ٹی ایل پی کی اسیر قیادت فوج،ججزاور حکومت سے جامع معافی مانگنے کو تیار

  ٹی ایل پی کی اسیر قیادت فوج،ججزاور حکومت سے جامع معافی مانگنے کو تیار

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے روبروپیرافضل قادری کی طرف سے ان کے وکیل نے فوج اور عدلیہ کے خلاف ان کے بیان اور مسلمانوں کو کافر قراردینے کے الفاظ واپس لینے کی یقین دہانی کروادی ، جس پر عدالت نے اس بابت مصدقہ بیان حلفی طلب کرلیاہے ۔مسٹرجسٹس محمدقاسم خان اورمسٹر جسٹس اسجد جاوید گھرال پرمشتمل ڈویژن بنچ نے پاکستان تحریک لبیک کے پیر افضل قادری کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، دوران سماعت فاضل جج نے درخوااست گزار کے وکیل سے کہا کہ آپ کو کہا تھا کہ معافی نامے کو فائل کا حصہ بنائیں، وکیل نے کہا کہ یہ بات پردہ میں رہنے دیں، جس پر فاضل جج نے کہا کہ پردے رکھنے تھے تو مائیک استعمال نہیں کرنا تھا،پیر افضل قادری کا معافی نامہ پڑھیں، جس پر پیرافضل قادری کے وکیل نے کہا کہ آسیہ کی رہائی کے خلاف بیان بازی میں سخت الفاظ کا استعمال کیا،فاضل جج نے استفسار کیا کہ وہ سخت الفاظ کیا تھے؟ جس پر وکیل نے کہا کہ ججز اور فوج کے خلاف بیان دیا جو ریکارڈ کا حصہ بھی ہیں، فاضل جج نے کہا کہ اسلام کے سرٹیفکیٹ بھی لوگوں کودیں اور بغاوت پر بھی اکسائیں؟ آپ نے اپنے اس معافی نامے میں کہیں اپنے الفاظ پر معذرت کی؟بنچ کے فاضل رکن جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کہا کہ آپ اعلیٰ عدلیہ کے ججوںکو واجب القتل قرار دیتے ہیں؟ جسٹس قاسم خان نے کہا کہ آپ کے کلائنٹ کے لئے ضروری تھا کہ وہ کہتے ججز آرمی چیف کے خلاف ادا کئے الفاظ واپس لیتا ہوں،معافی نامے میں مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فتوے کے الفاظ لیتے ہیں؟اپنے کلائنٹ سے ٹیلی فون پر پوچھ لیں ،کیا وہ اپنے یہ الفاظ واپس لیتے ہیں؟ اگر پیر افضل قادری اپنے الفاظ واپس لیتے ہیں تو ان کے بیان کو اوتھ کمشنر سے تصدیق کروایا جائے گا،یہ نہ سمجھا جائے کہ بیان میں وضاحت طلب کرنا انکی ضمانت کی گارنٹی ہے، عدالتی حکم پر پیر افضل قادری کے وکیل نے پیر افضل قادری سے رابطہ کیا، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پیر افضل قادری مکمل اور جامع معافی نامہ دینے کو تیار ہیں جس میں باقاعدہ عدلیہ، فوج اور حکومت سے معافی مانگی جائے گی،فاضل بنچ نے اوتھ کمشنر سے تصدیق شدہ معافی نامہ آج 8مئی تک عدالت میں جمع کروانے کا حکم دے دیاہے ۔

معافی تیار

مزید : صفحہ آخر