فراز ہمیشہ سرفراز رہتے ہیں

فراز ہمیشہ سرفراز رہتے ہیں
فراز ہمیشہ سرفراز رہتے ہیں

  

جب ہم نے یہ سنا کہ شبلی فراز وزیر اطلاعات بنا دیئے گئے ہیں تو دِل میں جناب احمد فراز کے ساتھ گزری کئی شاموں کی یاد تازہ ہو گئی،کیونکہ فراز ہمیشہ سرفراز رہتے ہیں۔تبدیلی سرکار نے بہت کچھ تبدیل کیا ہے، لیکن یہ واحد تبدیلی ہے،جو ملک کے پڑھے لکھے لوگو ں کو پسند آ رہی ہے۔مجھے احمد فراز کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا شرف حاصل ہے سابق وفاقی وزیر اور فواد چودھری کے ’انکل‘ جناب شہباز چودھری کی دعوت پر ہم نے جدہ میں احمد فراز کے ساتھ مشاعرہ پڑھا ان کے ساتھ دیگر نشستوں کی بھی عزت حاصل کی اور ان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ شہباز چودھری صاحب بھی بڑے ادب پرور اور سخن شناس ہیں الریاض کے ایک مشاعرہ میں ان سے ملاقات ہوئی جہاں راقم السطور کو ایک نظم پڑھنے کے بعد انہوں نے دادِ تحسین سے نوازا اور جدہ کی دعوت دی شعراء کرام سے شہباز چودھری صاحب کی محبت دیرینہ اور مثالی ہے۔احمد فراز کے لہجے میں جو مٹھاس تھی شبلی فراز میں اس کی جھلک واضح دیکھی جا سکتی ہے۔پی ٹی آئی سے وابستگی کے باوجودشبلی فراز ایک دھیمے مزاج کے سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں، جو حزبِ اختلاف پر تنقید کرتے ہوئے بھی شائستگی کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے والی بیشتر کمیٹیوں میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔

شبلی فراز صاحب پہلی بار 2015ء میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے،جبکہ 2018ء میں انہیں سینیٹ میں قائد ایوان منتخب کیا گیا۔شبلی فراز اکثر ٹی وی شوز میں اپنی جماعت کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں، لیکن اپوزیشن کے بیشتر ارکان سے ان کے دوستانہ تعلقات بھی ہیں جو ان کی اعتدال پسند طبیعت کا مظہر ہیں اور یہی ایک نفیس سیاست دان کی پہچان بھی ہے۔سینیٹر شبلی فراز پاکستان کے معروف شاعر دانشور احمد فراز مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔اِس لئے تجزیہ نگار سوچ رہے ہیں کہ اب حکومت کا ترجمان تلخ کی بجائے شیریں لہجے اور اچھے طرز عمل سے میڈیا اور مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے گا۔ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے شبلی فراز صاحب کے ساتھ جناب لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا انتخاب کرکے معاملات میں اور بھی لطف پیدا کر دیا ہے۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ صاحب ایک بہترین جرنیل ہیں ساتھ سیاسی حقیقتوں کے ماہر بھی ہیں اور عوامی مسائل پہ قابو پانے کا ہنر بھی جانتے ہیں انہیں عوامی زندگیو ں میں ہونی والی مشکلات اور مسائل کا ادراک بھی ہے اور قومی وقار کا خیال بھی ہے انہوں نے ساری زندگی محاذ جنگ یا کنومنٹ ایریاز میں گزاری ہے اس وجہ سے وہ ملک دشمنوں سے واقف ہیں اور ملک کا دفاع کیسے کرنا ہے یہ بھی جانتے ہیں اور ملکی معاملات کو بھی سمجھتے ہیں۔ملک بھر میں عاصم باجوہ صاحب اور شبلی فراز صاحب کی تعیناتی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے،قوی امید ہے کہ ان دونوں صاحبان علم و ہنر اور واقفانِ حال کی تعیناتیاں ملک کی سیاسی صورتِ حال کو یکسر بدل کر خوشگوار کر دیں گی۔

جمہوری سیٹ اَپ میں وزیر اطلاعات کسی بھی حکومت کا آئینہ ہوتا ہے۔پاکستان میں جب تک سرکاری ٹی وی کا دور دورہ تھا تب تک وزیر اطلاعات کے چرچے بہت کم سننے کو ملا کرتے تھے۔ قوم صرف چند سیاست دانوں کو ہی جانتی تھی۔ملک میں کہیں کوئی ہڑتال ہونا ہوتی تو سرکاری ٹی وی ہڑتال سے ایک دن پہلے کھلی دکانوں کی ویڈیو بنا کے ہڑتال والے دن چلا کے عوام کو بے وقوف بنادیا کرتا کہ دیکھ لو سب بازار تو کھلے ہیں۔ابھی موبائل فون بھی عام نہیں ہوا تھا اس لئے لوگ سرکار کا نقطہ نظر ماننے پہ مجبور ہو جاتے تھے،لیکن جب سے خیر سے پرائیویٹ چینلز کی یلغار ہوئی ہے۔ ہمیں صبح سے شام تک وزیراعظم، صدر،اور باقی سیاست دانوں کے جی بھر بھر کے درشن ہوتے ہیں۔ہر کوئی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ ملک کی بہتر خدمت کر رہا ہے۔پچھلی ادوار میں کمزور حکومتی ردعمل کے بعد وزیراعظم کو بدل دیا جاتا تھا،لیکن اس حکومت میں تھنک ٹینک نے یہ طے کر لیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کو تبدیل نہیں کرنا ہے جو خوش آئند بھی ہے شبلی فراز ایک سیاست دان ہیں اور ایک بڑے شاعر دانشور کے صاحبزادے ہیں انہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی میڈیا سے بات چیت کو ادب سے ہم آہنگ کر دیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں تبصروں اور تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ صرف حکومت نہیں،بلکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی وزارتِ اطلاعات میں آنے والی تبدیلی کا خیر مقدم کیا ہے۔ شبلی فراز کو وزیر اطلاعات بنانے کا میڈیا میں بھی خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹوئٹ میں ان خبروں کی تردید کی، جس میں ان پر وزارتِ اطلاعات میں کرپشن کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکن کی حیثیت سے میرا نصب العین ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح ہے۔

مجھے پختہ یقین ہے کہ شبلی فراز صاحب اور جناب عاصم سلیم باجوہ صاحب اطلاعات کی دُنیا میں خوشخبریوں کے سلسلوں کو دوام بخشیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -