چودھری برادران کانیب کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرنیوالے بینچ پر اعتراض

چودھری برادران کانیب کیخلاف درخواستوں پر سماعت کرنیوالے بینچ پر اعتراض

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چودھری برادران کی طرف سے19 سال پرانی انکوائری دوبارہ کھولنے پر نیب کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں دائردرخواستوں کی سماعت کرنے والے فاضل بنچ پر اعتراض اٹھادیا،بنچ نے چودھری برادران کی درخواستوں کی سماعت کسی پیش رفت کے بغیر11مئی تک ملتوی کردی،درخواست گزاروں کی طرف سے مسٹر جسٹس فاروق حیدر کی بنچ میں شمولیت پر اعتراض کیاگیا،مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو حکومت کے اتحادی مسلم لیگ (ق)کے رہنما ؤں سپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اورسابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم نے درخواست گزاروں کے وکلاء سے کہا کہ انہیں کیس کی فائل ابھی موصول ہوئی ہے اورابھی پڑھی بھی نہیں،اس لئے اسے پیر کے روز سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں،درخواست گزاروں کی طرف سے طاہر نصراللہ وڑائچ ایڈووکیٹ نے اعتراض اٹھایا کہ جسٹس فاروق حیدر ماضی میں چودھری برادران کے وکیل رہ چکے ہیں اس لئے اخلاقی طور پر انہیں یہ کیس نہیں سننا چاہیے،جس پر جسٹس سردار احمد نعیم نے کہا کہ اس معاملے کا فیصلہ سوموار کو کیا جائے گا،اس کے بعدفاضل بنچ نے کیس کی مزید سماعت 11مئی پر ملتوی کردی،بدھ کے روز دائر ہونے والی ان درخواستوں کو بوجوہ ارجنٹ کاز لسٹ میں شامل نہیں کیا جاسکاتھا،گزشتہ روز چیف جسٹس کی منظور ی کے بعد سپلیمنڑی کازلسٹ جاری کرکے انہیں مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدرپرمشتمل ڈویژن بنچ کو سماعت کیلئے تفویض کیا گیا،سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالہٰی اپنے وکلاء امجدپرویز اور صدرلاہورہائی کورٹ بارطاہر نصر اللہ وڑائچ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،مسلم لیگ (ق) کے رہنماکامل علی آغا بھی اس موقع پر موجود تھے،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ چیئرمین نیب نے ہمارے کے خلاف 19سال پرانے معاملے کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا جبکہ نیب نے 19سال قبل آمدنی سے زائد اثاثہ جات کی مکمل تحقیقات کیں مگر نیب کو کچھ حاصل نہیں ہواتھا،چیئرمین نیب کو 19سال پرانی اور بند کی جانے والی انکوائری دوبارہ کھولنے کا اختیار نہیں،درخواستوں میں چودھری خاندان کی پاکستان اور ملکی سیاست کے لئے خدمات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ان پر آج تک کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ ہمارا سیاسی خاندان ہے اور ہمیں سیاسی طور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے،بدقسمتی سے سیاستدانوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا نو آبادیاتی نظام کا ورثہ ہے،نیب کے کردار اور تحقیقات کے غلط انداز پر عدالتیں فیصلے بھی دے چکی ہیں،نیب سیاسی انجینئرنگ کرنے والاادارہ ہے،چودھری برادران کی جانب سے استدعا کی گئی ہے کہ نیب کی جانب سے19 برس پرانے آمدنی سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری دوبارہ کھولنے کے اقدام کوغیرقانونی قرار دیا جائے۔

اعتراض

مزید :

صفحہ آخر -