تاجرون اور دکانداروں کے مسائل کے حل کیلئے جامع پالیسی ترتیب دی جائے: میئر کراچی

تاجرون اور دکانداروں کے مسائل کے حل کیلئے جامع پالیسی ترتیب دی جائے: میئر ...

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے تاجروں اور دکانداروں کے مسائل کے حل کے لیے جامع پالیسی ترتیب دی جائے۔ کراچی کی معاشی صورتحال پورے ملک پر اثر انداز ہوتی ہے اگر مسلسل لاک ڈاؤن رکھا گیا تو صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید خرابی کی طرف جائے گی اور ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہ بات انہوں نے تاجروں اور دکانداروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سینئر ڈائریکٹر کوآرڈی نیشن مسعود عالم، ڈائریکٹر اسٹیٹ عبدالقیوم او ردیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ میئر کراچی نے کہا کہ رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر کراچی میں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور تاجر اور چھوٹے دکاندار پورے سال اس ماہ مبارک کا انتظار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کی مسلسل بندش سے کراچی ہی کو نہیں بلکہ ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے حفاظت کے لیے قواعد و ضوابط بنائے جا سکتے ہیں اور اس پر عمل کرایا جا سکتا ہے۔ مارکیٹوں، شاپنگ مالز اور دکانوں کی مسلسل بندش سے معاشی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے لاکھوں افراد کو بیروزگاری کا سامنا ہے جس کے باعث ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلسل یہی صورتحال رہی تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔میئر کراچی نے کہا کہ دنیا بھر میں اب لاک ڈاؤن کو نرم کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایک تجارتی اور صنعتی شہر ہے اور اس کی صنعت اور تجارت کو مفلوج کیا جا رہا ہے جو اس شہر کے علاوہ ملک کے ساتھ بھی دشمنی کے مترادف ہے۔ میئر کراچی نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے بچاؤ کے لیے جو SOPجاری کی گئی ہے اس پر تمام تاجر اور دکاندار عمل کرنے کے لیے تیار ہیں تو پھر مارکیٹوں اور دکانوں کی مسلسل بندش سے کاروباری طبقے کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی بجائے معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے اور کاروبار کو کھولنے کے لیے مربوط پالیسی کا فوری اعلان کیا جائے جو زمینی حقائق پر مبنی ہو اور تاجروں اور دکانداروں کے لیے قابل قبول ہو۔ اس موقع پر وفد کے ارکان نے میئر کراچی کو بتایا کہ ان کا کاروبار گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے مسلسل بند ہے جس کے باعث وہ اپنے ملازمین کو آئندہ ماہ سے تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹوں کو جبراً بند کرایا جاتا ہے اور کسی بھی صورت کاروبار کو کھلنے نہیں دیا جا رہا۔ تاجروں اور دکانداروں نے کہا کہ انہیں جو بھی SOPدی جائے گی وہ اس پر عمل کرنے کو تیار ہیں۔ وفد کے ارکان نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جس طرح بینکوں،نادرا اور دیگر سرکاری دفاترکھولے گئے ہیں اسی طرح مارکیٹوں اور دکانوں کو بھی کھولا جا سکتا ہے۔ لیکن اسمال ٹریڈرز اور چھوٹے دکانداروں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے اور ہمارا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جب ہمارے گھروں میں فاقے ہوں گے تو ہم کس طرح اپنے ملازمین کو تنخواہیں ادا کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکڑانکس کی دکانوں میں آنے والے گاہکوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی اور بہت آسانی کے ساتھ کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اپنائے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ہارڈویئر، اسٹیشنری اور کتابوں کی دکانوں میں بھی آسانی کے ساتھ حکومت کے جاری کردہ احکامات پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ وہ تاجروں اور دکانداروں کے مطالبات کو تسلیم کرتے ہیں اور حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تاجروں اور دکانداروں کے تحفظات دور کرے اور مارکیٹیں اور دکانیں کھولنے کے سلسلے میں فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید :

صفحہ اول -