نظام عدل تباہ ہو چکا، دل سمیت کچھ چیزیں چرانے پر مقدمہ نہیں ہو تا: سپریم کورٹ

نظام عدل تباہ ہو چکا، دل سمیت کچھ چیزیں چرانے پر مقدمہ نہیں ہو تا: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ نے 2 کروڑ سے زائد رقم کے بوگس چیک دینے سے متعلق کیس میں ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔جسٹس قاضی امین نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ملک میں نظام عدل تقریباً پہلے ہی ختم ہو چکا ہے، کیا چیک کی بھی چوری ہوسکتی ہے؟ بعض چیزوں کو چرانے پر پرچہ نہیں ہوتا، جیسے دل چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا۔ گزشتہ ر وز چیک ڈس آنر کیس میں ملزم کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ فوجداری کیس میں ملزم کی گرفتاری لازمی ہے، گرفتاری نہ ہو تو نظام عدل ہی ختم ہو جائے گا۔ کیا چیک کی بھی چوری ہوسکتی ہے؟ ملزم کیسے دعویٰ کر سکتا ہے چیک چوری ہوئے؟انہوں نے کہا کہ پہلے چوری کی تعریف پڑھ لیں، بعض چیزیں چوری نہیں ہوسکتیں، جیسے کسی کا ایمان چوری نہیں ہو سکتا، چیک موو ایبل پراپرٹی میں نہیں آتا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ مدعی درخواست گزار کا بزنس پارٹنر تھا، اس نے چیک چوری کر کے جعلی چیک دینے کا جھوٹا مقدمہ کیا جس پر جسٹس قاضی امین نے کہا کہ آپ نے چیک پر دستخط کر کے تاریخ بھی لکھ رکھی تھی۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ آپ کا اکاؤنٹ 2017 میں بند ہوا جب کہ چیک پر 2019 کی تاریخ درج ہے، لگتا ہے درخواست گزار نے شرارت سے چیک جاری کیا۔جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ بعض چیزوں کو چرانے پر پرچہ نہیں ہوتا، جیسے دل چرانے پر مقدمہ نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کا قانون 1949 سے بہت واضح ہے۔ملزم ذوالفقار کے وکیل نے کہا کہ مقدمے میں 3 سال تک سزا ہو سکتی ہے، عدالت ضمانت منظور کرے، تفتیش میں تعاون کریں گے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کورونا وائرس کا خدشہ ہے اور عید بھی آ رہی ہے لہذا عدالت درخواست ضمانت منظور کرے۔سپریم کورٹ نے ذوالفقا ر احمد پر 2 کروڑ سے زائد رقم کے بوگس چیک دینے سے متعلق کیس میں ملزم کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست مسترد کر دی۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ آخر -