ایف بی آر کے نئے چیئرمین

ایف بی آر کے نئے چیئرمین

ٹیکس امور کے ماہر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سید شبر زیدی کو ایف بی آر کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے یہ اعلان وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کے ایک منتخب گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔شبر زیدی 2013ء کے الیکشن سے پہلے بننے والی سندھ کی نگران حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں اور چارٹر فرم اے ایف فرگوسن کے سینئر حصے دار ہیں۔یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ایف بی آر کے چیئرمین کے عہدے کے لئے نجی شعبے سے کسی ماہر کو مقرر کیا گیا ہے،اِس سے پہلے پیپلزپارٹی کے دور میں 10جولائی2012ء کو علی ارشد حکیم کو نجی شعبے سے لا کر چیئرمین مقرر کیا گیا تھا،لیکن وہ ایک سال ہی یہ خدمات انجام دے سکے،کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اُن کا تقرر غیر قانونی قرار دے دیا اور حکومت کو پابند کیا گیا کہ اگر وہ نجی شعبے سے چیئرمین لانا چاہتی ہے تو یہ بعض شرائط سے مشروط ہو گا۔ اسلام آباد کا یہ فیصلہ اب بھی لاگو ہے، کیونکہ اِس وقت کی وفاقی حکومت نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل نہیں کی تھی اور علی ارشد حکیم اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد عہدے سے الگ کر دیئے گئے تھے،اب ایف بی آر کے افسروں کی ایسوسی ایشن نے اِس فیصلے کی روشنی میں توہین ِ عدالت کی درخواست دائرکرنے کا فیصلہ کیا ہے۔چند روز قبل ایف بی آر کے چیئرمین جہانزیب خان کو اچانک ہٹا دیا گیا تھا،جس کی کوئی وجہ تو نہیں بتائی گئی تھی تاہم اندازہ یہی تھا کہ انہیں رواں مالی سال کے ریونیو شارٹ فال کی وجہ سے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے، کیونکہ سال ختم ہونے میں دو ماہ سے بھی کم کا عرصہ باقی ہے اور1480 ارب روپے کا شارٹ فال پورا کرنا ایک مشکل ہدف ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پٹرول کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھائی گئی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 70ڈالر فی بیرل ہیں اور جس وقت تیل کی قیمتیں 190ڈالر فی بیرل سے اوپر تھیں اُس وقت بھی پٹرول111 روپے لٹر بِک رہا تھا تیل کی قیمتوں میں اِس اضافے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں شدید احتجاج ہو رہا ہے۔

سید شبر زیدی ٹیکس قوانین کے نامور ماہر ہیں اور انہوں نے اپنی نامزدگی کے بعد ایک ٹی وی ٹاک میں اُن اصلاحات کا تذکرہ کیا ہے، جو وہ عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد کرنا چاہیں گے، ان اصلاحات میں سب سے اہم اصلاح یہ ہے کہ ایف بی آر اور ٹیکس دینے والوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ قائم کیا جائے، جو اُن کے خیال میں اس وقت موجود نہیں ہے،تاہم اگر ایف بی آر کا کوئی افسر ان کے تقرر کے معاملے کو عدالت میں لے کر چلا گیا تو شاید شبر زیدی کو اپنی توجہ ٹیکس اصلاحات کی بجائے اپنے عہدے کو بچانے پر مرکوزکرنی پڑے۔ویسے اُن کے تقرر سے بھی ایک خلا پیدا ہوا ہے جو پہلے سے موجود افسروں اور خود شبر زیدی کے درمیان ہو گا۔علی ارشد حکیم کے تقرر کو گریڈ19 کے ایک افسر اشفاق احمد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، اس وقت ایف بی آر کے افسر قانونی ماہرین سے مشاورت کر رہے ہیں کہ کیا اُن رولز کو فالو نہ کرنے پر جو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں متعین کر دیئے تھے توہین عدالت کی درخواست دائر کی جائے یا تقرر کو براہِ راست چیلنج کیا جائے۔جہانزیب خان کو ہٹانے کے بعد گریڈ21 کے افسر مجتبیٰ میمن کو چیئرمین بنانے کا اعلان کیا گیا تھا، لیکن ان کا نوٹیفکیشن نہ ہو سکا، کیونکہ اُن سے سینئر کئی افسر ایف بی آر میں موجود تھے، جنہیں اس فیصلے پر تحفظات تھے نہ صرف گریڈ21میں مجتبیٰ میمن سے سینئر افسر موجود ہیں،بلکہ گریڈ22 کے بھی کئی افسر ہیں غالباً اسی وجہ سے اُن کے تقرر پر نظرثانی کر کے نجی شعبے سے ٹیکس ایکسپرٹ کو عہدہ دینے کا فیصلہ کیا گیا،جس کی راہ میں عدالت کا فیصلہ حائل نظر آتا ہے، افسروں کی دو تنظیموں پاکستان کسٹم آفیسرز ایسوسی ایشن اور اِن لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم کے پارٹنر کی چیئرمین ایف بی آر کے انتہائی اہم اور حساس عہدے پر تعیناتی مفادات کے ٹکراؤ کے لئے ہائی رسک ہے۔ ان کی تعیناتی سے گریڈ22کے دس سے زائد سینئر افسران کو نظر انداز کیا گیا، جو ایف بی آر کے دو ہزار سے زائد افسران پر عدم اعتماد کا اظہار ہے،جس انداز میں شبر زیدی کا ”خیر مقدم“ کیا جا رہا ہے اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آنے والے دِنوں میں ٹیکس ریونیو کلیکشن کی صورتِ حال کیا ہو گی۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف4398 ارب روپے رکھا گیا ہے، جو پورا ہوتا نظر نہیں آتا ایسے میں جب آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال(2019-20ء) کے لئے ٹیکس کا ہدف 5550ارب روپے رکھا جائے تو اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس ہدف کا حصول کتنا مشکل کام ہو گا۔

وزیراعظم عمران خان ایف بی آر کے افسروں کی کارکردگی سے مطمئن نہیں اور ”نیا ایف بی آر“ بنانے کا عندیہ بہت پہلے دے چکے ہیں۔غالباً نجی شعبے کے ایکسپرٹ کا بطور چیئرمین تقرر ہی نئے ایف بی آر کی جانب پہلا قدم ہے ویسے وہ جب ابھی وزیراعظم نہیں بنے تھے تو اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹیکس جمع کرنے کا بہت زیادہ پوٹینشل ہے اور موجودہ ریونیو سے دو ڈھائی،بلکہ تین گنا تک ریونیو آسانی سے جمع کیا جا سکتا ہے،انہوں نے کئی بار یہ بھی کہا کہ مَیں 8ہزار ارب روپے جمع کر کے دکھاؤں گا،کیونکہ اگر اوپر دیانت دار آدمی بیٹھا ہو تو لوگ خوشی خوشی ٹیکس دیتے ہیں،لیکن حیرت ہے کہ دیانت دار آدمی کی حکومت کے آٹھ ماہ میں اتنا ٹیکس بھی جمع نہیں ہو سکا، جتنا ایک غیر دیانت دار حکومت جمع کر لیتی تھی اور اس نے2013ء سے لے کر اپنی حکومت کے اختتام تک ٹیکس ریونیو تقریباً دو گنا کر کے دکھایا تھا۔ اب وزیراعظم کے دوگنا کرکے دکھانے کا وقت ہے، معاشی ٹیم میں ایک سے بڑھ کر ایک ایکسپرٹ شامل ہو رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کا گورنر براہِ راست آئی ایم ایف سے آیا ہے اور ایف بی آر کا چیئرمین نجی شعبے سے لایا جا رہا ہے ایسے میں کم از کم8ہزار ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا چیلنج تو فوری قبول کرنا چاہئے۔ آئی ایم ایف کو بھی ہدف بڑھا کر پیش کرنا چاہئے، کیونکہ اگر وزیراعظم کے بقول ٹیکس دوگنا کرنا آسان ہے تو پھر پاکستانیوں کی صلاحیتوں کے بارے میں غلط اندازے نہ لگائے جائیں۔توقع ہے کہ اسی بجٹ میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دوگنا کر دیا جائے گا۔

مزید : رائے /اداریہ