بھارت کی جارحانہ چالیں

بھارت کی جارحانہ چالیں

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے، پاکستان پر الزام تراشی اور کنٹرول لائن پر فائرنگ اِسی لئے ہے کشمیریوں کی تحریک مزاحمت، ہندوستانی قبضے اور کشمیریوں پر ظلم کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ بین الاقوامی برادری کو بھارت کی غیر ذمے دارانہ چالوں سے جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے قبل مداخلت کرنی چاہئے، مَیں دُنیا کو بھارت کے ”فالس فلیگ“ جعلی آپریشن کے بہانے سے متعلق خبردار کر رہا ہوں۔ بھارتی جارحانہ چالیں خطے کا امن تباہ کر سکتی ہیں۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کیا، وزیراعظم سے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے بھی ملاقات کی اور سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ  خیال کیا۔

بھارت نے کشمیر میں ظلم و ستم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے اس کا تازہ مظاہرہ حزب المجاہدین کے چیف کمانڈر ریاض نائیکو سمیت چار نوجوانوں کی شہادت کی شکل میں ہوا ہے،جو برہان وانی کے بعد مجاہدین کی کمان کر رہے تھے اُن کی شہادت پر پورے مقبوضہ کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور آج اُن کی غائبانہ نمازِ جنازہ کی اپیل کی گئی ہے۔ قابض انتظامیہ نے ضلع پلوامہ کے ایک گاؤں میں گھر کا محاصرہ کر کے ریاض نائیکو کو شہید کیا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کی قیادت ہندواڑہ کے واقعے کے بعد ذہنی توازن کھو بیٹھی ہے اور نریندر مودی سے لے کر بھارتی آرمی چیف تک پاکستان کے خلاف دھمکیوں پر اُتر آئے ہیں، مجاہدین کے خلاف کارروائی بھی سراسیمگی کے عالم میں کی گئی ہے۔ بھارت پاکستان پر در اندازی کا الزام دہراتا رہتا ہے،لیکن جتنی شہادتیں سامنے آئی ہیں ان میں ایسے کشمیری نوجوان ہی شہید ہوتے ہیں، جن کا نام پتہ پورے کشمیر کو معلوم ہے۔ ریاض نائیکو ریاضی کے استاد تھے اور برہان وانی کی شہادت کے بعد سامنے آئے تھے،برہان وانی کے خاندان کو کشمیر کا بچہ بچہ جانتا ہے،اُن کے والد بھی استاد ہیں اور اب تک حیات ہیں،اِس لئے در اندازی کے الزام کا بھانڈہ تو بیچ چوراہے کے تب بھی پھوٹ گیا تھا اور اب بھی۔بھارت نے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر خاردار تار لگا رکھے ہیں، جن پر روشنی کا خصوصی انتظام ہے۔پہرے دار بھی شب و روز نگرانی کرتے ہیں ایسے میں در اندازی تو نہیں ہو سکتی، پھر بھی بھارت تسلسل کے ساتھ یہ الزام لگاتا رہتا ہے۔

چند روز قبل آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کنٹرول لائن کا دورہ کیا تھا اور پاکستانی فوجیوں کو بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دینے کی ہدایت کی تھی، ویسے بھی بھارت کو27فروری کا نہ بھولنے والا سبق دیا جا چکا ہے،اِس لئے امید نہیں کہ بھارت، پاکستان پر حملے کی حماقت کرے گا۔ اگرچہ اس کا میڈیا جنگ کا ماحول بنانے کے لئے مسلسل زہر افشانی کر رہا ہے۔ بھارت نے پلوامہ کے واقعہ کو بہانہ بنا کرگذشتہ برس پاکستان کے علاقے بالا کوٹ پر حملہ کیا تھا اب خدشہ ہے کہ ہندواڑہ میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت سے بوکھلا کر وہ پھر کوئی مس ایڈونچر نہ کر ڈالے،اِس لئے پاک فوج کی بھارت کی شرارتوں اور ناٹکوں پر گہری نظر ہے،کوئی فرضی واقع بنا کر بھارت نے اگر پہلے جیسی کوئی حرکت کی تو اِس کا جواب بھی اُسی طرح دیا جائے گا۔وزیراعظم عمران خان نے دُنیا کو بھی خبردار کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی امن دشمن کارروائیاں روکنے کے لئے مداخلت کرے،اتمامِ حجت کے لئے وزیراعظم کا پیغام تو بروقت ہے،لیکن ہمیں اِس ضمن میں کسی ملک سے بہت زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ چین ہمیشہ مشکل حالات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور اب بھی امید ہے کہ وہ عالمی اداروں میں بھارتی عزائم کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا،لیکن اگر بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو ہمیں اپنی قوتِ بازو پر ہی انحصار کرنا ہو گا، کیونکہ بہت سے ممالک کے بھارت کے ساتھ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔ کئی ممالک کے دفاعی معاہدے بھی ہیں،اِس لئے کوئی مُلک آسانی کے ساتھ اپنے تعلقات بھارت کے ساتھ خراب نہیں کرنا چاہے گا۔پاکستان کو ماضی کی جنگوں میں دوسرے ممالک کی امداد کے بارے میں جو تجربات حاصل ہوئے تھے اُن کو بھی پیش ِ نظر رکھنا ہو گا، جنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ڈپلومیسی کی ناکامی کا نتیجہ ہوتی ہے،لیکن جب دو ممالک میں جنگ ہو تو باقی ملکوں کی ڈپلومیسی بروئے کار آتی ہے۔وہ کسی مُلک کی امداد یا متحارب خطے میں مداخلت اپنی اسی ڈپلومیسی کو پیش ِ نظر رکھ کر ہی کرتے ہیں، اِس لئے ہمارے خیال میں دُنیا کو باخبر کرنے کے لئے وزیراعظم کا محض ایک انٹرنیٹ پیغام کافی نہیں ہو گا، اس کے لئے سفارتی محاذ پر زیادہ سرگرمی کی ضرورت ہو گی اور ڈپلومیٹک چینل کے ذریعے دُنیا کو بھارتی عزائم کے بارے میں خبردار کرنا ہو گا، جو کورونا کی آڑ میں نہ صرف کشمیریوں،بلکہ پورے بھارت کے مسلمانوں کو طرح طرح کے مظالم کا نشانہ بنا رہا ہے اور اب اس نے پاکستان کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں سے یہ تو صاف نظر آتا ہے کہ اس کا مقصد دُنیا کی توجہ کشمیر کے حالات سے ہٹانا ہے، جس پر بھارت نے اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کے لئے بھارتی آئین میں ترمیم بھی کر دی ہے۔5اگست کے بعد سے کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور اب کشمیری حریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس کے پردے میں پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کی راہ ہموار کی جائے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے ہندتوا کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بھی مصروف ہیں اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ بھی تیز تر کر دیا گیا ہے، کئی ریاستوں میں لاؤڈ سپیکر پر اذان دینے کی ممانعت بھی کر دی گئی ہے، حالانکہ اِس وقت امریکی اور یورپی شہر بھی اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج رہے ہیں اور مغربی ممالک کے بہت سے چینلوں سے بھی یہ روح پرور آواز سنی جا سکتی ہے۔ حیرت ہے کہ بی جے پی اس ہندوستان سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے، جس کے چپے چپے پر مسلمان تمدن کے انمٹ نقوش ثبت ہیں یہ برعظیم پر مسلمانوں کا وہ احسان ہے، جس کا اعتراف ہندو تاریخ دانوں نے بھی کھلے دِل سے کیا ہے، ویسے بھی اگر بھارت میں مسلمانوں کے تمدن کی نمایاں علامتیں موجود نہ ہوتیں تو اس کا دامن اتنا تہی ہوتا کہ غیر ملکی مہمانوں کو دکھانے کے لئے اسے ہندو ثقافت کے نمونے چراغ لے کر ڈھونڈے پڑتے۔برصغیر پر مسلمانوں کے احسانات کی اس طویل تاریخ کو نظر انداز کر کے بھارت کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ بھارت کے متعصب رہنماؤں کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ سیکولر چہرے کا بھرم رکھے اور گائے کی تقدیس کے نام پر مسلمانوں کا خون اپنے اوپر مباح نہ کرے۔ اگر اس نے بھارت کو مسلمانوں کے وجود سے پاک کرنے کا تہیہ ہی کر لیا ہے تو پہلے اپنی ثقافت کا کوئی ایسا مجسم نمونہ تو سامنے لائے جسے وہ تاج محل، لال قلعہ اور بادشاہی مسجد کے مقابلے میں دُنیا کو دکھا سکے، جس لال قلعہ کی چار دیواری میں ہر سال یوم جمہوریہ کی تقریب میں پاکستان کو دھمکیاں دی جاتی ہیں وہ بھی ایک مسلمان حکمران ہی کے دور میں بنا تھا۔

مزید :

رائے -اداریہ -