10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ریپ نہیں کہلائی جاسکتی، فن لینڈ میں عدالت نے ایسا فیصلہ سنادیا کہ پورا ملک سراپا احتجاج، یہ کیا فیصلہ ہے؟ جانئے

10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ریپ نہیں کہلائی جاسکتی، فن لینڈ میں عدالت نے ایسا ...
10 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی ریپ نہیں کہلائی جاسکتی، فن لینڈ میں عدالت نے ایسا فیصلہ سنادیا کہ پورا ملک سراپا احتجاج، یہ کیا فیصلہ ہے؟ جانئے

  

ہیلسنکی(مانیٹرنگ ڈیسک)کچھ عرصہ قبل فن لینڈ میں ایک مسلمان پناہ گزین نے 10سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا۔ اب عدالت نے اس مقدمے کا ایسا حیران کن فیصلہ سنا دیا ہے کہ شہری سراپا احتجاج ہو گئے۔ روسی ٹیلی ویژن نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق یوسف محمد ابودین نامی 23سالہ نوجوان نے معصوم لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایاتھا اور پراسیکیوشن اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ملزم کو سخت ترین سزا دینے کی استدعا کر رہی تھیں لیکن فن لینڈ کی ایک اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایک پناہ گزین شخص کا باہمی رضامندی کے ساتھ 10سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی تعلق زیادتی کے زمرے میں نہیں آتا۔“

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ کے مطابق فن لینڈ کے شہر ٹرکو کی اپیل کورٹ نے ملزم کو تین سال قید اور 3600ڈالر (تقریباً 4لاکھ روپے) جرمانے کی سزا دی۔ اس پر پراسیکیوشن اور تنظیموں نے پیرکانما ڈسٹرکٹ کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کر دیا اور استدعا کی کہ ملزم کو مزید سخت سزا دی جائے لیکن اس عدالت نے بھی زیریں عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا اور کہا کہ ”ملزم کا عمل جنسی زیادتی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے باہمی رضامندی سے تعلق قائم کیا، ان دونوں کی موبائل فون پر ہونے والی چیٹنگ اس کا ثبوت ہے۔ لہٰذا اس شخص کو کم عمر بچی سے جنسی تعلق استوار کرنے کی سزا ہی دی جا سکتی ہے، اس پر جنسی زیادتی کی دفعات نہیں لگائی جا سکتیں۔“فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ”اس عمر کی بچی کو عقل و فہم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرنے جا رہی ہے، چنانچہ اس کی رضامندی کوئی معنی نہیں رکھتی، اس لیے ملزم کا فعل جنسی زیادتی ہی تصور ہو گا۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -