کرونا کے خلاف جنگ اور اٹھارہویں ترمیم

کرونا کے خلاف جنگ اور اٹھارہویں ترمیم
کرونا کے خلاف جنگ اور اٹھارہویں ترمیم

  

اس وقت جبکہ پوری دنیا کی طرح پاکستان بھی کرونا کی تباہ کاریوں کا شکار ہے اور دن بدن نہ صرف اس کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے بلکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے‘ معیشت پر جو منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور سماجی زندگی جو متاثر ہو رہی ہے‘ وہ اس پر مستزاد۔ اس وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ کام کسی متحدہ اور مشترکہ لائحہ عمل کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکنا اس لئے ضروری ہے کہ صحت مند آبادی کو کرونا وائرس سے لگنے والی بیماری سے محفوظ رکھا جا سکے۔ لیکن بجائے اس کے کہ قومی قیادت مل بیٹھ کر ایسا کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرے‘ ہمارے ملک میں ایک عجیب سی نئی کشمکش شروع ہو چکی ہے۔ یہ کشمکش دو طرح کی ہے۔ ایک ہے وفاق اور سندھ میں عدم تعاون کی کشمکش اور دوسری ہے اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تبدیلی لانے یا نہ لانے کی بے وقت کی راگنی۔

ابھی ٹھیک طرح سے معلوم نہیں کہ وفاقی حکومت اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تبدیلی کیوں لانا چاہتی ہے لیکن اس بارے میں کئی طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہا جا رہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں اور وفاق کے درمیان ٹیکسوں سے حاصل کئے گئے ریونیو کی تقسیم میں وفاق کے لئے کم حصہ رہ جانے کی وجہ سے حکومت بے چینی محسوس کر رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اٹھارہویں آئینی تریم کے تحت بہت سے ایسے اختیارات‘ جو پہلے وفاق کو حاصل تھے اور جن کا ذکر کنکرنٹ لسٹ میں موجود تھا‘ صوبوں کو تفویض کر دئیے گئے‘ جس کے نتیجے میں صوبے اپنے داخلی معاملات کے حوالے سے زیادہ خود مختار ہو گئے اور وفاق کے اختیارات میں کمی آئی۔ یہ کمی ہی دراصل موجودہ حکومت کو بے چین کئے ہوئے ہے۔ اڑتی اڑتی یہ بھی سنی گئی کہ چونکہ وفاقی حکومت کرونا وبا کے معاملے کو ٹھیک طریقے سے ہینڈل نہیں کر سکی؛ چنانچہ وہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا معاملہ سامنے لا کر اس نا اہلی اور ناکامی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اصل وجہ کیا ہے؟ واللہ اعلم۔

اگر اٹھارہویں آئینی تریم میں تبدیلی لانے کے پس منظر میں یہی وجوہات کارفرما ہیں تو عرض ہے کہ اس ترمیم کے تحت محض کنکرنٹ لسٹ کا خاتمہ ہی نہیں کیا گیا تھا اور صرف وفاق کے کچھ اختیارات صوبوں کو تفویض نہیں کئے گئے تھے‘ بلکہ یہ ترمیم ایک پورا پیکیج تھا جس کے تحت 1973 کے آئین میں تقریباً 100 کے قریب تبدیلیاں کی گئی تھیں‘ جو آئین کے 83 آرٹیکلز پر اثر انداز ہوتی تھیں۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم میں کون کون سے معاملات کو ٹچ کیا گیا تھا اور کیا بیک جنبش قلم ان کو تبدیل کرنا مناسب رہے گا یا ممکن ہے؟

اٹھارہویں آئینی ترمیم 8 اپریل 2010 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کی تھی۔ سب جانتے ہیں کہ تب آصف علی زرداری پاکستان کے صدر تھے۔ انہوں نے رضا کارانہ طور پر اپنے اختیارات سے دست برداری اختیار کی اور اس طرح اٹھارہویں ترمیم سے صدر کے پاس موجود تمام ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کے پاس چلے گئے۔ چونکہ وزیر اعظم سربراہ حکومت اور قائدِ ایوان ہوتا ہے لہٰذا زیادہ تر اختیارات اسی کے پاس چلے گئے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے شمالی مغربی سرحدی صوبے کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخوا رکھا گیا اور وفاق سے کچھ اختیارات صوبوں کو منتقل کئے گئے۔ علاوہ ازیں جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں کی گئی آئینی ترامیم کو ختم کر دیا گیا۔

یاد رہے کہ جنرل ضیا کے دور میں 8ویں ترمیم کے تحت 1973 کے وفاقی آئین میں 90 سے زیادہ آرٹیکلز میں کمی بیشی کی گئی تھی۔ پرویز مشرف کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔ علاوہ ازیں مستقبل میں کسی بھی مارشل لا کا راستہ بند کرنے کے اقدامات کئے گئے‘ دو صوبہ جات کے نام کے انگریزی ناموں کے سپیلنگز میں تبدیلی کی گئی‘ ججز کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی گئی۔ پھر بجلی کی پیداوار‘ قومی فنانس کمیشن، قدرتی گیس، صوبائی قرضہ جات، ہنگامی صورت حال کا نفاذ اور دیگر متعدد معاملات صوبائی اختیار میں دے دیئے گئے۔ اس ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام حکومت واپس لاگو یعنی نافذ کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھی اس ترمیم کے تحت متعدد فیصلے کئے گئے۔ سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تبدیلی لانے کی خواہش مند قوتیں درج بالا تمام معاملات کو تبدیل کرنے کی خواہش مند ہیں یا کچھ مخصوص شقوں میں تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو ایک ہنگامی صورتحال میں بھی اس ترمیم کا پینڈورا باکس کھولنے کی خواہش مند ہیں۔

ایک سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اور اکثریت رائے سے منظور کی تھی‘ کیا موجودہ حکومت کے پاس اتنی اکثریت ہے کہ اس ترمیم میں مزید ترمیم کی جا سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت جبکہ پورا ملک کرونا کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے‘ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں اور قومی معیشت پر اس کے منفی اثرات نہایت واضح طور پر محسوس کئے جا سکتے ہیں‘ آخر اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تبدیلی لانے کی حکومت کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ کیا اس کے لئے کرونا کی وبا پر قابو پانے اور ملک کے اقتصادی حالات میں بہتری آنے تک انتظار نہیں کیا جا سکتا؟ اس سوال کا جواب تلاش کر لیا گیا تو اور بھی بہت سے سوالوں‘ جو عوام کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں‘ کے جواب بھی خود بخود سامنے آ جائیں گے۔ پھر ایک اور اہم معاملہ یا مسئلہ یہ ہے کہ کیا اپوزیشن کی جماعتیں اٹھارہویں آئنی ترمیم میں کوئی تبدلی لانے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں گی یا نہیں۔ اس ترمیم میں کوئی تبدیلی لائی جا سکے گی یا نہیں‘ پہلے سوال کے جواب میں ہی اس دوسرے سوال کا جواب پوشیدہ ہے۔

مزید :

رائے -کالم -