اصغر خان کیس ، کس نے کتنے پیسے لئے ،پیسے لینے والوں میں کون کون شامل تھا؟

اصغر خان کیس ، کس نے کتنے پیسے لئے ،پیسے لینے والوں میں کون کون شامل تھا؟
اصغر خان کیس ، کس نے کتنے پیسے لئے ،پیسے لینے والوں میں کون کون شامل تھا؟

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی /نامہ نگار )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے وفاقی حکومت کو سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کی جانب سے سیاست دانو ں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم کے معاملے پر 2012 ءمیں اصغر خان کیس میں دیئے گئے فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دے دیا ہے ۔

اصغر خان کیس اور اس کا پس منظر کیا ہے؟اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ 1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اسلامی جمہوری اتحاد(آئی جے آئی)کی تشکیل کے لیے فوج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔یہ کیس طویل عرصہ تک زیرسماعت رہا ۔سپریم کورٹ نے 19 اکتوبر 2012 ءکو اس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا تھا۔8نومبر 2012 ءکوسپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کیاتھا۔ اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری ،مسٹرجسٹس جواد )ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نے اپنے اس فیصلے میں قراردیا تھا کہ انتخابی عمل کو آلودہ کرنا ا س وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم مرزا بیگ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی) کے سربراہ اسد درانی کا انفرادی فعل تھا اور سپریم کورٹ نے ا ن کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی کا حکم بھی دیا تھا۔اپنے مختصر فیصلے میں فاضل عدالت نے حکم دیا تھاکہ سیاست دانوں کورقوم فراہم کرنے کی تحقیقات کی جائیں۔اس کیس میں ایسے شواہد سامنے آئے تھے جن کے مطابق ایوانِ صدر میں ایک سیاسی سیل قائم تھا جو پسندیدہ ا ±میدواروں اور سیاسی جماعتوں کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لئے رقوم دے رہا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں قانونی کارروائی کے لئے جو احکامات جاری کئے تھے ان میں کہا گیا تھا کہ ا س وقت کے صدر اپنے عہدے کا پاس نہیں رکھ پائے ،ا ن کے خلاف بھی آئین و قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)کے ذریعے یونس حبیب سمیت ا ±ن سیاست دانوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے جو ا س رقم سے مستفید ہوئے تھے۔عدالت کے سامنے جو ادھوری تفصیلات آئی تھیں ان کے مطابق سابق نگران وزیراعظم غلام مصطفیٰ جتوئی کو 50لاکھ روپے ،سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجوکو 25 لاکھ روپے،عبدالحفیظ پیرزادہ(مرحوم)کو 30 لاکھ روپے،صبغت اللہ پیرآف پگاڑاشریف کو 20 لاکھ روپے،مظفر حسین شاہ کو 6 لاکھ روپے،سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی کو 50 لاکھ روپے،غلام علی نظامانی کو 3 لاکھ روپے،سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کو 2 لاکھ روپے دیئے گئے ۔اسی طرح ایک صحافی صلاح الدین مرحوم کو 3لاکھ روپے ادا کرنے کا معاملہ سامنے آیاجبکہ یوسف ہارون پر الزام عائد کیا گیا کہ انہیں بھی5لاکھ روپے ادا کئے گئے ،جنرل ریٹائرڈمرزا اسلم بیگ کی تنظیم فرینڈزکو3 کروڑ روپے،ایم آئی یونٹ پنجاب کو2کروڑ روپے،ایم آئی یونٹ صوبہ سرحد موجودہ خیبر پختونخواکو2 کروڑ روپے،جی ایچ کیو کو 4کروڑ روپے ،ایم آئی کوئٹہ آفس کو ایک کروڑ 50لاکھ روپے بھجوائے گئے۔عدالت میں یہ چیز بھی سامنے آئی کہ یونس حبیب نے خود جورقوم تقسیم کیںان میں سے انہوں نے میاں محمدنواز شریف کو مجموعی طور پر 60 لاکھ روپے ، جام صادق علی کو 7کروڑ روپے،ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو 2 کروڑ روپے،جاوید ہاشمی کے علاوہ دیگر ارکان قومی اسمبلی کو 5کروڑ روپے دیئے گئے ۔افتخار محمد چودھری دسمبر 2013 ءمیں اپنے عہدہ سے ریٹائر ہوگئے تھے جبکہ اس کیس کے درخواست گزار اصغر خان رواں سال جنوری میں وفات پا گئے ۔عدالت نے 2012ءمیں یہ بھی قرار دیا تھا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس قانون کے مطابق اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے سرحدوں کا تحفظ کرسکتی ہیں یا حکومت کو مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن ا ن کا سیاسی سرگرمیوں، سیاسی حکومتوں کے قیام یا ا ±نھیں کمزور کرنے میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی وہ کسی سیاسی جماعت یا گروپ یا انفرادی طور پر کسی سیاست دان کی حمایت کسی بھی انداز میں کر سکتے ہیں جس سے وہ انتخابات میں کامیاب ہو جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ایک بینک کے اس وقت کے سربراہ یونس حبیب نے جنرل اسلم مرزا بیگ اور جنرل اسد درانی کے کہنے پر 14 کروڑ روپے فراہم کئے جن میں سے 6 کروڑ سیاست دانوں میں تقسیم کئے گئے۔ اس کی تفصیلات تاحال نا مکمل ہیں ،یہی وجہ سے کہ ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا ،سپریم کورٹ نے قراردیا تھا کہ 8کروڑ روپے حبیب بینک کے اکاو نٹ نمبر 313 میں جمع کرائے گئے جو سرورے اینڈ کنسٹرکشن گروپ کے نام پرتھااور اس اکاو ¿نٹ کو ملٹری انٹیلی جنس چلاتی تھی۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگریہ رقم حبیب بینک کے کھاتوں میں شامل نہیں کی گئی تو اسے قومی خزانے میں بمع منافع جمع کرایا جائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -