کورونا نے عام آدمی کا جینا محال کردیا، حکومتی دعوے دھرے کے دھرے

  کورونا نے عام آدمی کا جینا محال کردیا، حکومتی دعوے دھرے کے دھرے

  

کراچی(نمائندہ خصوصی)کرونا وائرس نے عام آدمی کا جینا محال کردیا۔حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،سندھ حکومت کی جانب سے کرونا ریلیف آرڈیننس گورنر سندھ کی ٹیبل پر دستخطوں کاانتظار کرنے لگا،نہ تو بجلی والوں نے بل معاف کئے نہ ہی گیس والوں نے معافی دی،سونے پہ سہاگہ کرایہ پر رہنے والے مالکان کی جانب سے کرایہ معافی کا انتظار کرنے لگے،لیکن مایوسی کے علاوہ کہیں سے کوئی ریلیف نہ ملا،تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے چند روز قبل عام شہریوں کو لاک ڈاون سے جس مصیبت کا سامنا ہے اسکے کسی حد تک تدارک کے لئے کرونا ریلیف آرڈیننس جاری کیا،پیپلز پارٹی کے رہنماء مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ ہم نے لوگوں کو رہلیف دینے کے لئے آرڈیننس جاری کیا لیکن گورنر سندھ جب تک دستخ نہیں کرینگے عمل درآمد ممکن نہیں ہے یعنی پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں جماعتیں عوام کو ریلیف دینے کے لئے رکاوٹ کا سہرا ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں کرونا ریلیف آرڈیننس میں بجلی،گیس،پانی کے علاوہ کرایہ دار کو کرایہ کی مد میں معافی اور چھوٹ دی گئی،آرڈیننس بن گیا لیکن عمل درآمد گورنر سندھ کے دستخط ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا،گورنر سندھ کرونا کی وجہ سے اپنے ہی گھر میں قرنطینہ میں چلے گئے،انکی واپسی پر ہی آرڈیننس قابل عمل ہوسکتا ہے،ایسی صورتحال میں عام آدمی کو نہ تو بجلی کے بلوں میں کوئی رعایت دی گئی نہ ہی گیس وپانی کے بلوں میں کوئی چھوٹ، بلکہ کرایہ پر رہنے والے افرادسے بیشترمالکان یہ کہہ کرپورا کرایہ وصول کررہے ہیں کہ حکومت کاہم سے کیا واسطہ حکومت نے ہمیں کیا ریلیف دیا ہے جو کرایہ معاف کیا جائے یا کم لیا جائے،ایک طرف حکومتی دعوے تو دوسری طرف عام آدمی کا لاک ڈاون میں زندہ رہنا مشکل بنتا جارہا ہے،،شہریوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہئے کہ ہمیں راشن یا نقد رقم نہ دیں کم ازکم زندہ رہنے کے لئے سرکاری ونیم سرکاری اداروں سے بل معاف کرائیں،مالکان کو پابند کیا جائے کہ وہ تین ماہ کا کرایہ وصول نہ کریں،حکم عدولی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -