شکار۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 2

شکار۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 2
شکار۔ شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 2

  

شاہ پسند کی شکار گاہ میں شکار ممنوع تھا ..... ایران میں ہر جگہ شکار ممنوع تھا ..... اس لئے کہ قابل شکار جانوروں کی کمی تھی ..... پھر حکومت کو عوام کا ہتھیار بند ہونا ہر گز گورا نہیں تھا ..... بندوق خریدنے کے لیے لائسنس لینا ہوتا تھا ..... اس زمانے میں ایران میں ساوک (SAVAK)کا زور تھا ..... لائسنس کی درخواست دینے والا اتنی گہری اور شدید تفتیش و تحقیق کا شکار ہوتا کہ توبہ بھلی ..... تہران میں خیابان فردوسی پر بندوں فروشی کی دو دکانیں تھیں ..... ان کے پاس صرف شاٹ گن ہوتی تھی ..... رائفلیں میرے دس سالہ قیام میں کبھی نظر نہیں آئیں ..... ان بندوقوں کی قیمت بھی اتنی زیادہ تھی کہ کم لوگ خرید سکتے تھے ..... لیکن لائسنس مل جاتے تھے ..... اور لوگ خریدتے ہی تھے تب ہی دوکانیں قائم تھیں .....

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... پہلی قسط  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مجھے حکومت کی خصوصی اجازت کے تحت دو رائفلیں اور ایک شاٹ گن رکھنے کی اجازت تھی اور بہ آسانی لائسنس مل گئے تھے ..... ریوالور بھی اسلحہ فروشوں کی دوکان پر نہیں ملتے تھے ..... 

حیرت کی بات یہ ہے کہ جب ایران میں انقلاب آیا ..... اور ساوک ایرانی فوج اور پولیس کا قلع قمع ہوا تو لوگوں کے پاس اس کثرت سے اسلحہ نکلا کہ ہر جوان شخص ریوالور ..... آٹو میٹک رائفل اور ملٹری کی رائفلیں لئے پھرتا تھا ..... 

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ شہنشاہ ایران نے جو زبردست فوج تیار کی تھی جسے جدید ترین اسلحہ سے لیس کر دیا تھا..... وہ اسقدر بزدل اور نمک حرام ثابت ہوئی کہ سب ہی راتوں کے اندھیرے میں اپنی وردیاں اتار کر چھاؤنیوں کو اللہ کے سپرد کر کے بھاگ گئے ..... روپوش ہوگئے ..... صرف چند ایسے وفادار تھے جو اپنی اپنی جگہ موجود رہے اور بالآخر ان میں سے اکثر نے جان گنوائی ..... ان کے منصب کا تقاضا ہی وہی تھا ..... 

میرے ایک دوست شاہ صاحب پادگان جمشید یہ کے قریب ہی رہتے تھے ..... انقلاب کے دنوں میں ان کے دروازے پر کسی نے رات کے وقت گھنٹی بجائی ..... نیچے آکے دروازہ کھولا تو ایک ایرانی صرف انڈروئیر پہنے ننگ دھڑنگ کھڑا تھا ..... 

’’حالت خوب اے آغا ..... ؟ ‘‘ (تم اچھے تو ہو ؟ ) انھوں نے پوچھا 

’’خوب .....آغا ..... می شئے ایک شلوار و پیراہن بدہید ..... قربانت بریم ..... ‘‘

’’چرائخت شدی ..... ؟‘‘ (ننگے کیوں ہو؟ )

’’ارتشی ام ..... ازپادگان فرار کردم .....‘‘ (فوجی ہوں چھاؤنی سے فرار ہوا ہوں ) 

ان فوجیوں کے فرار کے ساتھ ہی چھاؤنیوں پر ’’مجاہدین خلق‘‘ نے قبضہ کر لیا ..... شہنشاہ نے فوجی تربیت لازمی قرار دے کر سارے ایرانیوں کو اسلحہ کا استعمال ‘ ٹینک اور توپوں کا استعمال سب سکھا ہی دیا تھا ..... اب جوان کے قبضے میں سب کچھ آگیا تو ان کو استعمال کے طریقے سیکھنے کی ضرورت بھی نہیں رہی جس کے ہاتھ جو ہتھیار لگا اس نے اس پر قبضہ کیا ..... اور شاہ کے جمع کئے ہوئے اسلحہ کو جس پر مرحوم نے اربوں ڈالر خرچ کر دیے تھے چند ہی دن میں غارت کر دیا گیا ..... اس طرح گویا شاہ کی اپنی اسکیم ان کے خلاف محاذ آرائی کے لئے کار آمد ثابت ہوئی ..... جو اسلحہ انھوں نے کشور کشائی کے ارادے سے جمع کر کے ایران کو مشرق وسطیٰ کی عظیم طاقت بنایا تھا وہ چند دن میں ہی ہاتھوں ہاتھ تقسیم ہوگیا ..... بلکہ انہی کے خلاف کام آیا ..... !

سقوط شاہی کے بعد چند ہفتے ایران میں دہشت گردی کے دن تھے ..... نوجوان مجاہدین ..... جنھوں نے پولیس اور فوج کا کام سنبھال لیا تھا جسے چاہتے گرفتار کرتے ..... جسے چاہتے ملزم قرار دیتے ..... لاقانونیت کا دور تھا ..... شاہ کے معاونین کو پکڑ پکڑ کر موت کے گھاٹ اتارنا وسیع پیمانے پر ہو رہا تھا ..... اور بہت دن تک ہوتا رہا ..... 

دراصل ایران میں شاہ کے خلاف محاذ پیدا کرنے میں ملاؤں نے زبردست کردار ادا کیا اور بالآخر ایرانی عوام کی بڑی اکثریت کو شاہ کے خلاف کرنے میں کامیاب ہوئے ..... اس اکثریت میں کچھ تو وہ لوگ تھے جو واقعتاً شاہ کے مخالف ہوئے اور بہت بڑی جمعیت محض نماش بینی کے شوق میں اس ہجوم عدو میں شامل ہوگئی ..... ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جمہوریت کو پسند کرنے لگے ہیں ..... شاہ ایران نے اتنی طویل حکمرانی کے دوران ملک کو ترقی دینے اور دنیا کے جدید و پیشرفتہ ملکوں کے برابر لے آنے کی سخت کوشش کی اور جہاں تک عمارتوں ‘ سڑکوں‘ لباس اور بڑے شہروں کی رہائش کا تعلق ہے ..... سب کچھ یورپ کے برابر آپہنچا تھا ..... بڑے شہروں کے لوگوں کے اخلاق و کردار میں وہ ساری خرابیاں شامل ہوگئی تھیں جو یورپ کے ممالک کا طرہ امتیاز ہیں ..... شراب ‘ قمار‘ راگ رنگ ‘ کذب ‘ اور ان تمام عادات کے ساتھ جو حرکات منسلک ہوتی ہیں وہ سب ..... اور ان تمام حرکات کی کامل آزادی تھی ..... کوئی روک ٹوک نہیں تھی ..... لیکن ترقی کی بنیاد کوئی نہیں تھی ..... ملک میں نہ کوئی قابل ذکر صنعت تھی نہ صنعتیں قائم کرنے کی فکر ..... نہ ملک کے اندر کوئی قابل ذکر و سائل تھے ..... تیل کے سوا اور کچھ نہیں تھا ..... اگر چہ تیل کی بدولت سارا شاہی خاندان اور ان سے منسلک خاندان مالا مال ہوگئے تھے ..... حکومت ایران کے پاس دولت کی فراوانی تھی ..... لیکن اس دولت سے نچلے طبقے کے عوام کو فائدہ کم پہنچتا تھا ..... 

خیر ذکر شکار کا ہورہا تھا ، شاہ پسند کی شکار گاہ میں مجھے شکار کی اجازت بھی مل گئی ..... 

ریسٹ ہاؤس سے کوئی دو میل کے فاصلے پر ایک خوبصورت اور شاداب وادی کے وسط میں پانی کا تالاب تھا ..... یہاں جانوروں کی بہت بڑی تعداد پانی پینے آتی تھی ..... میں متعدد دفعہ اس پانی کے قریب بنی ہوئی مچان پر دن اور رات کے اوقات میں بیٹھ کر جانوروں کی نقل و حرکت اور آمد ورفت کا تماشا دیکھتا رہا تھا ..... ہڑیال ..... ہرنوں کے بہت بڑے بڑے مندے ..... گاؤزرد ..... اور صرف ایک دفعہ دو چیتے پانی پینے آئے ..... ہرن ‘ ہڑیال اور گاؤزرد روزانہ آنے والے جانور تھے ..... میں نے ایک بار دو سو ہرن شمار کیے جو بیک وقت ہی پانی پینے آتے تھے ..... گاؤزرد کے جتھوں کی سب سے بڑی تعداد بیس تھی ..... ہڑیال مختلف اوقات میں سات سے پندرہ تک کے گروہوں میں آتے رہتے تھے ..... 

اس شکار گاہ میں ہرن بکثرت تھے ..... میں جب پہلی بار اس شکار گاہ کا معائنہ کرنے آیا تو دس روز قیام کیا اور شکار گاہ کے ہر علاقے کا دورہ کیا ..... ایک شکار بان میرے ساتھ ہوتا تھا جو اس سارے علاقے کے چپے چپے سے واقف تھا ..... لیکن میرے قیام اور معائنے کے دوران مختلف درجات کے متعلقہ افسران مجھ سے مشورہ اور گفتگو کرنے میرے پروگرام کے مطابق آتے رہے ..... اور میں ان کو مختلف ہدایات دیتا رہا ..... جن پر فوری عمل ہوتا تھا.....

وہ میدان جن میں تقریباً ڈیڑھ ہزار ہرن تھا..... تین مربع میل کے وسیع قطعے پر پھیلا ہوا شاداب گاس کا میدان تھا ..... اس میدان کے تین حصوں میں جا بجا خوبانی اور آلو چے کے درخت تھے ..... ہر سال ان کی فصل جمع کر کے فروخت کی جاتی تھی ..... میں نے دیکھا کہ ہرن ان درختوں کے پاس اکثر آتے تھے ..... چنانچہ میں نے معتمد شکار گاہ سے مشورہ کر کے حکومت کو مشورہ دیا کہ ان درختوں کی فصلیں جانوروں کے کھانے کے لیے چھوڑی دی جائیں..... اس مشورے کو قبول کیا گیا ..... اور دوسرے ہی سال اس کا فائدہ نظر آیا کہ ہر نوں نے بڑی تعداد میں بچے دیئے ..... ہرن شماری میں اس سال کی تعداد میں سترہ فیصدا کا اضافہ ہوا ..... ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی طرف سے جو شرح مقرر تھی اس میں تقریباً دس فیصدا ضافہ ہوا ..... یہ نتائج بہت حوصلہ افزا تھے ..... اس لئے کہ تیسرے سال پھر جو نتائج زیر مطالعہ آئے ان میں بائیس فیصد اضافہ ثابت ہوا.....(جاری ہے )

شکار۔۔۔ آدم خوروں کے شہرۂ آفاق مسلمان شکاری کی سنسنی خیز داستان... قسط نمبر 3 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

کتابیں -شکاری -