تاریخی ورثے کو بچانے، محفوظ بنانے کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کا کام جاری

  تاریخی ورثے کو بچانے، محفوظ بنانے کیلئے محکمہ آثار قدیمہ کا کام جاری

  

کراچی (این این آئی) اٹھارویں ترمیم کے تحت چونسٹھ سال بعدمکلی بطور قومی ورثہ وفاق سے سندھ کو منتقل ہوا، وفاق کی غیر سنجیدہ پالیسیوں اور لاپرواہیوں سے پیدا ہونے والی تباہ کاریوں کو دیکھنے کے بعد محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات نے ہنگامی بنیادوں پر مکلی کے تاریخی ورثے کو بچانے اور محفوظ بنانے کیلئے کام کروائے ہیں۔ محکمہ سیاحت اور نوادرات ڈائریکٹر جنرل منظور کناسرو کے مطابق مکلی میں شاہی خاندانوں کے 80 سے زائد یادگار و مقبرے موجود ہیں۔یہ تاریخی مقامات ہمارے اباؤ اجدا د کی خدمات اور تاریخی تجربے کی بنیادی یادگاریں ہیں ان کے تحفظ سے ہم دنیا کو یہ بات باور کرانا چاہتے ہیں کہ ورثہ پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے۔ان کا مزید کہناتھا کہ محکمہ ثقافت، سیاحت اور نوادرات نے اس قومی ورثے کوبچانے کیلئے کوشاں ہے اگر اس بین الاقوامی شہرت یافتہ ورثے کا گزشتہ ادوار سے موازنہ کیا جائے تو متعدد کام کروائے گئے ہیں جس میں سر فہرست 35 مقبروں پر بحالی کا کام کیا گیا ہے اور 28مقبروں پر دروازوں کو نصب کیا گیا ہے۔ مکلی کے آرکیالوجیکل کنزرویٹر سرفراز نواز جتوئی کے مطابق مرزا باقی بیگ، مرزا طغرل بیگ،عیسی خان، دولہا دریا خان، ولی محمد، دیوان شرفاخان، میران بائی، لالی کا مقبرہ، غیرت خان، فردوس،جام جاٹی، قوث سلطانی، بارہ دری، مدرسہ اور تقریباً 21کے قریب گمنام مقبرے اور قبریں جن پر محکمہ آثار قدیمہ نے بحالی اور مرمت کا کام کروایاہیں اور ان کی اصل حالت بحال کرنے کی بھوپور کوشش کی ہے، اسکے علاوہ مقبروں پر کی جانے والا جا بجا چاکنگ کا خاتمی کیا گیاہے جگہ جگہ بورڈز آویزاں کیے گئے ہیں جن پر درست تاریخی معلومات کا اندارج کیا گیا ہے،جگہ جگہ ڈسٹ بن لگائے گئے ہیں،مقبروں کو جانچنے کے لئے کریکر مانیٹر یونٹ لگائے گئے ہیں، موسمی اسٹیشن قائم کیا گیاہے تاکہ بارشوں سورج کی تپش اور ہوا ے دباؤ کو مانیٹر کیا جاسکے اور سب سے بڑھ کر مکلی کا مکمل ماسٹر پلان ترتیب دیاگیا ہے۔ یہاں 10سے زائد مزارات ایسے ہیں جن پر میلے لگتے ہیں جو لوگوں کی آمدورفت کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں قبرستان کے اندر گاڑیوں کی آمدورفت کی وجہ سے نقصان کا بہت خدشہ تھا اس وجہ سے عام گاڑیاں اندر لانے کی ممانعت ہیں جبکہ محکمہ نوادرات نے تین گاڑیوں پر مشتمل شٹل سروس شروع کی ہے جو0 15فی کس کے حساب سے پورے قبرستان کا دورہ کراتی ہے۔تحقیق کیلئے آنیوالوں کیلئے یہاں پر ایک گیسٹ ہاؤس بھی بنایاگیا ہے جو بین الاقوامی محققین کیلئے فری ہے۔حفاظتی انتظامات کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مکلی کو قبضہ مافیا اور جانوروں سے بچانے کے لیے چاروں طرف سے دیوار بنائی جا رہی ہے جو تقریبا 90 فیصد مکمل ہوچکی ہے اور دوسری طرف 24 گھنٹے مقبروں پر نظر رکھنے کے لئے چوکیداروں کوموٹرسائیکلیں دی گئی ہیں جو راؤنڈ دا کلاک گھومتے رہتے ہیں۔ سیاحوں کو معلومات دینے کے لئے بڑی ایس ایم ڈی لگائی جارہی ہے۔ مقبروں کو رات کو روشن رکھنے کے لئے اسپاٹ لائٹس لگائی جارہی ہے۔ مکلی میں نئی تدفین پر 144 قانون لگا کر بلکل بند کردیا گیا ہے مکلی کے نزدیک نیاں قبرستان بنایا گیا ہے جو مکلی کے قرب وجوار کے لوگ وہاں تدفین کرسکے۔ محکمہ سیاحت و نوادرات ڈائریکٹر جنرل منظور کناسرو کا مزید کہناتھا کہ قومی ورثے کو نقصان پہنچانے، بدصورتی پیدا کرنے، خطرے سے دوچار کرنے یا یہاں پر تعمیرات کرنے کے عمل پر سندھ کلچرل ہیریٹیج پریزرویشن ایکٹ 1994کی دفعہ18کے تحت غیر قانونی اور قابل سزا عمل ہے جس پر ہر حال میں عمل کیا جائے گا۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -