حکومت نے ایک بڑی غلطی ابھی تک تو نہیں کی

حکومت نے ایک بڑی غلطی ابھی تک تو نہیں کی
حکومت نے ایک بڑی غلطی ابھی تک تو نہیں کی

  

لاہور میں اِفطار کے بعد وہ چند گھڑیاں ہوتی ہیں جب شہر کی سڑکیں ذرا پُرسکون دکھائی دیتی ہیں۔لاہوری اپنے گھروں میں اور پردیسی اپنے ٹھکانوں پر ہوتے ہیں، ہاسٹلز یا ہوٹلز وغیرہ میں۔ یا پھر لوگ مسجدوں میں ہوتے ہیں۔ بہرحال، سڑکوں پر یار لوگ خال خال ہوتے ہیں۔۔۔ مگر، سات مئی کی رات اِس اعتبار سے قدرے مختلف تھی کہ شہری سڑکوں پر دکھائی دے رہے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ شہر کا شہر ہی اُمنڈ آیا تھا۔ پھر بھی سینکڑوں سر تھے جو ایک ساتھ چلتے نظر آتے تھے۔ اور ایسے سینکڑوں ذرا آگے کہیں کھڑے تھے۔ اور کچھ آگے مزید سینکڑوں شہری منتظر تھے۔ وہ سب، ایک سیاسی جماعت کے متوالے تھے۔ اُن کا قائد اپنی مُدتِ ضمانت ختم ہو جانے پر جیل جا رہا تھا۔ وہ سب اپنے لیڈر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے آئے تھے۔۔۔

حکومت کو یہ سب کچھ بہت بُرا لگ رہا تھا۔ حکومتی وُزَراءاُس جماعت کی ایسی حکمتِ عملی کو کھلے لفظوں میں کوس رہے تھے، اور قانون کی سراسر بے اَدبی قرار دے رہے تھے۔ نیز وہ سڑکوں پر نکل آنے والے متوالوں کی عقلی واَخلاقی حالت کا نوحہ بھی زوروشور سے پڑھ رہے تھے۔ وہ متوالے کہ جو ایک سزایافتہ مجرم کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنے نکل آئے تھے۔۔۔ تو حکومت، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور اُس کے کارکنان سے خوب خفا تھی مگر، اپنی ساری خفگی اور اپنے خاصے اِختیار کے باوَصف حکومت نے اُس جلوس کی راہ میں کہیں کوئی چھوٹا سا روڑا بھی نہیں اَٹکایا۔ شرکاءپر ، کسی ایک پر بھی، ذرا بھی سختی نہیں کی۔یہ قابلِ تعریف رویہ ہے اور یہی قابلِ ستائش رویہ جمہوریت کی جان ہے گویا اپنے مخالفین کو ، خود اپنے ہی خلاف، اِحتجاج کا مکمل حق دینا ، صرف یہ کہ کثیر انسانوں کی ناراضی کا وہ کھلا ڈُلا اِظہار پُراَمن طور سے ہو، تمام ہی۔

اِس حوالہ سے پھر سبھی متوالے بھی تعریف کے لائق ہیں کہ وہ سڑکوں پر جہاں بھی نظر آئے، پُرجوش مگر پُراَمن ہی نظر آئے۔ حکومت کا گِلہ اپنی جگہ سچا، کہ جوش کس لئے؟ ایک سزایافتہ مجرم سے اظہارِ اُلفت کے لئے؟؟؟ اُدھر متوالوں کی اپنی منطق۔ جس کا اظہار وہ کھلے عام ابھی ذرا کم ہی کرتے ہیں۔ مگر، وہ سمجھتے یہی ہیں کہ پاکستان کا نظامِ انصاف ہی ابھی اِتنا مثالی کہاں ، پھر جس پر اعتماد شہری کا ایمان بن جاتا ہے گویا! ویسا نظامِ عدل تو پھر وہیں کہیں ملتا ہے کہ جہاں آئین کبھی پامال نہیں ہوتا۔ اور، اِتنا ہی نہیں بلکہ جہاں کسی بھی انسان کے لئے، آئین وقانون کی پاسداری سے، ہَٹ کر چلتے جانے کی کوئی راہ ہوتی ہی نہیں۔ہاں، وہاں۔۔۔ آہ مگر، اپنے یہاں تو کیا نہیں ہو جاتا، اَلمختصر۔خیر، متوالے کچھ ایسا بھی سوچتے ہیں۔۔۔

حکومتِ عالیہ کو اپنی جگہ مگر یہ اطمینان ہی رہتا ہے کہ کچھ بھی سوچنے پر تو پابندی کچھ نہیں۔ہاں مگر، کہہ دینے کی حد کیا ہے،قرینہ بھی کیا ہے؟ تو  اِس نکتہ  خاص کا عام جواب ، وطنِ عزیز میں سبھی خاص وعام شہری جانتے ہیں اور  بڑے یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ بڑی سے بڑی سوچ بھی کچھ نہیں اگر اُس کا اظہار ہی نہیں، اور کبھی نہیں۔ پھر کہیں ہو ہی جائے تو اظہار بھی کچھ نہیں، اگر اُس میں لوگوں کو اپنی جانب کثرت سے، اور شدت سے، کھینچ رکھنے کا جوہر ہی نہیں۔ طُرفہ تماشا، جس میں اِتنا زبردست جوہر ہوتا ہے، اُس کو اپنے جسم و جان کی قدر بھی کہیں بڑھ کے ہوتی ہے۔ اُس کو ڈرا رکھنا نہایت ہی آسان ہوتا ہے اور جوہرِ قابل کو اِتنا ڈر کے جینے سے بہرطور بہت خوف آتا ہے,وہ جانتا ہے کہ ایسے میں بالآخر وہ اٹھ کر ٹکرا جائے گا  اور پاش پاش ہو جائے گا پَس، پہلا موقع پاتے ہی وہ پھر راستہ ہی بدل جاتا ہے۔۔۔

قصہ مختصر حکمرانوں کے رَستے صاف ہیں، فی الحال۔ اُنہیں کسی حقیقی مزاحمت کا اندیشہ نہیں۔ ہاں، اُن کو یہ پریشانی ضرور لاحق ہے کہ ملکی خزانہ کیونکر بھرے گا؟ اور، اِس مقصد کو پانے کی خاطر حکومت اپنی بصیرت کے مطابق شب وروز کوشش کرتی جا رہی ہے۔وہ چھوٹی موٹی کئی غلطیاں بھی کر چکی ہے اور بھی کرتی جا رہی ہے، شاید آئندہ بھی کرتی جائے گی مگر، یہ بھی سچ ہے کہ حکومت نے ابھی تک ایک بہت بڑی غلطی بہرطور نہیں کی۔ حکومت نے حِزبِ اِختلاف کے کسی پُراَمن احتجاجی جلسہ جلوس وغیرہ کو بزورِ بازو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ حکومت کا مزاج اور مذاق بُرا ہو سکتا ہے مگر وہ متشدد ابھی تک نہیں۔

پھر، حتیٰ کہ مہنگائی کے کڑوے گھونٹ بھی ،لوگ اپنی زبان سی کر ،پی سکتے ہیں ،اگر اُن کے دِلوں میں کہیں بڑی اُمید ہو  لیکن، ہر اُمید چھَن سے ٹوٹ جاتی ہے ، اگر اَمن پسند عوام کے اَجسام کو خوامخواہ چوٹ پہنچائی جائے۔ خالی اپنی دھاک وغیرہ بٹھانے کو۔ تو پھر یہ پالیسی بیک فائر کر بھی سکتی ہے۔ ہاں مگر، حکومت ابھی تک تو ایسی بڑی غلطی کر ہی نہیں رہی۔سانحہ  ساہیوال جیسے قطعی اَن چاہے واقعہ سے قطع نظر، اپنے ہی شہریوں کے اَنمول جسم وجاں کو حقیر سمجھنے اور اپنی حقارت کو کھل کر جتا بھی دینے کی حماقت ابھی حکومت نے کہیں نہیں کی۔سات مئی کی رات پھر اِس (اَمرِ خوشگوار)کی شاہد ہے۔اے کاش! آئندہ بھی بڑوں میں باہم جتنا بھی اختلاف وغیرہ ہوتا رہے، چھوٹوں کی کمبختی کہیں نہ آئے، کہ چھوٹے تو (اپنے اپنے) بڑوں سے محبت پر مجبور ہی ہوا کرتے ہیں۔۔۔پھر، خدا کے بعد، چھوٹے آدمی کا سہارا بڑے انسان کے سوا ، اور کوئی کہاں ہوتا ہے! ہو بھی کون سکتا ہے؟ بعد اَز خدا، اِس زمین پر، عام آدمی کا مددگار؟؟؟ ہاں مگر، انسان کا پُشت پناہ انسان! اور، چھوٹے آدمی کا بڑامعاون، بڑا انسان!!!

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ