ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ہسپتالوں، نجی کلینکس کو کھولنے کا نوٹیفیکیشن مسترد

ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے ہسپتالوں، نجی کلینکس کو کھولنے کا نوٹیفیکیشن مسترد

  

 پشاور (سٹی رپورٹر)خیبر پختونخوا کے ینگ ڈاکٹرز نے ہیلتھ کئیر کمیشن کی جانب سے نجی کلینکس اور نجی ہسپتالوں کو کھولنے کے نوٹفکیشن کو مسترد کرتے ہوئے اسکو سر اسر نا مناسب قرار دیا جبکہ موقف اپنایا ہے کہ اس اقدام سے کورونا مزید پھیلے گا،حکومت تمام وسائل اور مشینری کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں SOPs کے مطابق او پی ڈیز نہیں چلا سکی اور سٹاف کو n95 ماسکس، ppe kits وافر مقدار میں مہیا نہیں کرسکی تو پرائیویٹ کلینکس محدود وسائل میں SOPs کیسے اپنائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹیفیکیشن کو جلد سے جلد واپس لے کر تمام پراؤیٹ کلینکس اور پراؤیٹ ہسپتالوں میں الیکٹیو سروسز فی الحال بند رکھی جائے تاکی کرونا وائرس ی روک تھام ممکن ہو سکیں ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے عہدیداران نے میڈیا کو بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں پہلے سے جگہ، ڈاکٹرز اور ائی سی یوز کم پڑ رہے ہیں، ایسے حالات میں نجی کلینکس اور ہسپتالوں کے کھولنا کرونا وائرس کے پھیلاو کو موقع دینے کے مترادف ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے انہوں نے بتایا کہ کرونا وباء کے پیش نظر لاک ڈاون کے فیصلے سے پیدا ہونے والے عوام اور مریضوں کے مشکلات سے بخوبی واقف ہیں جبکہ ہمارے معاشی حالات ایسے نہیں کہ عوام کو گھر کی دہلیز پر ریلیف مل سکیں لیکن کرونا پر قابو پانے کیلئے اس کیلئے کوئی دوسرا راستہ نہیں اور گھروں میں رہہ کر اور حفاظتی تدابیر اپنا کر ہی اس سے بچا جا سکتا ہے خیبر پختونخوا کے ینگ ڈاکٹرز نے مزید بتایا کہ کرونا پر قابو پانے کیلئے ہم نے حکومت کے ہر اچھے اقدام کو سراہا اور غلط اقدام پر تنقید بھی کی اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی انہوں نے کہا کہ اوپی ڈی سروس، پراؤیٹ کلینکس اور ہسپتال کی بندش کے فیصلے سے کرونا کو قابو کرنے میں کافی حد تک مدد ملی اسی لئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نجی کلینکس اور نجی ہسپتالوں کے کھولنے کا نوٹفیکیشن واپس لیا جائے اور نجی ہسپتالوں میں الیکٹیو سروسز تا حال بند رکھی جائے جبکہ عوام سے اپیل کی ہے کہ ضرورت کے بغیر گھروں سے باہر نہ نکلے اور کرونا کے خلاف تمام حفاظتی تدابیر اپنائیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -