عوامی اجتماعات، شادی بیاہ اور سماجی تقریبات کو بد ستور بند رکھنے کا فیصلہ

عوامی اجتماعات، شادی بیاہ اور سماجی تقریبات کو بد ستور بند رکھنے کا فیصلہ

  

پشاور(سٹاف رپورٹروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمو دخان نے ویڈیو لنک کے ذریعے جمعرات کے روز وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈنیشن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سطح پر کورونا کی تازہ ترین صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے علاوہ 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے چاروں صوبوں سمیت آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان حکومتوں کی تجاویز پر غور وخوض اور مشاورت کی گئی۔متعلقہ وفاقی وزراء اور سول عسکری اداروں کے متعلقہ حکام کے علاوہ دیگر صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی سرگرمیوں پر پڑنے والے اثرات خصوصاً معاشرے کے غریب طبقوں اور یومیہ اْجرت پر کام کرنے والے لوگوں کو درپیش معاشی مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے صوبائی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی طرف سے تجاویز اور سفارشات پیش کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت پہلے سے کھولی گئی تعمیراتی صنعت اور اس سے جڑی کاروبار کو مزید کھولنے، شہروں کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کو محدود پیمانے پر کھولنے، پہلے سے کھلی اشیائے ضروریہ کی دوکانوں کے علاوہ رمضان اور عید کی مناسبت سے بعض ضروری کاروبار، الگ تھلگ دکانوں اور گلی محلے کی دکانوں کو ایک مخصو ص اوقات کار کے تحت کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم ان کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں بین الاضلاع ٹرانسپورٹ کو ایس او پیز پر عمل درآمد کی صورت میں کھولنے کے سلسلے میں لائحہ عمل ترتیب دینے کیلئے ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مشاورت کی جائے گی۔اجلاس میں ملک میں لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کے سلسلے میں ہفتے کے دن سے اْن دوکانوں اور کاروبار کو مشروط طور پر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا جن پر وفاق کی تمام اکائیوں کا اتفاق تھا۔ اجلاس میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کو کھولنے کے حوالے سے بعض صوبوں کے تحفظات کے پیش نظر معاملے پر مزید مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں تعلیمی اداروں کو 15 جولائی تک بند رکھنے جبکہ بورڈ امتحانات اس سال منعقد نہ کرنے اور گزشتہ سال کے نتائج کی بنیاد پر طلبا ء کو اگلی کلاسوں میں ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں بڑی مارکیٹوں، شاپنگ مالز، سیاحتی مقامات، پارکوں، کھیلوں کی سرگرمیوں، عوامی اجتماعات، شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات کو بدستور بند رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

مزید :

صفحہ اول -