قانون کی حکمرانی!

قانون کی حکمرانی!
قانون کی حکمرانی!

  

چند روز قبل میرے پسندیدہ کالم نگار و ہر دل عزیز شخصیت نے عدالتوں اور عداوتوں کے بارے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ہمیشہ قانون ہی جیتتا ہے۔ میں بصد احترام ان سے اختلاف کی اجازت چاہتا ہوں۔

حق اور سچ یہ ہے کہ انصاف وہاں ہوتاہے جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ ہم وہاں رہتے ہیں جہاں ہنوز قانون نے جڑ نہیں پکڑی۔ اپنی مشترکہ قدر صرف پیسہ ہے اور جو کچھ بھی ہوتاہے پیسہ ہونے یا نہ ہونے کی بنا پر ہواکرتاہے۔ کم یا زیادہ پیسہ۔ جائز و ناجائز کا کس نے اور کب پوچھا ہے؟

ایک زمانہ ہوتاتھا جب کہاجاتاتھا کہ " چند وحشی قبائل کو چھوڑ کر دنیا پر ہمیشہ کتابوں نے حکومت کی ہے " علم کی حکمرانی! لیکن یہ بات اب کافی سے زیادہ پرانی ہو گئی ہے۔ موجودہ دور دولت کی حکمرانی کا ہے۔ ہوس ہی ہوس۔ ہوس کا رانہ اقدار میں ہمیشہ ظلم اور ناانصافی کی جیت ہوتی ہے۔ بنام انصاف،ظلم اور قانون کی آڑ میں لاقانونیت! وزیر اعظم عمران خان نے ایک عرصہ سے اودھم مچارکھاتھا۔ انصاف، انصاف اور انصاف کی تکرار۔

پاکستان تحریک انصاف؟ تحریک نہ انصاف جبکہ پاکستان کو عملاً آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے۔ گروی کے لفظ پر اعتراض ہو تو نگرانی کہہ لیں پاکستان کے خزانے کی نگرانی اب آئی ایم ایف کا آدمی کرے گا۔ آخر راز کھل گیا کہ اپنے "قیمتی اثاثہ " سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو کیوں نکالا؟ مشیر اقتصادی امور شیخ عبدالحفیظ، چیئرمین ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک! کیانئی وضع کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو دعوت دے دی گئی ہے؟ نہیں میں بھی ہاں کے پہلو پوشیدہ!حالات و واقعات آہستہ آہستہ ثابت کرتے جاتے ہیں کہ میاں نوازشریف ان سے کہیں بہتر تھے، یا کہیں زیادہ کم بدتر۔ مجھے نہیں معلوم کہ میاں نوازشریف کو کیوں نکالاگیا؟ وہ مالی طور پر بدعنوان تھے؟؟ ایک عام شخص بالآخر یہ سوچنے لگ پڑا ہے کہ اس "نام نہاد " اچھے سے وہ کسی طور پر برا نہیں تھا۔

میاں نوازشریف کو کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ میاں صاحب مجرم ہیں یا بے قصور؟ ورنہ حال میں تو دعا کو بھی دغاہی پڑھا جارہا ہے۔ ایک سے ایک بڑھ کر سوال اٹھ رہے ہیں۔ جو پوچھے نہیں جاسکتے اور نہ کہیں سے جواب میسر آسکتے ہیں۔ گویا یہ عہدِ سوال ہے!

مزید : رائے /کالم