پاسے کا سونا

پاسے کا سونا

  

تین گہرے دوست تھے وہ تین دوست کون تھے وہ دوست علم، دولت اور عزت تھے اور اُن کی دوستی کافی دیر سے چل رہی تھی اچانک اُن کے بچھڑنے کا وقت آن پہنچا۔امام غزالیؒ احیاء العلوم میں ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے جس سے مرضی دوستی کر لو ایک دن جدائی ہے۔ اُن تینوں پر بھی ایسے ہی لمحے آن پہنچے تھے۔ آخری لمحات میں اُن کی آپس میں کچھ اس طرح بات چیت ہوئی۔علم کہنے لگا کہ مجھ سے بچھڑنے کے بعد تم دونوں جب چاہو مجھ سے مل سکتے ہو مگر میں تم کو لائبریریوں۔ مکتبوں، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں یا پھر علم والوں کے پاس سے مل جاؤں گا مگر میری ایک شرط ہے کہ مجھے حاصل کرنے کے لیے تم کو پورا وقت لگن، جستجو اور محنت سے کوشش کرنی ہو گی۔ یہ تمھاری اپنی محنت ہے کہ تم کہاں تک کوشش کرتے ہو۔

حتیٰ کہ تم میری تلاش میں دنیا کی سب سے بڑی لائبریری برٹش لائبریریBritish Library جو کہ یونائٹڈ کنگڈمUnited Kingdom میں ہے اور جس کے اندر 170ملین کتابیں موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ہزار نو سو ستر ملازمین اُس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اس تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرو گے یا پھر اپنے محلّے کی ایک چھوٹی سی لائبریری تک محدود رہو گے۔علم زیادہ وضاحت سے کہنے لگا کہ یہ اب تم پر منحصر ہے کہ تم میری تلاش میں دنیا کی سب سے مشہور ورلڈ رینکنگWorld Ranking میں پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والی یونیورسٹیوں کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی California Institute of Technology اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ University of Oxford تک آنے کی کوشش کرتے ہو یا پھر اپنے محلے کے کسی سکول یا جامعہ میں علم حاصل کرنا پسند کرتے ہو۔ آخر میں علم اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر یہ دونوں کام نہ کر سکو تو اپنے ارد گرد کسی علم والے کو ہی تلاش کر لو۔سیانے لوگ کہتے ہیں کہ کسی علم والے کے پاس ایک گھنٹہ علم سیکھنا دس سال کے مطالعے سے زیادہ بہتر اور نایاب طریقہ ہے۔

پھر دولت نے اپنی بات شروع کر دی اور کہنے لگی کہ اگر تم دونوں کو مجھے پانے کی خواہش اور تڑپ ہو یا میرے لیے تم میں سے کسی کا دل بے تاب ہو تو وہ مجھے بادشاہوں کے محلوں میں، وزیروں اور امیروں سے دوستی کرنے یا پھر ریسرچ کے مطابق اپنی زندگی میں مسلسل کم از کم دس سال تک محنت کرنے سے حاصل کر سکتے ہو۔دولت کہنے لگی تم دونوں کو تو پتہ ہی ہے کہ میں جس کے پاس آ جاتی ہو ں اُس کی زندگی میں آسانیاں اور ذرائع پیدا کر دیتی ہوں۔میری سخاوت کے بغیر تو کوئی ولی بھی کامل ولّی نہیں بنتا۔7مئی 2014ء کو امریکہ کے فوربز میگزین میں دس امیروں کے بارے میں شائع ہونے والی فہرست کے مطابق اگر تمھاری اُن دس امیر اشخاص میں سے کسی ایک سے بھی دوستی ہو جائے جن میں مائیکروسافٹ کمپنی Mircosoft company کا اونر بل گیٹس Bill Gates جو کہ 77.1 بلین ڈالر کا مالک پہلے نمبر پر ہے جس کی عمر 58سال ہے چاہو تو اُس سے دوستی کر لو یا پھر کسی بھی بڑی بڑی کمپنی میں ملازمت حاصل کر لو تو تم تب بھی مجھ کو کافی حد تک پا لو گے۔ دونوں کی یہ باتیں چل رہی تھیں مگر عزت کچھ نہیں بول رہی تھی تو دونوں اُس سے کہنے لگے کہ تم بھی کچھ کہو تم خاموش کیوں ہو! عزت نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ جب میں چلی جاتی ہوں تو پھر واپس نہیں آتی۔

انسان زندگی میں اگر علم کھو بھی دے تو اُس کو دوبارہ پاسکتا ہے۔ اس طرح اگر دولت کو بھی زندگی میں کھو دے تو محنت اور جدو جہد سے دوبارہ حاصل کر سکتا ہے مگر کردار کریکٹر Character ایک ایسی نایاب اور ہیرے جیسی چیز ہے کہ اگر یہ انسان کے پاس سے چلی جائے تو کبھی دوبارہ واپس نہیں آتی۔ کردار ہی پاسے کا سونا،صباء کی موج، صبح کا اُجالا اور روشی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -