جوان تھا۔اب توپلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا تھا۔ان دنوں تو اسے دیکھ کر یہی لگا کہ وہ شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہے۔بار بار اپنے اس بیتے ہوئے زمانے کو یاد کرتی ۔’’میرے گھر کے گرد راجے مہا راجے چکر لگایا کرتے تھے ‘‘اس کا تکیہ کلام بن چکا تھا ۔اس کا دل بہلانا بھی ہمارے ہی فرائض میں شامل ہو گیا اور جب اسے یہ پتہ چلا کہ اس کا پہلا میا ں ظہور راجا ہمارا دوست رہا ہے تو وہ ہم سے اوربھی زیادہ ہمدردیاں طلب کرنے لگی ۔ویسے کاردار نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ مینا کو ہر روز ایک شراب کی بوتل مہیا کر دی جائے۔

چلتے چلتے ظہور راجا کے بارے میں بھی سن لیجئیے ۔یہ نوجوان پنڈی کا رہنے والا تھا اور ایک دن گھر سے فرار ہو کر بمبئی کے فلمستان پہنچ گئے۔اس کے باپ تھانے دار تھے جب انہیں پتہ لگا کہ اس فلم میں ظہور راجا بھی ہیں تواس کی بہنیں اپنے بھائی کو دیکھنے کے لیے تڑپ اٹھیں ۔اس زمانے میں آج کی طرح لڑکیاں منہ اٹھائے سینما کی طرف نہیں نکل جاتی تھیں ۔انہوں نے اپنی والدہ کو اپنے ساتھ ملایا ۔وہ بھی اپنے لخت جگر کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہو گئیں مگر پھر وہی ڈر ۔بڑے راجا صاحب سے فلم دیکھنے کی اجازت کیسے لی جائے؟ایک دن انہیں اچھے موڈ میں دیکھ کر نہ صرف فلم دیکھنے کی اجازت مل گئی بلکہ وہ خود بھی ساتھ چلنے پر آمادہ ہو گئے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر423 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -