حکومت سندھ باردانہ کی منصفانہ تقسیم کویقینی بنائے،محمدحسین محنتی

حکومت سندھ باردانہ کی منصفانہ تقسیم کویقینی بنائے،محمدحسین محنتی

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ نے سندھ میں گندم کی خریداری کے مراکز نہ کھولنا، باردانہ من پسند افراد کو دینے اور مناسب قیمتیں نہ دینے پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت گندم کے سرکاری ریٹ مقررکرنے کے ساتھ سندھ بھرمیں خریداری کے مراکزکھولنے اورباردانہ کی منصفانہ تقسیم کویقینی بنائے۔یہ بات جماعت اسلامی سندھ کے ضلعی امراء کے اجلاس میں منظور ہونے والی قرار داد میں کہی گئی جو کہ صوبائی امیر محمد حسین محنتی کی زیر صدارت قباء آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔قرارداد میں مزید کہاگیا کہ سندھ ایک زرعی صوبہ ہے جوملکی معیشت میں ریڑہ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگرحکمرانوں کی بے حسی اورمہنگائی کی طوفان بیج کھاد زرعی ادویات مہنگی ہونے کی کی وجہ سے زراعت پیشہ لوگ سخت پریشان ہیں کیوں کہ ان کو اپنی فصل کی لاگت رقم بھی نہیں مل پارہے،بروقت اورمناسب سرکاری ریٹ نہ مقررکرنے کی وجہ سے سارافائدہ مڈل مین لے جاتا ہے۔ایک دوسری قرارداد میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوام کی حالت زار پر رحم اور قیمتوں پر کنٹرول مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کیلئے کرپشن فری اقدامات کئے جائیں۔سارا بوجھ غریب وپسے ہوئے عوام پر ڈالنے کی بجائے کفایت شعاری اور غیر ترقیاتی اخراجات کم کر کے عوام کو ریلیف دیا جائے۔ دنیا بھر میں اسلامی ایام کے مواقع پر روز مرہ کی اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں واضح طور پر کمی کی جاتی ہے تاکہ عام آدمی بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے مگر تبدیلی کی دعویدار حکومت نے رمضان میں کوئی ریلیف دینے کی بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کر کے عوام کے ہوش اڑا دئیے ہیں۔ لگتا ہے کہ ملک کو عملی طور پر عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کردیا گیا ہے۔نیز سندھ میں وزارت تعلیم کی جانب سے اسکولوں میں ڈانس و میوزک کو لازمی نصاب تعلیم میں شامل کرنے والے عمل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت گھوسٹ اسکولوں کو کھولنے اور تعلیمی صورتحال میں کوئی بہتری لانے کی بجائے میوزک و ڈانس کی کلاسز کا اضافہ کر کے تعلیمی نظام کو مزید تباہی کے دھانے کی طرف دھکیل رہی ہے اس لئے فیصلہ واپس لیا جائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر