لاک ڈاؤن، پنجاب کو 23کھرب مالی نقصان،11لاکھ افراد بیروزگار، 54فیصد غربت بڑھنے کا خطرہ

لاک ڈاؤن، پنجاب کو 23کھرب مالی نقصان،11لاکھ افراد بیروزگار، 54فیصد غربت بڑھنے ...

  

لاہور(عامر بٹ سے) وزیر اعظم عمران خان کو کورونا اور لاک ڈوان کے نتیجے میں پیش کردہ رپورٹ میں ایشین ڈویلپمنٹ اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کے نئے ہو شربا ا عدادوشمار سامنے آگئے۔ تفصیلات کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن سے ہونیوالے نقصانات کا تخمینہ تیارکرلیاگیا۔پنجاب حکومت نے 23 کھرب کے نقصان کاخدشہ ظاہرکردیا،رپو ر ٹ پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو رپورٹ ارسال کر دی گئی، پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کو ارسال رپورٹ میں ایک کروڑ 12 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ رپورٹ ایشین ڈویلپمنٹ اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ کی انتظامیہ کی طرف سے ارسال کی گئی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں تین درجے کے لاک ڈاون ہو نے سے صوبائی معیشت کو ہونیوالے نقصان کے حوالے سے مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق مکمل لاک ڈاو ن کرنے سے 23، درمیانے درجے کے لاک ڈاون سے صوبائی معیشت کو 11 کھرب 10 کروڑ، جبکہ معمولی درجے کے لاک ڈاون سے صوبائی معیشت کو 1 کھرب 43 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔مکمل لاک ڈاون سے 1 کروڑ 12 لاکھ افراد، درمیانے درجے کے لاک ڈاون سے 90 لاکھ 30 ہزار جبکہ معمولی درجے کے لاک ڈاون سے 10 لاکھ 80 ہزار افراد کے بیروزگار ہونے کا اندیشہ ہے، نئی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں غربت بڑھنے کا اندیشہ 54فیصد، مکمل لاک ڈاون ہونے سے غربت 34.3 فیصد بڑھ سکتی ہے، درمیانے درجے کے لاک ڈاؤن سے غربت 19.9 فیصدجبکہ معمولی درجے کے لاک ڈاؤن سے غربت 9.4 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ اس سے پہلے پنجاب حکومت نے کورونا کے باعث 18 کھرب تک کے نقصان کا تخمینہ لگایا تھا۔

پنجاب نقصان خطرہ

مزید :

صفحہ آخر -