اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم، کیا ممکن ہے؟

اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم، کیا ممکن ہے؟
اٹھارہویں ترمیم میں ترمیم، کیا ممکن ہے؟

  

پاکستان میں کورونا کی وبا کے حوالے سے اختلاف رائے موجود ہے تو سیاسی ماحول بھی قومی مفاہمت کی طرف نہیں بڑھ رہا بلکہ ایک بار پھر برسر اقتدار حزب اقتدار اور حزب اختلاف میں بیان بازی اور الزام تراشی کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری قرنطینہ میں ہوتے ہوئے سیاسی سرگرمی جاری رکھے ہوئے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف بھی بیان داغتے چلے جا رہے ہیں۔ اس پورے سلسلے میں 18 ویں ترمیم اور نیب آرڈی ننس میں ترامیم کا معاملہ اہم بن گیا ہے خبریں پھیلائی گئیں کہ ان دونوں امور کے حوالے سے سودا کاری ہو رہی ہے اور 18 ویں ترمیم کے عوض نیب آرڈی ننس میں متفقہ ترامیم کا عندیہ بھی دیا گیا ہے، ابھی تک کسی بھی بات کی تصدیق سامنے نہیں آئی تاہم قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

جہاں تک 18ویں ترمیم میں ترمیم کا تعلق ہے تو پیپلزپارٹی اس پر جزبز ہو رہی ہے کہ یہ ترمیم اس جماعت کے دور میں منظور ہوئی۔ اس کے مطابق متعدد صدارتی اختیارات حکومت اور پارلیمینٹ کو منتقل کئے گئے اور بہت سے محکمے وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے قانون سازی کی فہرست (جو مشترکہ اور وفاقی، صوبائی قانون سازی کے لئے ہے) میں بھی ردوبدل ہوا۔ یہ ایک طویل ترمیم ہے جس کی سو سے بھی کہیں زیادہ شقیں ہیں۔ اس لئے جو بھائی اسے پڑھے بغیر رائے دے رہے ہیں ان کا تجزیہ یا دلیل مناسب نہیں۔ یہ پارلیمانی تاریخ کا ریکارڈ ہے کہ پیپلزپارٹی کے دانشور ترقی پسند مرکزی راہنما میاں رضا ربانی نے اس کے لئے بہت محنت کی تھی اور اسے ختم کرنے یا مزید ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دیئے جانے والے اختیارات واپس وفاق کو منتقل کرنے کی بات ہو تو ان کو شدید رنج ہوتا اور وہ اس ترمیم کے دفاع میں بات بھی کرتے ہیں۔ تاہم کچھ عرصہ سے وہ خاموش سے ہیں۔ شاید حالات کا مکمل جائزہ لے رہے ہوں، اب سینٹ اجلاس متوقع ہے تو ان کی موجودگی سے پتہ چل جائے گا کہ وہ کیا کہتے ہیں۔

جہاں تک 18 ویں ترمیم کے حوالے سے برسر اقتدار جماعت کے تحفظات کا تعلق ہے تو یہ سربراہ جماعت وزیر اعظم عمران خان سے ہی منتقل ہوئے محسوس ہوتے ہیں قارئین ذرا ملک کی پارلیمانی (جمہوری) تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ ہمارے ملک میں حضرت قائد اعظم اور لیاقت علی خان (شہید) کے بعد آنے والی ساری کی ساری مرکزی قیادت اختیارات کے ارتکاز کے حق میں رہی ہے۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے سابق وزیراعظم محمد نوازشریف بھی اسی سوچ کے حامل رہے اس کا زندہ ثبوت 15 ویں ترمیم ہے۔ جو بوجوہ منظور نہ ہو پائی کہ حکومت ہی ختم ہو گئی ورنہ دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت کی حامل جماعت کے لئے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ترمیم منظور ہوتی اور نظام خلافت کا نفاذ ہو جاتا زیادہ تفصیل جانے بغیر حالات حاضرہ کی روشنی میں بھی یہی ذہن کار فرما ہے جو عملاً بروئے کار بھی ہے۔ کپتان خاندانی سیاست اور اختیارات کے ارتکاز کے ہمیشہ خلاف رہے اور بہت بڑے نقاد بھی تھے، تاہم اگر عملی صورت کا جائزہ لیا جائے تو یہاں بھی صورت حال وہی ہے، مشاورت کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے لیکن ہر فیصلہ سربراہ کی منظوری ہی کا مرہون منت ہوتا ہے اور اختیارات کی تقسیم کے تمام داعی بات شروع کرتے وقت وزیر اعظم کے ذکر سے شروع کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے فرزند راولپنڈی لال حویلی والے شیخ رشید بھی انہی کے لئے رطب الاسان رہتے ہیں۔

خود وزیر اعظم کی اپنی صورت حال یہ ہے کہ وہ صبح سو کر اٹھنے کے بعد سے رات سوتے وقت تک اجلاس کے بعد اجلاس کی صدارت کرتے اور ”میں“ کا استعمال بھی بہت کرتے ہیں اس میں ”نہیں چھوڑوں گا“ والے فقرے پر تو بہت زور بھی دیا جاتا ہے۔ یوں خیالات اور اظہار کچھ بھی ہوں اختیارات کے معاملے پر ذہن یکساں ہی کام کرتے ہیں اور ابھی بھی تنازعہ یہی ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں میں سے صرف ایک صوبے کے باعث یہ احساس ہوا کہ اختیارات کی تقسیم تو غیر مناسب ہے۔ کورونا وبا ہی کے معاملے پر سندھ حکومت سے اختلافات سامنے آئے تو یہ احساس ظاہر کیا گیا کہ یہ سب 18 ویں ترمیم کے تحت دیئے گئے صوبائی اختیارات کے باعث ہے کہ وفاقی حکومت سے دو قدم آگے جانے والی بات ہوئی اور اب بلاول بھٹو بھی اسی صوبائی حکومت کے دفاع میں قرنطینہ میں ہوتے ہوئے بھی سرگرم ہو گئے اور ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ناگوار گزرتے ہیں اس لئے سوچا گیا کہ یہ سب 18 ویں ترمیم کا کرشمہ ہے۔ اگر اس میں مزید ترمیم کر کے صوبائی اختیارات کو محدود کر لیا جائے تو یہ قلعہ بھی ”فتح“ ہو سکتا ہے جسے سر کرنے کی بوجوہ اجازت نہیں ملی کہ اجازت سے سندھ حکومت تبدیل تو ہو سکتی تھی اور ہے لیکن ملک میں سیاسی توازن بالکل ہی ختم ہو جاتا بین الاقوامی سطح پر منہ دکھائی کے لئے یہ انتظام ضروری ہے۔

اب مسلم لیگ (ن) کے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ 18 ویں ترمیم میں ترمیم کی مخا لفت کی جائے گی۔ اگر اس فیصلے پر عمل درآمد اس کی روح کے مطابق ہو تو پیپلزپارٹی کے ساتھ مل کر ترمیم کی خواہش کو ناکام بنایا جا سکتا ہے کہ ترمیم میں مزید ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہے تاہم ہمارے شہر دار کیا محلے دار با خبر اور اہل بھائی کی رائے صائب ہے کہ تجربہ اور ماضی شاہد ہے کہ اگر ترمیم کے لئے اجازت مل گئی تو پھر چند لمحوں میں متفقہ ترمیم اور چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی جیسا عمل ہو سکتا ہے۔ ہماری رائے اور تجربہ بھی یہی ہے کہ ایک لمحے میں پیپلزپارٹی میں سے ’پیٹریاٹ‘ برآمد کر لئے گئے اور ایسے ایسے حضرات پیٹریاٹ نکلے جن کی ذات کے بارے میں ہمیں بھی کبھی شبہ نہ ہوا کہ ان کی وفاداری بے مثل تھی اور ہمارے اچھے دوست بھی تھے لیکن ہوا تک نہ لگی۔ اگرچہ بعد میں ان میں سے ایک دوست نے ہم پر اعتماد کیا اور بتا دیا کہ واپسی نا ممکن ہے، حالانکہ ان پیٹریاٹ کے گرو کا موقف یہ چل رہا تھا کہ گروپ محترمہ کے ساتھ اور ان کو واپس لانے کے لئے بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ خود پیپلزپارٹی ہی کو سندھ حکومت جانے اور جام صادق کے ہاتھوں تکلیف برداشت کرنے کا الگ تجربہ ہے یوں بھی آصف علی زرداری ماضی سے آگاہ اور ”تعاون“ کرتے رہے ہیں۔ اس لئے اگر پیا نے چاہا تو سہاگن، سہاگن ہی رہے گی ا ور ترمیم بھی ممکن ہو گی، اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس میں بھی وہ فارمولا کہ ”توازن“ برقرار رہنا چاہئے اس میں تا حال کوئی تبدیلی نہیں، ورنہ حزب اختلاف کی ان دو جماعتوں کی بوتلوں میں سے ”جن“ کی برآمدگی کوئی مشکل کام نہیں، تاہم حالات کا تقاضہ یہ نہیں اس لئے بات افہام و تفہیم ہی سے ہوگی اور یہ نا ممکن نہیں اس کے لئے کچھ لو اور کچھ دو والی بات تو کہی ہی جا رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -