نجی سکول کی سالانہ منافع میں اضافہ کی شرح 36 فیصد ہے،کیا منشیات کے علاوہ کسی اورکاروبار میں اتنا نفع ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن

نجی سکول کی سالانہ منافع میں اضافہ کی شرح 36 فیصد ہے،کیا منشیات کے علاوہ کسی ...
نجی سکول کی سالانہ منافع میں اضافہ کی شرح 36 فیصد ہے،کیا منشیات کے علاوہ کسی اورکاروبار میں اتنا نفع ہے؟جسٹس اعجاز الاحسن

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں نجی تعلیمی اداروں میں فیس میں اضافہ سے متعلق کیس جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ نجی سکول کی سالانہ منافع میں اضافہ کی شرح 36 فیصد ہے،کیا منشیات کے علاوہ کسی اورکاروبار میں اتنا نفع ہے، ایک نجی سکول کاسالانہ منافع 353 ملین ہے

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے نجی سکولوں کی فیس میں اضافہ سے متعلق کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آٹیکل 25 اے کے تحت تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، نجی تعلیم ادارے حکومت کیساتھ تعلیم فراہمی میں شامل ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ نجی سکول کی سالانہ منافع میں اضافہ کی شرح 36 فیصد ہے،کیا منشیات کے علاوہ کسی اورکاروبار میں اتنا نفع ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نہیں کہتی کہ نجی سکول منافع نہ کمائیں ،بنیادی حقوق کیخلاف قانون کو عدالت کالعدم قراردے سکتی ہے ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ایک نجی سکول کاسالانہ منافع 353 ملین ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کے منتخب نمائندے قانون بناتے ہیں،نجی سکولز حکومت پر دباﺅ ڈال کرقانون کیوں نہیں تبدیل کراتے ۔جمہوری عمل ایسے ہی آگے بڑھتا ہے، پارلیمنٹ عام آدمی کی رائے پر قانون سازی کرتی ہے ۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد