صوابی،24 گھنٹوں کے دوران لاپتہ بچوں کی نعشیں برآمد

صوابی،24 گھنٹوں کے دوران لاپتہ بچوں کی نعشیں برآمد

  

صوابی(بیورورپورٹ) ضلع صوابی میں چوبیس گھنٹوں کے دوران لاپتہ ہونے والے دو بچوں کی لاشیں گر گئی۔ پولیس تھانہ پر مولی کی رپورٹ کے مطابق چار پانچ سالہ کمسن بچی وجیہہ دختر امین خان سکنہ سپین کانی بدھ کے روز دو بجے گھر سے نکل کر لاپتہ ہو چکی تھی جمعرات کی سہ پہر گاؤں کے ایک نالے سے بچی کی قتل شدہ لاش بر آمد ہوئی جسے نامعلوم ملزمان نے تشدد کے بعد لاش کو نالے میں پھینک دیا تھا۔ڈی پی او صوابی عمران شاہد نے میڈیا کو بتایا کہ مقتولہ بچی وجیہہ کا ڈی این اے سیمپل لے لیا ہے اور ٹیسٹ رپورٹ آنے کے بعد قتل کے وجوہات اصل حقائق سامنے آجائیں گے اور پولیس پوری سنجیدگی سے اس سفاکانہ کیس کی تفتیش کر رہی ہے دریں اثناء علاقہ کے عوام نے معصوم بچی پر تشدد اور بعد ازاں ان کو قتل کرنے کے خلاف شدید احتجاج کیا اور کہا کہ ویسے بے گناہ معصوم اور کمسن بچوں کی قتل عام شریعت اور پختون روایات کے خلاف ہے اور اسلام کسی صورت بے گناہ انسانوں کے قتل عام کی اجازت نہیں دیتا لیکن رمضان کے اس بابرکت مہینے کے دوران معصوم بچوں پر تشدد اور بعد ازاں انہیں قتل کرنا ایک سفاکانہ اور ظالمانہ اور دین اسلام کے خلاف عمل ہے۔ ادھر صوابی کے بنارس کالونی سے آڑھائی سالہ بچہ احسان ولد عمران جمعرات کے روز گھر سے لاپتہ ہو چکا تھا اور جمعرات کے روز بچے کی لاش بدری پل نالہ سے بر آمد ہوئی۔بتایا گیا ہے کہ متوفی بچہ دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل کھودنے کے لئے گیا تھا صوابی پولیس تفتیش کر رہی ہے کہ بچہ کھیل کے دوران پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوا ہے یا اسے کسی نے قتل کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -