گورنر سندھ نے سندھ حکومت کا کورونا ریلیف آرڈیننس مسترد کر کے واپس بھیج دیا

گورنر سندھ نے سندھ حکومت کا کورونا ریلیف آرڈیننس مسترد کر کے واپس بھیج دیا

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کورونا ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس مسترد کردیا اور اعتراض اٹھاتے ہوئے کہاہے کہ بجلی،گیس بل میں کمی اور کٹوتی یا رعایت صوبائی حکومت کا دائرہ اختیارنہیں، یہ دائرہ اختیار وفاق کا ہے۔گورنر سندھ نے سندھ حکومت کا کورونا ریلیف آرڈیننس 2020 مسترد کرکے سندھ حکومت کو واپس بھیج دیا۔گورنر ہاؤس کے مطابق گورنرسندھ نے ریلیف آرڈیننس پر اپنے تحفظات سے بھی سندھ حکومت کوآگاہ کر دیا ہے۔۔تفصیلات کے مطابق گورنرسندھ عمران اسماعیل نے کوروناایمرجنسی ریلیف آرڈیننس پراعتراضات لگادیئے، عمران اسماعیل نے کوروناایمرجنسی ریلیف آرڈیننس کی ذیلی شقوں پر اعتراض کیا۔گورنر سندھ نے اعتراض میں کہاکہ بجلی اور گیس بل میں کمی، کٹوتی یا رعایت صوبائی حکومت کا دائرہ اختیارنہیں، یہ دائرہ اختیاروفاق کاہے، بجلی،گیس کے بل میں کمی یارعایت وفاقی حکومت کااختیارہے، بجلی،گیس بل میں رعایت کاوفاقی حکومت پہلے ہی فیصلہ کرچکی ہے۔عمران اسماعیل نے کہاکہ ہرگزرتے دن کے ساتھ وفاقی حکومت ریلیف کاکام بڑھارہی ہے، آئین کے تحت بجلی،گیس کے معاملات وفاق کے کنٹرول میں ہیں، وفاق ملک بھرکے عوام بشمول سندھ میں ریلیف فراہم کررہاہے۔انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ریلیف سرگرمیوں کادائرہ بڑھایاجارہاہے، حکومت کسی خوف،امتیازی سلوک کے بغیر ریلیف کا کام جاری رکھے گی۔انہوں نے کہاکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002  کے تحت گیس بھی وفاقی معاملہ ہے۔یاد رہے سندھ کابینہ نے کوروناوائر س آرڈیننس کی منظوری دی تھی، آرڈیننس کے تحت کسی بھی ملازم کونوکری سے نکالانہیں جاسکتا اور پرائیویٹ سیکٹرمیں کام کرنے والے ملازم کو تنخواہ لازمی دینا ہوگی۔آرڈیننس کے مطابق اسکولوں کی فیس20فیصدمعاف کرنی ہوگی اور بجلی کے بلوں میں مرحلہ وار رعایت دینی ہوگی جبکہ گھروں کے کرایوں میں ہرصورت رعایت دینی ہوگی۔

مزید :

صفحہ اول -