احساس کفالت پروگرام‘ مستحقین کیلئے امداد کا حصول خواب بن گیا

  احساس کفالت پروگرام‘ مستحقین کیلئے امداد کا حصول خواب بن گیا

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)حکومت کی جانب سے کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہونے والے غریب،مزدور،دیہاڑی دار مستحق بیوہ غریب خواتین کو ”احساس کفالت پروگرام“کے تحت دی جانے والی امداد غریبوں کیلئے مذاق بن کر رہ گئی ہے، لو گ کیش(بقیہ نمبر12صفحہ6پر)

وصولی سنٹر میں جاتے ہیں تو وہاں ان سے کہا جا رہاہے کہ آپ کی رقم ابھی ٹرانسفر نہیں ہوئی ہے، آپ 2دن بعد آئیں، بعض لوگوں کے فنگر پرنٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کے فنگر پرنٹس آ نہیں رہے یا پھر میچ نہیں کر رہے ہیں جبکہ فوت شدگان کی وارثان کو رقم کی منتقلی کیلئے ڈیتھ سرٹیفیکٹ کیلئے کہا جا رہا ہے جس پر سینکڑوں مردو بزرگ خواتین نادرا سنٹر اور کفالت سنٹر کے چکرکاٹنے لگیں، اس حوالے سے شہریوں نے کہا کہ رقوم کی وصولی کیلئے انہیں 15اپریل سے8171 سے ایس ایم ایس موصول ہو چکے ہیں،جب وہ کیش وصولی سنٹر میں جاتے ہیں تو وہاں ان سے کہا جا تا ہے کہ آپ کی رقم ابھی ٹرانسفر نہیں ہوئی ہے،2روز بعد آنا وہ کئی روز سے چکر کاٹ رہے ہیں،انہوں نے کہا کہحکومت نے احساس کفالت پروگرام سے رقم لینے والوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے نادرا دفاتر تو کھلوا دئیے، مگر جو لوگ فوت شدگان ہیں اور ان کے پیسے بھی آئے ہوئے ہیں ان کے وارثان کو رقم کی منتقلی کیلئے ڈیتھ سرٹیفیکٹ لازمی قرار دیا گیا ہے، جب بیچارے غریب لوگ ڈیتھ سرٹیفیکٹ لینے یونین کونسل جاتے ہیں تو ان کا یونین کونسل کی طرف سے ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری نہیں کیا جاتا کیونکہ حکومت نے تمام یونین کونسلز ختم کرکے تمام سیکرٹریز کو فی الحال کام کرنے سے روک دیا ہے، غریب کی مشکلات ویسے کی ویسے ہی ہیں،انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کہ غریبوں کا مذاق نہ بنائیں اور”احساس کفالت پروگرام“کے تحت رقم کے حصول کیلئے غریبوں کی تمام مشکلات حل کریں۔

خواب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -