خیال رکھیے، یہ انبیاء کے وارث ہیں

خیال رکھیے، یہ انبیاء کے وارث ہیں
خیال رکھیے، یہ انبیاء کے وارث ہیں

  

پچھلی دفعہ ذکر کیا تھا کہ لکھنے سے قبل میں نے دنیا بھر میں اپنے روابط سے کام لے کر یہ معلومات لیں کہ کرونا کے اس بحران اور مصنوعی ہیجان میں کن ممالک کی مساجد کس حال میں ہیں۔ اسی تحریر میں واضح کیا جا چکا ہے کہ مساجد کھولنے کے معاملے میں پاکستان دنیا میں اکیلا نہیں ہے، متعدد دیگر ممالک میں مساجد میں، احتیاطی تدابیر کے ساتھ معمول کی عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہندوستان سے خانوادہ مولانا منظور نعمانی صاحب رحمہ اللہ علیہ میں سے ایک محترم دوست نے تبلیغی جماعت کے ایک معزز رکن کا صومالیہ سے موصولہ خط ارسال کیا جو قدرے طویل ہے، لہذا اس کا متعلقہ حصہ ہی نذر قارئین ہے۔ یہ خط 29اپریل یعنی ہمارے پانچویں روزے کو لکھا گیا۔ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ آبادی کا ملک صومالیہ افریقہ میں واقع ہے جس کی تقریبا سو فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ خط ملاحظہ ہو۔

"یہاں زندگی معمول کے مطابق ہے۔ مساجد آباد، بازار مکمل کھلے ہیں. زندگی کا ہر شعبہ آباد و شاداب ہے جس کی وجہ میری ناقص رائے میں ان لوگوں کا کبیرہ گناہوں سے پاک ہونا اور ان کی مساجد کا آباد ہونا ہے۔چار سالہ بچے سے 85 سالہ بوڑھے تک ہر فرد نماز مسجد میں ادا کرتا ہے۔ اتنی کثرت سے قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں کہ گویا ان لوگوں کے رگ و ریشہ میں قرآن کی تلاوت اتری ہوئی ہے۔ گھروں کے پاس سے گزرو تو عورتوں کے قرآن پڑھنے کی آواز آتی ہے۔۔۔۔۔۔ آج ساری دنیا انتشار کا شکار ہے اور یہ لوگ پرسکون ہیں۔ ساری دنیا کی مساجد ویران اور ان لوگوں کی مساجد آباد ہیں۔ مہمان نواز اتنے کہ مہمان کے اوپر اپنا سب کچھ نچھاور کرنا ان کا وطیرہ ہے۔ جب ان لوگوں کو پتہ چلا کہ(تبلیغی) جماعت والوں کے اوقات پورے ہوچکے ہیں اور جماعت والے بڑا محدود خرچہ لے کر نکلتے ہیں اور بعض جماعتوں کا زادِراہ بھی ختم ہو چکا ہے تو انہوں نے اپنا سب کچھ جماعتوں پر نچھاور کرنا شروع کر دیا اور انصار مدینہ کی یاد تازہ کردی۔ چند جملے شاید میں ساری زندگی نہ بھول سکوں: 'ہمارے شہر تمہارے شہر، ہمارے گھر تمہارے گھر،ہماری مساجد تمہاری مساجد، تم ہمارے بھائی اور ہم تمہارے خادم ہیں۔۔۔۔۔۔'. ہاں یہ بھی یاد رکھ لیجئے کے ہمارے یہ صومالی بھائی اتنے ملا مسیتڑ بھی نہیں ہیں۔ یہ صومالیہ وہی ملک ہے کہ جس میں جنرل فرح عدید نے بائیس امریکی فوجیوں کو جیپ کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا تھا۔ اس کے بعد امریکہ وہاں سے کسی طالبانی معاہدے کے بغیر ہی اڑنچھو ہو گیا تھا۔

جب میں نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیا تو اس وقت مختلف سرکاری و معاشرتی زمروں کی تربیت کا کام بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دونوں اکیڈمیوں کے ذمہ تھا۔ مساجد کے ائمہ حضرات کی تربیت بھی ہمارے ذمے تھی۔ چار ماہ کے تربیتی دورانیے میں تین چار دنوں کے لئے ان ائمہ کو آزادکشمیر، پشاور، لاہور، سوات وغیرہ کے مطالعاتی دورے پر لے جانے کی روایت بھی رہی ہے۔ یک بیک ایک دن استاد مکرم جناب ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب مرحوم کا فرمان آیا کہ آزاد کشمیر کی طرف اس دفعہ یہ گروپ آپ لے کر جاؤ گے۔ اس شعبے سے میرا تعلق بہت کم تھا اس لیے کچھ تعجب سا ہوا۔مجھے تو اس کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے خیال میں اس طرح اس شخص کے اندر سے جدید رجحانات شاید کچھ کم ہو جائیں۔ غالباً یہ قصہ 1990 کا ہے. کچھ الجھن سی ضرور ہوئی کہ سفر میں مولویوں سے نباہ کیسے ہوگا۔ اور مولوی بھی ایسے کہ ہر مسلک موجود، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث سب کے سب بس کی ایک چھت کے نیچے حاضر ناظر۔ کچھ سیروسیاحت کا شوق تو کچھ ملازمت کے تقاضے اور کچھ یہ داعیہ کہ ایسے تو ایسے ہی سہی، دیکھیں گے مولوی میرا کیا کر لیں گے۔

تین عشروں پر پھیلی اپنی تدریسی زندگی میں جن لوگوں کے ساتھ میں نے تین تا پندرہ دن اندرون اور بیرون ملک سفر کیے انہیں آپ ذہن میں رکھ لیں تاکہ بات آگے بڑھانے میں آسانی رہے۔ یہ تربیتی زمرے یہ تھے: عدلیہ میں سے سول جج، سینئر سول جج، سیشن جج، پراسیکیوٹر، ڈسٹرکٹ اٹارنی، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، کپتان سے بریگیڈئر تک فوجی افسران، ڈی ایس پی سے ایس ایس پی تک پولیس افسران، جامعات کے لیکچرر تا پروفیسر، مدارس کے مفتی، مساجد کے امام اور حتی کہ بیرونی ممالک سے مسلم اقلیتی کمیونٹی لیڈر جن میں سیاہ فام،سفید فام، ہر ہر رنگ اور ہر ہر نسل کے لوگ شامل ہیں۔ یہ دورہ آئمہ کی بجائے آج تک میرے لیے "مطالعہ ائمہ مساجد" یا مطالعہ علما ثابت ہوا۔ اس سفر کا "حاصل مطالعہ" یا "نتائج تحقیق" بس ایک جملے میں ختم کرتا ہوں: "ان علماء کا مسلک کوئی بھی ہو، اس ملک کے اصل رہنما یہ علماء کرام ہی ہیں، یہ علمائے کرام اور بس "!

اپنی ساری تدریسی زندگی مذکورہ بالا زمروں کے ساتھ سفر میں گزری اور آج تیس سال بعد بھی مجھے اپنی اس رائے سے رجوع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ رائے پختہ سے پختہ ترہوتی چلی گئی۔ حتیٰ کہ کرونا کے اس موجودہ مصنوعی ہیجان میں یہ رائے پختہ ترین ہوگئی ہے کہ یہ علمائے کرام ہی ہمارے رہنما ہیں۔ یہی لوگ انبیاء کے وارث ہیں۔ ملک کی رہنمائی اور بھاگ دوڑ کے صحیح حق دار یہی لوگ ہیں۔ اگر کوئی شخص اس کی وضاحت چاہے تو وہ کی جاسکتی ہے لیکن مناظرے کے داؤ پیج نہ مجھے آتے ہیں اور نہ مجھے دوسروں پر اپنی رائے ٹھونسنے کا سلیقہ ہے۔ یہ میری زندگی کا حاصل ہے جس پر میں گزشتہ 30 سال سے قائم ہوں۔ یہ رائے کسی مناظر سے ہار کر بھی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ چوٹ کھا کر درد کابیان ہو یا حج عمرے سے حاصل حلاوت کا ذکر ہو، کسی کے بالعکس دلائل سے درد کی شدت کم ہوتی ہے اور نہ حج عمرے کا سرور تحلیل ہوتا ہے۔ ان علمائے کرام نے بس کچھ اسی طرح مجھے اپنی گرہ زلف میں اسیر زنداں کر رکھا ہے۔ یہ وضاحت البتہ ضروری ہے کہ میرے پورے خاندان (ننھیال, ددھیال, سسرال) میں کوئی ایک شخص ایسا نہیں جسے طبقہ علماء میں شمار کیا جا سکتا ہو۔

ان تین دنوں میں ان ائمہ مساجد کی شخصیت کے وہ گوشے میرے سامنے آئے جو صرف سفرہی میں سامنے آ سکتے ہیں، درجنوں کتابیں پڑھ کر بھی حاصل نہیں ہو سکتے۔ مجھے اس سے انکا ر نہیں کہ لوگوں کا ایک معتدبہ حصہ بعض ائمہ مساجد اور علماء کی آراء، حرکات اور کئی دیگر امور کے باعث تمام طبقہ علماء کو پسند نہیں کرتا۔ ایسے افراد کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ڈیڑھ پونے دو ارب مسلمانوں کی آبادی میں سے ان مسلمانوں کا تناسب شاید ایک فی لاکھ بھی نہ ہو جو غیر مسلموں کو متاثر کرسکیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی مہذب آبادی مسلمانوں کے بارے میں جو رائے رکھتی ہے، اسے عمومیت کا درجہ دینا بھولپن کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اپنے علاج کے لیے آپ کسی بہترین معالج کا انتخاب کرتے ہیں تو کیوں نہ دینی امور میں رہنمائی کے لیے کسی بہترین عالم دین سے رجوع کیا کریں۔

کیا ضروری ہے کہ گلی محلے کے کسی نیم خواندہ مولوی کو عالم دین سمجھ کر اس سے نکاح، طلاق، وراثت اور سودی بینکاری جیسے پیچیدہ امور پر رہنمائی لی جائے؟ آئمہ کرام سے معاملہ کرنے والے کئی لوگوں کا مخمصہ یہ ہے کہ کسی عالم دین سے رجوع کرنے پر جب ان لوگوں کو حسب خواہش رائے نہ ملے تو وہ اجتہاد کا تقاضا کرتے ہیں۔ اجتہاد سے مراد ان کی یہ ہوتی ہے کہ جو رائے ان کو درکار ہو، مولوی صاحب انہیں کسی فقہی لفافے میں ڈال کر اس طرح دیں کہ انہیں پسند بھی آجائے۔ مولوی کی معاشی کسمپرسی بھی اس پسند ناپسند میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی انہیں غیر شعوری طور پر شودر یا دلت یعنی کم ترین درجے پر دیکھتی ہے، چاہے وہ اس کا اظہار کرے یا نہ کرے۔

اوپر میں نے ان زمروں کا ذکر کیا ہے جن کے ساتھ مجھے سفر کے مواقع ملے۔ آج تیس سال بعد میں ان زمروں اور علمائے کرام کا موازنہ بیان کروں تو تفصیل میں جائے بغیر چند باتیں ہی کافی ہیں۔ ائمہ مساجد کو میں نے بے حدانسان دوست، متحمل صابر، شاکر، تھوڑے پر گزارہ کرنے والا، استاد اور چھوٹے بڑے کا احترام کرنے والا ہی پایا۔ یہاں میں ان کے مسلکی مسائل اور مناظرانہ انداز گفتگو کو نظر انداز کرکے صرف انسان ہونے کے ناتے سے گفتگو کر رہا ہوں۔ یہ بات ایک مثال سے بخوبی واضح ہو جائے گی۔ ایک دن آئمہ مساجد کی کلاس میں گیا۔ لوڈشیڈنگ کے باعث تین چار کو چھوڑ کر تمام ائمہ حضرات باہر راہداری میں کھڑے تھے۔مجھے دور سے آتے دیکھا تو ان میں ہلچل سی مچ گئی۔ ایک جملہ میں نے بھی سن لیا: "استاد جی آگیا ہے، بھئی چلو اندر چلو" کمرے کے اندر تمام کلاس حبس میں بیٹھی اور میری تدریس شروع ہو گئی۔ اگلے ہی دن سیشن ججوں، پراسیکیوٹروں اور کمشنروں کی کلاس میں گیا تو وہی لوڈشیڈنگ تھی۔ آدھی کلاس غائب، باقی موجود اصحاب باہر کھڑے ہف ہف کر رہے تھے، ادارے کو کوس رہے تھے، جگتیں بنا رہے تھے اور کلاس میں داخلے سے سب انکاری تھے کہ اندر حبس ہے۔ مجال ہے کہ میں نے ان طبقات میں کبھی تحمل، صبر، شکر، متانت یا برداشت پائی ہو یا انہوں نے ملکی وقارکا کبھی کسی جگہ خیال رکھا ہو۔ موقع ملا تو آئندہ کبھی اس پر تفصیل سے لکھوں گا۔ دوسری طرف آئمہ مساجد نے ہمیشہ متانت، بردباری، تہذیب و شائستگی، مروت اور سفارتکاری کی اعلیٰ روایات کا مظاہرہ کیا۔

ترکی کے ایک مطالعاتی دورے میں جج حضرات میرے ذمے تھے۔ مجال ہے، ان ججوں میں سے کوئی بات مانے۔اسی گروپ میں بھاگ ناڑی بلوچستان کے قاضی انور صاحب بھی تھے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ بلوچستان میں آج بھی قاضی عدالتیں سرکاری سطح پر کام کرتی ہیں۔ یہ قاضی صاحب دارالعلوم کراچی سے سند یافتہ "مولوی" تھے۔ قاضی انور صاحب گریڈ 21کے سینئر افسر تھے۔ مجال ہے کہ میری کہی ہوئی کسی بات سے رتی برابر انحراف کریں۔ وہاں چیف جسٹس سے ملاقات طے تھی۔ اس زمانے میں ترکی میں سر پر اسکارف لینا ممنوع تھا۔ ملاقات سے قبل ان کا پروٹوکول افسر مجھے ہدایات دے رہا تھا۔ اتفاق سے قاضی صاحب بھی سن رہے تھے۔ پروٹوکول افسر نے قاضی صاحب کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے کہا کہ وہ صاحب اپنے سر سے انگوچھا (پرنا) اتار دیں۔ قاری صاحب نے سنتے ہی میرے کہنے سے قبل انگوچھا اتار کر بریف کیس میں رکھ لیا حالانکہ میں نے چار ماہ میں انہیں ایک لمحے کے لیے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔

الگ بات ہے کہ قومی حمیت میں ابال آتے ہی میں نے اس پروٹوکول افسر کی طبیعت صاف کردی: "حضور! کچھ عرصہ قبل میں نے پاکستان میں آپ کی ایک وزیر اعظم محترمہ تانسو چیلر کی تصویر اپنے صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ دیکھی تھی جس میں اس خاتون کی ٹانگیں گھٹنوں تک ننگی تھیں جو ہمارے سلیقہ لباس کے خلاف تھا۔ ہمارے کسی پروٹوکول افسر نے تو انہیں ٹانگیں ڈھک کر آنے کی ہدایت نہیں کی، لھٰذا قبلہ گاہی! ہمارے یہ افسر اپنے سر پر اسکارف لے کر ہی اندر جائیں گے"۔ یہ کہہ کر میں نے قاضی صاحب کو حکم دیا:"جیسے تھے" قاضی انور صاحب نے فورا سر ڈھک لیا۔ چیف جسٹس تک پہنچتے پہنچتے دو تین دوسرے افراد نے قاضی صاحب کے سر سے رومال اتروانا چاہا لیکن مجال ہے کہ قاضی صاحب نے کسی کو اپنے قریب بھی پھٹکنے دیا ہو۔

یہ موضوع اور میرا نقطہ نظر اتنا تفصیل طلب ہے کہ میں اس پر آئندہ بھی انشاء اللہ لکھتا رہوں گا۔ آج اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ زمین کے اصل بیٹے یہی علماء کرام ہیں۔ بس انہیں ذرا اوپر اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ کسی سے ملازمت یا منصب وغیرہ کچھ نہیں مانگتے، اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ ہاں! اس پر ذرا ضرور غور کرلیں کہ پچھلے تین عشروں سے ریاستی ادارے اور مغربی ممالک ان دینی مدارس کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں۔ ایک طویل عرصے تک ان کے خلاف ہمارے ذرائع ابلاغ پر کردار کشی کی مہم یوں چلتی رہی کہ مدارس میں اسلحہ ہوتا ہے جس سے یہ لوگ طلباء کو تربیت دے کر دہشت گرد بناتے ہیں۔اور ہاں اگر کسی مدرسے سے کبھی اسلحہ وغیرہ برآمد ہوا ہو تو مجھے ضرور مطلع کریں۔ کبھی کبھی آپ خود بھی کسی مدرسے کا تفصیلی دورہ کرلیا کریں، ایک دوسری دنیا دیکھنے کو ملے گی۔

ایک وضاحت: اسلامک ریلیف آرگنائزیشن برمنگھم کے برادر عبدالمنان بھٹی صاحب نے میری گزشتہ سے پیوستہ تحریر کی طرف توجہ دلائی کہ مولانا عبدالقادر روپڑی وفات پا چکے ہیں جبکہ میں نے نماز باجماعت والے حالیہ فیصلوں میں انہیں شریک ظاہر کیا ہے۔ یہ غلطی کتابت کے باعث سرزد ہوئی۔ حالیہ فیصلے میں شریک مولانا عبدالغفار روپڑی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -