تھیلیسیمیا ڈے Covid-19کے تناظرمیں

تھیلیسیمیا ڈے Covid-19کے تناظرمیں

  

ہر سال 8 مئی تھیلیسیمیا کا بین الاقوامی عالمی دِن تھیلیسیمیا کے مریضوں اور ان کے والدین کے ساتھ اِن مریضوں کے اعزاز میں منایا جاتا ہے۔ جو بیماری کے بوجھ کے باوجود اپنی زندگی سے نااُمید نہیں ہوتے۔ محقق اور محسن اس بیماری میں مبتلا مریضوں کا معیار زندگی بہتر بنانے اور مرض کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں۔انہی محسنو ں میں ایک ایسا نام جو زبان زدِ عام ہے۔ وہ منو بھائی اور سُندس فاؤنڈیشن کا ہے۔تھیلیسیمیا خون کی ایک موروثی بیماری ہے جنیاتی اعتبار سے تھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں ایک الفا تھیلیسیمیا اور دوسری بیٹا(Beta) تھیلیسیمیا۔ جبکہ مرض کی شدت کے اعتبار سے اس کو تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی تھیلیسیمیا میجر دوسری تھیلیسیمیا انٹر میڈیا اور تیسری تھیلیسیمیا مائنر ہے جسے کیرئیر بھی کہتے ہیں۔

ایسا جوڑا جو تھیلیسیمیا مائنر میں مبتلا ہو اگر آپس میں شادی کرلیں تو 25 فیصد متوقع ہے کہ آنے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ تھیلیسیمیا میجر کے مریض بچے کو پیدائش کے کچھ عرصے کے بعد سے ہی خون کا انتقال شروع ہو جاتا ہے اور تاحیات جاری رہتا ہے اِ س بیماری کا مکمل علاج بون میرو ٹرانسپلانٹ ہے یہ علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے متواتر خون کے انتقال کی وجہ سے مریض کے جسم میں فولاد کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کو ادویات کی صورت میں بر وقت جسم سے اخراج نہ کیا جائے تو مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

اِس سال تھیلیسیمیا کے دن کا موضوع

The dawning of a new era for Thalasseamia:)

Time for a global effort to make novel therapies accessible and affordable to patients ) جس کا مقصد تھیلیسیمیا کے لیے نئے دور کا آغاز: نئے علاج کو مریضوں تک رسائی اور قابل استعمال بنانے کے لیے عالمی کاوش کرنے کا وقت ہے۔اس سال یہ موضوع رکھنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حالیہ دور میں سائنس نے تھیلیسیمیا کے مرض پر جدید تحقیق کے ذریعے جو نئے علاج معالجے دریافت کئیے ہیں وہ ماہرین کی صلاحیتیں بروئے کار لا کر مریضوں کی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہے۔تاکہ اس مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کی جاسکیں۔

پاکستان میں تھیلیسیمیا کا مرض بڑھتا جا رہا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان تھیلیسیمیا میجر سے متاثرہ بچوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ہمارے مُلک میں نیشنل ڈیٹا بیس نہ ہونے کی وجہ سے تھیلیسیمیا سے متاثرہ مریضوں کی صحیح تعداد کا علم نہیں ہے۔ جبکہ ہر سال تقریباََ 6000 بچے تھیلیسیمیا کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ موروثی مرض سے متعلق عدم آگاہی کی وجہ سے اِس مرض کے پھیلنے کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ شادی سے پہلے لڑکا لڑکی دونو ں کا تھیلیسیمیا کیرئیر ٹیسٹ ہونا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو موزی موروثی مرض سے محفوظ کیا جاسکے بلکہ قومی شناختی کارڈ پر تھیلیسیمیا ٹیسٹ کا اندراج ہو تاکہ آنے والی نسلوں میں یہ بیماری منتقل نہ ہوسکے۔ پاکستان میں تھیلیسیمیا پر قانون سازی او ر اِ س پر عمل در آمد کی اشد ضرورت ہے۔کیوں کے ایران، مالدیپ، سائپرس وغیرہ میں مناسب قانون سازی کے ذریعے ہی تھیلیسیمیا کا تدارک ممکن ہُوا ہے۔یہاں پر یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ تھیلیسیمیا کے مضمون کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

اس بیماری کے ماہانہ علاج پر ادویات اور انتقال خون کی مد میں 25,000 سے 30,000 روپے خرچ آتا ہے۔ جو کہ ایک غریب آدمی کے لئے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے یہ خرچ مختلف فلاحی ادارے برداشت کرتے ہیں۔ یہ صرف اور صرف ارباب اختیار اور دیگر مخیر حضرات کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ سُندس فاؤندیشن جیسے ادارے نہ صرف اِن تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں لئے صحت مند انتقال خون کی فراہمی کو یقینی بنائے ہوئے ہیں بلکہ سُندس فاؤنڈیشن نے اس بیماری سے خاتمے کے لئے جدید مشینوں سے آراستہ لیبارٹری کا قیام اور ایک منصوبہ SUNMAC کو متعارف کروایا ہے جہاں پر روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کے لواحقین اور عوام الناس کو تھیلیسیمیا کیرئیر کے لئے مفت جانچہ جا رہا ہے تاکہ آنے والی نسلوں سے اس موذی بیماری کا خاتمہ کیا جاسکے اور صحت مند معاشرے کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔

تین دہائیوں سے پہلے اِس مرض میں مبتلا بچوں کی اوسط عُمر 08 سے 12 سال ہُوا کرتی تھی لیکن سُندس فاؤنڈیشن اور اِس جیسے دیگر اداروں کی بدولت بتدریج جدید ٹیکنالوجی، موثر ادویات، صحت مند خون اور معیاری علاج معالجہ کی بدولت اِ ن مریض بچوں کی عُمریں 35 سے 40 سال ہوچکی ہیں۔ اِن میں اکثر مریض بچے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرکے معاشرے کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں اور معاشرے پر بوجھ نہیں ہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ ملازمتوں پر فائز ہیں اور کئی اپنے کاروبار سے بھی منسلک ہیں۔

صدرپا کستان جناب ڈاکٹر عارف علوی صاحب نے کرونا کی وبا کے پیش نظر پیدا ہو نے والی صورت حال میں سُندس فاؤنڈیشن اسلام آباد سینٹر کا دورہ کیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان مشکل حالات کے باوجود سُندس فاؤنڈیشن دلجوئی سے بلا تعطل تھیلے سیمیا کے مریضو ں کی مدد کرنے میں کوشاں ہے۔انہوں نے سُندس فاؤنڈیشن کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مخیر حضرات کو سُندس فاؤنڈیشن کا بھر پور ساتھ دینا چاہیے تاکہ اس ادارے سے عوام الناس مستفید ہوتی رہے۔

بوجہ لاک ڈاؤن سُندس فاؤنڈیشن کو خون کے عطیات کی کمی کا سامنا تھا مشکل کی اس گھڑی دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری کی ایک آواز پر دعوت اسلامی کے ہزاروں کارکنوں نے سُندس فاؤنڈیشن کو خون کے عطیات دیے۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر شعیب دستگیر کے حکم پر بھی پولیس کے جوانوں اور افسران نے بھی خون کے عطیات کے ذریعے سُندس فاؤنڈیشن کی بھرپور مددکی۔ اس کاوش میں (سی پی او) راولپنڈی احسن یونس نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور تمام محکمے کے لیے جذبے کی مثال قائم کی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق (سی سی پی او لاہور)بی۔اے ناصر نے سُندس فاؤنڈیشن کے مریضوں کو پولیس لائن میں گارڈ آف آنر پیش کیا اور ساتھ ہی ساتھ ریڈ کارپٹ استقبال بھی کیا جس سے مریض بچے بے حد محضوظ ہو ئے۔

اسی طرح آئی جی اسلام آباد پولیس عامر ذوالفقار صاحب نے نہ صرف خود سُندس فاؤنڈیشن کو خون کا عطیہ دیا بلکہ تمام جوانوں اور افسران کو بھی خون کا عطیہ کرنے کی ہدایت کی۔

جیسا کہ سُندس فاؤنڈیشن پہلے سے ہی جدید لیبارٹری تکنیک APHRESISکے ذریعے ہزاروں ہیمو فیلیا کے مریضوں کے لیے بلڈ میں سے پلازمہ الگ کر کے ان کے علاج میں مدد کر رہا ہے۔ موجودہ Covid-19کی عالمی وبا سے متاثرہ مریضوں کی اس تکنیک (APHRESIS) کے ذریعے PASSIVE IMMUNIZATIONکے طریقہ علاج پر عمل کرکے سُندس فاؤنڈیشن اس تنا ظر میں بھی مریضوں کی مد دکر سکتا ہے۔

مزید یہ کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ تھیلے سیمیا کے مضمون کو نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ بیماری کی آگاہی پروان چڑھ سکے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے تھیلے سیمیا کے مریض بچوں کے لیے صحت انصاف کارڈ کا باقاعدہ اعلان کیا تھا لیکن اس پر ابھی تک کو ئی عمل درآمد نہیں ہو پایا مریض بچے اس مد میں ادویات کے منتظر ہیں۔باقی صوبائی وزرائے اعلیٰ کو بھی چاہیے کہ تھیلے سیمیا کے اداروں کی مدد کریں۔جناب وزیراعظم آپ نے ستمبر 2016میں منوبھائی کا ہاتھ تھام کر لوگوں سے کہا تھا کہ یہ منوبھائی پہلے صحافی ہیں جہنوں نے شوکت خانم کی مالی اور قلمی مدد کی تھی۔آپ نے سُندس فاؤنڈیشن آنے کا وعدہ کیا تھا آج بھی بچے آپ کا راہ دیکھ رہے ہیں آپ نہیں تو شبلی فراز صاحب کو سُندس فاؤنڈیشن بچوں سے ملنے کے لیے بھج دیں۔ آخر میں اُن تمام مخیر حضرات اور بلڈ ڈونرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو سُندس فاؤنڈیشن اور اِن جیسے اداروں کا ساتھ دیتے ہیں یا راہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -