”جب میں 13 سال کی ہوئی تو میرے باپ نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور پھر ۔۔۔“ بھارت میںنوجوان لڑکی نے اپنے اوپر کیے جانے والے مظالم کی ایسی داستان سنا دی کہ ہر کوئی رونے لگا

”جب میں 13 سال کی ہوئی تو میرے باپ نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر ...
”جب میں 13 سال کی ہوئی تو میرے باپ نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا اور پھر ۔۔۔“ بھارت میںنوجوان لڑکی نے اپنے اوپر کیے جانے والے مظالم کی ایسی داستان سنا دی کہ ہر کوئی رونے لگا

  

حیدرآباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ بچی نے اپنے سوتیلے باپ کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کر دی ہے ، معصوم لڑکی نے جب اپنی کہانی سنائی تو ہر کسی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔

تفصیلات کے مطابق 13 سالہ لڑکی کا کہناتھا کہ آٹھ سال قبل اس شخص نے میری والدہ سے شادی کی جس کے بعد مجھے اور میری بہن کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گئے ، جب میں 13 برس کی ہوئی اور بالغ ہوئی تو میرے باپ نے مجھے جنسی طور پر حراساں کرنا شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر میں نے اپنی ماں کو اس بارے میں بتایا تو وہ انہیں گھر سے نکال دے گا اور مزید دیکھ بھال نہیں کرے گا ، اس کا کہناتھا کہ میں بہت ڈر گئی ۔

لڑکی کا کہناتھا کہ اس واقعے کے چار روز کے بعد جب میری والدہ کام کیلئے گھر سے جارہی تھیں تو میں رونے لگ گئی اور کہا کہ مجھے اکیلے گھر چھوڑ کر مت جائیں کیونکہ آپ کے جانے کے بعد ’ڈیڈی‘ مجھے جنسی عزیت کا نشانہ بناتے ہیں ، جب میری والدہ نے میرے باپ سے اس بارے میں سوالات کیے تو اس نے الٹا مجھے ہی جھوٹا قرار دیا لیکن بعد میں وہ میری ماں کے قدموں میں گر گیا اور معافی مانگنے لگا اور کہنے لگا کہ اس وقت میں نشے کی حالت میں تھا اس وجہ سے غلطی ہوئی تاہم میں نے اور میری والدہ نے اس کی بات پر یقین کر لیا ۔

لڑکی نے کہا کہ اس نے اس مہینے مجھے ایک مرتبہ پھر جنسی طور پر ہراساں کیا جب میری والدہ گھر میں نہیں تھی ، اس نے مجھے مارنا شروع کر دیا ، میں نے اپنی جان بچانے کیلئے خود کو باتھ روم میں بند کر لیا لیکن اس شخص نے دروازہ توڑ دیا اور اپنی بیلٹ سے مجھے پیٹنا شروع کر دیا ۔

لڑکی کا کہناتھا کہ ہمسائے میں رہنے والوں لوگوں نے ہو سکتاہے کہ میری چیخنے کی آوازیں بھی سنی ہوں لیکن کوئی میری مدد کیلئے نہیں آیا کیونکہ وہاں کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے سوتیلے باپ ہیں یہاں تک کے میرے چھوٹے بھائی کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے ۔

اس دن لڑکی کی ماں نے جب اپنے شوہر سے فون پر بات کی تو اس نے کہا کہ وہ بینک میں ہے تاہم لڑکی کی ماں نے بھانپ لیا کہ کچھ توغلط ہے اور وہ جلد گھر واپس آ گئی ، سوتیلے باپ نے لڑکی کو دھمکی دی کہ وہ اپنی ماں کو کچھ نہ بتائے اور ایسے ظاہر کرے جیسے وہ سو کر اٹھی ہے لیکن اس کی ماں نے اپنی بیٹی کے چہرے سے اندازہ لگا لیا ۔

لڑکی نے کہا کہ میں اور میری ماں تین مختلف پولیس سٹیشن میں گئیں جس کے بعد ہماری شکایت درج کر لی گئی لیکن میرے والد منظر عام سے غائب ہو گئے ، کچھ دیر بعد میرے سوتیلے باپ نے میری ماں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ اس کی بیٹی کے اکاﺅنٹ میں پیسہ ڈالنے کیلئے تیار ہے اور اس کی پڑھائی کا تمام خرچہ اٹھائے گا تم بس شکایت واپس لے لو ۔

پولیس نے اس شخص کوگرفتار کر لیاہے اور اس لڑکی نے ’بچوں کا تحفظ کرنے والی تنظیم ’بلالہ ہکولہ سنگم “سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ اپنے گھر میں محفوظ نہیں ہے ، یہ معاملہ دوبارہ بھی ہو سکتاہے ، اس لیے میں اب ہوسٹل میں رہنا چاہتی ہوں اور پولیس افسر بننا چاہتی ہوں ۔

مزید :

بین الاقوامی -جرم و انصاف -