15رمضان المبارک یتیم بچوں کا دن

15رمضان المبارک یتیم بچوں کا دن
 15رمضان المبارک یتیم بچوں کا دن

  

نیکیوں کے موسم ِ بہار رمضان المبارک کی لوٹ سیل عروج پر ہے یہ وہ مبارک دن ہیں جب نفلی عبادت کا ثواب فرضوں کے برابر اور فرض کا ثواب70فرضوں سے لے کر700 فرضوں تک دیا جا رہا ہے۔ رمضان المبارک اس لحاظ سے بھی انفرادیت کا حامل ہے اس میں شیطان کو پابند ِ سلاسل کر دیا جاتا ہے، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور جنت الفردوس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔اُمت مسلمہ اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہے اللہ نے روزے رکھنے والوں کے لئے جنت الفردوس میں داخلے کا علیحدہ دروازہ بنا دیا ہے اور روزہ داروں کو خوشخبری دی گئی ہے۔ آپ جنت کے دروازے ریان کے ذریعے بغیر کسی رکاوٹ کے داخل ہو سکیں گے، روزہ واحد ایسی نیکی ہے جس کے حوالے سے اللہ نے خود فرما دیا ہے۔ روزہ میرے لئے ہے اور مَیں ہی اس کی جزا دوں گا،روزے اور روزہ دار کی فضیلت اور اہمیت کا تذکرہ قرآن عظیم الشان میں متعدد بار آیا ہے اور سینکڑوں احادیث موجود ہیں، جس کے ذریعے روزہ دار کو جنت کی خوشخبری اور شفاعت ِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ملاقات خداوندی کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ قرآن عظیم الشان کے ساتھ ساتھ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلانے کی سب سے زیادہ فضیلت بتائی گئی ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے،لوگ سوال کرتے ہیں ہم کیا خرچ کریں، جواب دو کہ مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر رشتے داروں پر، یتیموں،مسکینوں اور مسافروں پر، جو بھی بھلائی تم کرو گے اللہ اس سے باخبر ہے۔

دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے، اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے، یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ سے چھپی نہ رہ سکے گی۔

نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو ساتھ ملا کر فرمایا:یتیم کی کفالت کرنے والا قیامت کے روز میرے ساتھ ایسے ہو گا۔قارئین کی آگاہی کے لئے عرض کوں گا اس وقت دُنیا بھر میں 15کروڑ سے زائد یتیم بچے ہیں جن میں سے ایشیا میں 6کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے موجود ہیں۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد 43لاکھ کے قریب ہے، یتیم بچوں میں بڑی تعداد ایسی ہے، جو تعلیم ترتیب، صحت اور خوراک جیسی سہولیات سے محروم ہے۔

دُنیا بھر میں یتیم بچوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان پہلے دس ممالک میں شامل ہے۔ دُنیا بھر میں سینکڑوں تنظیمیں یتیم بچوں کی کفالت، ان کی جسمانی،روحانی، تعلیمی استعداد بڑھانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ وطن ِ عزیز میں بھی د رجنوں ملکی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے یتیم بچوں کی کفالت اور فلاحی بہبود کی خدمات سرانجام دے رہی ہیں،مختلف ادارے اپنی اپنی جگہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

بڑی خوش آئند بات ہے رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں میں پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے اداروں نے یتیم بچوں کے مسائل اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داریوں کا شعور اُجاگر کرنے کے لئے پاکستان آرفن کیئر فورم قائم کیا ہے اور پاکستان آرفن کیئر فورم نے متفقہ طور پر ہر سال15رمضان کو یتیم بچوں کے نام کرتے ہوئے 15رمضان کو یوم یتامیٰ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان آرفن کیئر فورم میں الخدمت فاؤنڈیشن ہیلپنگ ہینڈ، مسلم ایڈ، اسلام ریلیف پاکستان،ہیومن اپیل، قطر چیرٹی ایڈ فاؤنڈیشن، غزالی ایجوکیش ٹرسٹ، تعمیر ملت فاؤنڈیشن، ایدھی ہومز، انجمن فیض الاسلام، صراط الجنت ٹرسٹ، جنیب فاؤنڈیشن، سویٹ ہومز فاؤنڈیشن آف دی فیتھ فل شامل ہیں۔

پاکستان آرفن کیئر فورم نے وطن ِ عزیز میں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح بہبود کے لئے کام کرنے والے دیگر اداروں کو بھی آفن فورم کا حصہ بننے کی دعوت دی ہے۔ دُنیا بھر کے اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی 15رمضان المبارک کو یوم یتامیٰ،”ہمارے بچے ہماری ذمہ داریاں“ کے طور پر منائے گا۔ پاکستان سینیٹ کے20مئی2016ء قومی اسمبلی کے29 مئی2018ء کی متفقہ قراردادوں کی روشنی میں 15رمضان المبارک کو سرکاری سطح پر یوم یتامیٰ کے طور پر منایا جائے گا۔ 15رمضان کو صدرِ پاکستان کی زیر صدارت ایوانِ صدر میں یوم یتامیٰ کی اہم تقریب ہونے جا رہی ہے جو بڑی خوش آئند بات ہے۔15رمضان کو پورا پاکستان اس عزم کا اظہار کرے، مسلم معاشرے کا ہر یتیم بچہ رنگ نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر اپنے ہی بچوں کی طرح ہمیں عزیز ہے۔15رمضان کو پوری پاکستان قوم یہ بھی عزم کرے گی، ہمارے معاشرے میں کوئی بھی یتیم بچہ بے سہارا نہ رہے۔ اہل ِ پاکستان کو یتیم بچوں کی کفالت کا سب سے بڑا پروگرام متعارف کرانے والی الخدمت فاؤنڈیشن نے 15رمضان کے لئے آج کے جمعتہ المبارک کے خطبے میں خطیب حضرات کو حقوق یتامیٰ کو اُجاگر کرنے کی درخواست کی ہے اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا کو 43لاکھ یتیم بچوں کی آواز بننے کی درخواست کی ہے۔

مَیں صحافت کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے لاک ڈاؤن میں کورونا کی وبا میں الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کاروں کی خدمات اور سوا ارب کی کثیر رقوم سے ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کی کفالت پر انہیں خراجِ تحسین پیش کر رہا تھا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے یتیم بچوں کے خاندانوں کی معاونت کے منصوبے اور یتیم بچوں کی پرورش کے لئے بنائے گئے گھروں کے منصوبے، آغوش سے آگہی حاصل کرنے کا موقع الخدمت فاؤنڈیشن ومن ونگ کے ذریعے ملا، الخدمت فاؤنڈیشن خواتین ونگ کی انچارج پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی کوششوں کو اللہ اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے جن کی مدد سے الخدمت فاؤنڈیشن کی یتیم بچوں کے کفالت پروگرام سے آگاہی ملی، الخدمت فاؤنڈیشن لاک ڈاؤن میں خدمت کا ریکارڈ بنا چکی ہے۔15مئی یوم یتامیٰ کے حوالے سے صدر الخدمت فاؤنڈیشن عبدالشکور کا پیغام بھی قوم کی آواز بن رہا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن نے یتیم بچوں کا سہارا بننے کے لئے خود کو تعلیم، خوراک، صحت اور دیگر ضروریات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ یتیم بچوں کی تربیت اور کردار سازی کا بیڑا بھی اٹھایا ہے۔ باہمت ماں، آغوش الخدمت سنٹرز کے پروگرام دیئے ہیں۔

اہلِ پاکستان گھر بیٹھے ہی یتیم بچوں کی کفالت کر سکتے ہیں اس کے لئے ایک بچہ 10ہزار ماہانہ اور ایک لاکھ20 ہزار سالانہ خرچ کرنے کا پروگرام دیا ہے۔ الخدمت کی انفرادیت ہے اس نے ہزاروں یتیم بچوں کی کفالت کے پروگرام کو شفاف انداز میں ترتیت دیا ہے، کسی سطح پر دو نمبری ممکن نہیں ہے۔ آن لائن کمپیوٹرائزڈ نظام نے الخدمت کے منصوبوں کو اور بابرکت بنا دیا ہے۔ دُنیا کی دوڑ میں الخدمت فاؤنڈیشن کا ساتھی بننے کا 15 رمضان بہترین دن ہے اس کا فائدہ اٹھانے کا سنہری موقع ہے۔رمضان المبارک میں الخدمت فاؤنڈیشن خواتین ونگ کے، عورت و بچہ کی فلاح بہبود کا منصوبہ، آسان نکاح کا منصوبہ، مراکز ناظرہ قرآن خواتین کی صحت، خواتین و بچہ کی تعلیم، خواتین روزگار سکیم، فیملی سپورٹ پروگرام کی معاونت بھی کی جا سکتی ہے۔ اللہ یتیم بچوں کا سہارا بننے والی تمام تنظیموں اور اداروں کی کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

مزید :

رائے -کالم -