فضلہ تلف نہ کرنے کا کیس،2ملزموں کی درخواست ضمانت مسترد

فضلہ تلف نہ کرنے کا کیس،2ملزموں کی درخواست ضمانت مسترد

  

لاہور (نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد نعیم اور جسٹس فاروق حیدر پرمشتمل ڈویژن بنچ نے صوبہ بھر کے ہسپتالوں اور کارخانوں سے زہریلا مواد اور فضلہ اٹھانے والی فرم کے دو پارٹنرز راجہ محمد اصغر اورحسن زاہد کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں،نیب لاہور نے ملزمان کو 9 دسمبر 2019 کو گرفتار کیا،عدالت نے قرار دیا کہ کیس کے حالات وواقعات کے مطابق درخواست گزار ملزمان نے ہسپتالوں اور کارخانوں سے فضلہ اٹھانے کا لائسنس حاصل کیا اورعلی ٹریڈرز ویسٹ مینجمنٹ کے نام سے فرم بنائی۔انہوں نے فضلہ اٹھانے والی مشینری انسنریٹر کی سو سے ڈیڑھ سو کلوگرام فی گھنٹہ تلف کرنے کی گنجائش ظاہر کی۔کئی ماہ تک مشینری کی گنجائش کے مطابق ہسپتالوں اور کارخانوں کا ویسٹ اٹھایا جاتا رہا،ملزمان نے بعد میں محکمہ تحفظ ماحولیات کے افسران سے ملی بھگت کرکے ظاہر کیا کہ مشینری کی تلف کرنے کی گنجائش ساڑھے تین سو سے چار سو کلوگرام فی گھنٹہ ہے،ہسپتالوں کا فضلہ تلف کرنے کی بجائے ملحقہ پلاٹ میں ڈمپ کیا جاتا رہا۔ہسپتالوں ور کمپنیوں کو کلیرنس سرٹیفکیٹ دے کر رقم وصول کی جاتی رہی،مشینری کی دوبارہ چیکنگ پر اس کی گنجائش سو سے ڈیڑھ سو فی کلوگرام گھنٹہ ہی نکلی۔ ہسپتالوں کا فضلہ تلف نہ کرنے کے باعث زہریلی گیسوں اور ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوا۔فضلہ تلف کرنے کے نام پر مختلف ہسپتالوں اور کارخانوں سے 524 ملین سے زائد رقم وصول کی گئی۔ملزم ضمانت کے حقدار نہیں،اس لئے ضمانت کی درخواستیں مسترد کی جاتی ہیں۔

ضمانت مسترد

مزید :

صفحہ آخر -