سابق بلدیاتی ادارے بے اختیار اور عوام پر بوجھ تھے،نیا بلدیاتی قانون متفقہ ہے:محمد بشارت راجہ

سابق بلدیاتی ادارے بے اختیار اور عوام پر بوجھ تھے،نیا بلدیاتی قانون متفقہ ...
سابق بلدیاتی ادارے بے اختیار اور عوام پر بوجھ تھے،نیا بلدیاتی قانون متفقہ ہے:محمد بشارت راجہ

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی وزیر قانون وبلدیات پنجاب  راجہ بشارت نے کہا ہے کہ سابقہ بلدیاتی ادارے بے اختیار اور عوام پر بوجھ تھے جبکہ نئے بلدیاتی ادارے سیاسی، انتظامی اور مالی طور پر مکمل با اختیار ہوں گے، نئے بلدیاتی اداروں کو 100 ارب روپے سے زائد کے فنڈز براہ راست دیے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سوسائٹی کے  وفد سے ملاقات کے دوران کیا،وفد میں سلمان عابد، شہزادہ عرفان، بشری خالق، فیروزہ بتول، فیضان وڑایچ، نبیلہ شاہین، ام لیلی اظہر، شہریاروڑائچ، سمیہ یوسف اور دیگر شامل تھے۔سلمان عابد نے کہا کہ پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور گورننس کے لیے بہت اچھا ہے،سول سوسائٹی کی جانب سے انتخابی امید وار کی عمر 25 سے 22 سال کرنے، خواتین کی نمایندگی ایک تہائی کرنے اورکابینہ میں خواتین کی نمائندگی لازمی بنانے کی تجاویز پیش کی گئیں۔صوبائی وزیر بلدیات راجہ بشارت  نے کہا کہ سول سوسائٹی کی تجاویز کا اتفاق رائے سے جائزہ لیں گے، نئے بلدیاتی نظام سے عوام کو زیادہ سے زیادہ آگاہی ملنی چاہئے جس کے لیے سول سوسائٹی اور میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔

راجہ بشارت نے وفد کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام کی تیاری کے لیے منعقدہ 17 اجلاسوں کی صدارت خود وزیر اعظم عمران خان نے کی، اس سے نئے بلدیاتی نظام کے ساتھ حکومت کی بھر پور کمٹمنٹ اور اونرشپ کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا بلدیاتی قانون متفقہ ہے جس میں اپوزیشن کی 14 ترامیم شامل کی گئی ہیں، یونین کونسل کے برعکس پنچایت میں ہر شہری کو اپنے گاں کے حوالے سے واضح شناخت ملے گی۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور