عالمی ہفتہ روڈ سیفٹی -لیڈر شپ برائے روڑ سیفٹی

عالمی ہفتہ روڈ سیفٹی -لیڈر شپ برائے روڑ سیفٹی

اس سال پانچواں عالمی روڑ سیفٹی ہفتہ 6 سے 12 مئی،کے دوران روڑ سیفٹی کے حوالے سے لیڈر شپ اہمیت کے حوالے سے منایا جا رہا ہے۔کیونکہ بہترین لیڈر زہی تجربات کی روشنی میں مستقبل کے لیے بہتر راہنمائی فراہم کر سکتے ہیں۔روڑ سیفٹی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے ہر سال عالمی سطح پر اس ہفتے کی وساطت سے مختلف عام موضوعات کو اجاگر کیا جاتا ہے جس سے روڈ ٹریفک حادثات کی شرح میں کمی لاتے ہوئے روڈ سیفٹی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس سے قبل منائے جانے والے عالمی روڈ سیفٹی ہفتوں میں مختلف چیزوں پر زور دیا جاتا رہا ہے۔جیسے ڈرائیونگ کے دوران مناسب رفتا رکا خیال رکھنا بچوں کی طرف سے حکمرانوں /پالیسی بنانے والوں سے روڑ سیفٹی کا عہد اورعوام الناس میں آگاہی فراہم کرنا شامل ہے۔ اس بار جس اہم موضوع کی طرف یہ ہفتہ ہماری توجہ مبذول کروا رہا ہے وہ ہے روڑ سیفٹی میں لیڈ ر شپ کی اہمیت۔ اس ہفتے کے منانے کے اہم مقاصد یہ ہیں کہ دنیا بھر میں روڑ سیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے سول سوسائٹی کے ذریعے عوام الناس کی طرف سے دنیا بھر میں ایسے لیڈر کا مطالبہ کیا جائے جو روڑ سیفٹی کواپنی ترجیحات میں اولین ترجیح سمجھتے ہوں اورروڑ حادثات و سانحات کے اعداد وشماراوروجوہات سے باخبر ہوں اور یہ لیڈرحقائق کی روشنی میں سرکاری نیم سرکاری تعلیمی اور پرائیوٹ اداروں کے ساتھ حادثات کی روک تھام اور سڑک حادثات میں خاطر خواہ کمی لانے کیلئے پرُعزم ہوں۔ اس وقت دنیا بھر میں 93فیصد اموات روڑ کے حادثات میں واقع ہوتی ہیں اور المیہ یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اموات کم اور درمیانی انکم والے ممالک میں ہورہی ہیں جس میں بد قسمتی سے پاکستان بھی شامل ہے روڑ کے حادثات کے شکار زیادہ تر افراد کی عمر 05 سے 29سال کے درمیان ہوتی ہے۔

پاکستا ن میں حادثات کے اعدادو شمار کے مطابق صرف ایمر جنسی سروس ریسکیو 1122نے 21لاکھ سے ز ائد روڑ ٹریفک کے حادثات کو بروقت طبی امداد فراہم کی اور شدید زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔یہاں یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ ایمرجنسی سروس روزانہ تقریباً ایک ہزار روڑ ٹریفک کے متاثرین کو بر وقت مدد فراہم کر رہی ہے۔اور 83فیصد حادثات پنجاب میں موٹر بائیک سے منسلک ہیں۔ روزانہ ایک ہزار افراد روڑ حادثات کی وجہ سے نا صرف زخمی ہو رہے ہیں بلکہ وہ اپنی فیملی کیلئے دکھ کا سبب بننے کے ساتھ ساتھ ہفتوں اپنے زخموں کی وجہ سے کوئی کام کاج نہیں کر سکتے۔ جس کی وجہ سے معاشی نقصان اٹھاتے ہیں۔ایمرجنسی سروس نے اب تک مختلف حادثات بشمول روڑ کے حادثات میں 67لاکھ سے زائدمتاثرین کو بر وقت ایمرجنسی سروس فراہم کی ہیں اور اس سروس نے نہ صرف پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں کی ایمرجنسی سروسزکے اہلکاروں کو باقاعدہ تربیت فراہم کی اور تکنیکی معاونت کی تا کہ ایمر جنسی سروس کے منظمنظام کے ذریعے بہت سی قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

روڑ سیفٹی کے حوالے سے سرکار ی اور غیر سرکاری ادارے آگاہی و تر بیتی ورکشاپ کا مسلسل انعقاد کر رہے ہیں۔ اور ایمر جنسی سروس ریسکیو1122بھی کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت اس انسانی دوست مشن کیلئے ہمہ وقت کو شاں ہے۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود انسانی فطرت کو مد نظر رکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب تک علم کے سا تھ ساتھ جواب طلبی نہ ہو کسی بھی طرح کے قوانین کا نفاذ ایک مشکل ترین کام لگتاہے اس لیے آگاہی کے ساتھ ساتھ روڑ سیفٹی کیلئے قوانین کا صحیح معنوں میں نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔روڑ حادثات کے اہم وجوہات جو بھی ہوں۔ لیکن 80سے90فیصد ٹریفک حادثات انسانی روئیے کیوجہ سے رونما ہو رہے ہیں۔ جس میں لاپرواہی،گاڑی بائیک چلانے والے کا رویہ، ٹریفک قوانین کا خیال نہ رکھنا،سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ کرنا،مخصوص رفتا ر کے مطابق گاڑی کو نہ چلانا اور تیزرفتاری، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، گاڑی کو صحیح حالت میں نہ رکھنا ڈرائیور اور سواریوں کیلئے حادثے کا سبب بنتاہے۔ اور ان سب کا تعلق کسی نہ کسی طرح روئیے سے ضرورہے ذمہ دار شہری اپنے روئیے سے ثابت کرتا ہے۔ کہ وہ مہذب معاشرے سے تعلق رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کسی ملک کے بارے میں جاننا ہو تو روڑ پر ٹریفک کے نظام کا مشاہدہ کریں آپکو اس ملک کے بارے میں اندازہ ہو جائے گا۔

ذمہ دار لیڈرز اہم اقدامات کے ذریعے روڑ سیفٹی کو فروغ دے سکتے ہیں۔ جس میں اہم اقدامات مندرجہ ذیل ہیں۔

٭تما م صوبوں میں ڈرائیونگ لا ئسنس کا مربوط نظام کا قیام جس کے تحت ہرشخص تربیت کے بعد باقاعدہ ٹیسٹ دے کر لائسنس حاصل کرے۔

٭نصاب میں سیفٹی اور روڑ سیفٹی کو شامل کرنا۔

٭روڑ سیفٹی پالیسی کا ہونا جس میں پیدل چلنے والوں اور Non moterizedگاڑیوں کے متعلق درج ہو۔

٭موٹر بائیک سے منسلک حادثات میں کمی لانے کیلئے تیز رفتارڈرائیونگ کی حوصلہ شکنی کرنا اور سپیڈ کا خیال رکھنا۔

٭قوانین کا نفاذ اور مسلسل آگاہی شامل ہیں۔

اسکے علاوہ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کرے۔اور کم عمر بچو ں کی ڈرائیونگ کو حوصلہ شکنی کریں۔ ہمیشہ ہیلمیٹ کوباقاعدگی سے پہنیں سیٹ بیلٹ کا استعمال کریں۔ڈرائیونگ کے دوران موبائل کا استعمال نہ کریں۔ اپنی گاڑی کا اگلی گاڑی سے محفوظ فاصلہ قائم رکھیں کیونکہ دیر سے پہنچناکبھی نہ پہنچنے سے بہتر ہے۔ہمیں بحثیت ذمہ دار شہری کے یہ عہد کر نا چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے میں اپنے ذمہ دار روئیے سے موثر کردار ادا کرکے روڑ سیفٹی کو یقینی بنائیں گے۔ اس حوالے سے ذمہ دار لیڈرز کے ذریعے حادثات کی شرح میں خاطر خوا کمی لاتے ہوئے پاکستان میں مخفوظ معاشرے کا قیام عمل میں لائیں گے۔۔۔انشاء اللہ!

مزید : رائے /کالم