صوبائی سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر 

صوبائی سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ ...
صوبائی سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر 

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سستے اور فوری انصاف کے راستے میں مبینہ طور پررکاوٹ بننے اور عہدہ میں 3 بار توسیع لینے پر صوبائی سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدہ سے ہٹانے کے لئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

یہ آئینی درخواست مصالحتی عدالتی نظام کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے معاون میاں ظفر اقبال کلانوری ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میںکہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب نے ریٹائرڈ سیکرٹری اسمبلی ابولحسن نجمی کومیرٹ اور قوانین کے برعکس سیاسی بنیادوں پر سیکرٹری قانون پنجاب کے عہدے پر تعینات کیا،پ75 سالہ سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو کنٹریکٹ کا عرصہ مکمل ہونے کے باوجودان کے عہدہ میں تین بار غیر قانونی طور پر توسیع دی گئی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ سول سرونٹ ایکٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت 63برس سے زائد عمر کے فرد کو کنٹریکٹ یا مستقل بنیادوں پر سرکاری عہدہ پرتعینات نہیں کیا جا سکتا،ابولحسن نجمی غیر قانونی طور پر تعینات ہونے کے بعد اپنے فرائض سے غفلت برت رہے ہیں،ثالثی اور مصالحتی بل بننے کے باوجود اسے منظوری کے لئے اسمبلی میں نہیں بھجوایا گیا جو کہ آئین کے آرٹیکل 36 کی سنگین خلاف ورزی ہے،آئین کے حکمت عملی کے اصولوں کے تحت ریاست شہریوں کو سستے اور فوری انصاف دینے کی پابند ہے،ثالثی اور مصالحتی بل کے منظور نہ ہونے سے شہریوں کو سستے انصاف کی فراہمی سے دور رکھا گیا،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فرائض سے غفلت برتنے اورعہدہ میں تین بار توسیع لینے پر صوبائی سیکرٹری قانون پنجاب ابولحسن نجمی کو عہدہ سے ہٹانے کے احکامات صادر کئے جائیں۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -